چشم تصور

سمیع اللہ ملک
ایک مجذوب درویش بارش کے پانی میں عشق ومستی میں مگن جارہاتھاکہ اس درویش نے ایک مٹھائی فروش کوایک کڑھائی میں گرماگرم دودھ اوردوسری کڑھائی میں گرماگرم جلیبیاں تیارکرتے دیکھا۔مجذوب شائدبھوک کے احساس سیکچھ لمحوں کیلئے وہاں رک گیا۔مجذوب کچھ کھاناچاہتاتھالیکن مجذوب کی جیب ہی نہیں تھی توپیسے بھلا کیاہوتے۔مجذوب چندلمحے بھٹی سے ہاتھ سینکنے کے بعدجاناہی چاہتاتھاکہ نیک دِل حلوائی نیایک پیالہ گرماگرم دودھ اورچند جلیبیاں مجذوب کوپیش کردِیں۔ مجذوب نے جلیبیاں گرماگرم دودھ کے ساتھ نوش کی اورپھرہاتھوں کوکندھوں سے اوپرتک اٹھاکرحلوائی کودعادیتاہواآگے چل دِیا۔مجذوب دنیاکے غموں سے بے پرواِک نئے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اڑاتاچلا جارہا تھا ۔وہ اِس بات سے بے خبرتھاکہ ایک نوجوان نوبیاہتاجوڑابھی بارِش کے پانی سے بچتابچاتااس کے پیچھے چلاآرہاہے۔یکبارگی اس مجذوب نے بارش کے گدلے پانی میں اِس زورسے لات رسیدکی کہ پانی اڑتاہواسیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کپڑوں کوبِھگوگیا۔اس نازنین کاقیمتی لِباس کیچڑسے لت پت ہوگیاتھا اس کے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی۔لِہذاوہ آستین چڑھاکرآگے بڑھااوراس مجذوب کوگریبان سے پکڑکربرابھلاکہ کہنے لگاکہ تیری حرکت کی سے میری مِحبوبہ کے کپڑے گیلے اورکیچڑسے بھرچکے ہیں۔مجذوب ہکابکا ساکھڑاتھاجبکہ اس نوجوان کومجذوب کاخاموش رِہناگِراں گزررہاتھا۔ عورت نے آگے بڑھ کرمجذوب کوچھڑوانابھی چاہالیکن نوجوان کی آنکھوں سے نِکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کرپیچھے کھسکنے پرمجبورہوگئی ۔
راہ چلتے راہ گیربھی بے حِسی سے یہ تمام منظردیکھ رہے تھے لیکن نوجوان کے غصے کودیکھ کرکِسی میں ہِمت نہ ہوئی کہ اسے روک پاتے اوربلآخرطاقت کے نشے سے چوراس نوجوان نے ایک زوردارتھپڑمجذوب کے چہرے پرجڑدِیابوڑھااورناتواں مجزوب تھپڑکی تاب نہ لاسکااورلڑکھڑاتاہواکیچڑمیں جاپڑا۔نوجوان نے جب مجذوب کونیچے گِرتادِیکھاتو مسکراتے ہوئے وہاں سے چل دیا۔بوڑھے مجذوب نے آسمان کی جانب نِگاہ اٹھائی اوراس کے لب سے نِکلا:واہ میرے مالک کبھی گرما گرم دودھ جلیبیوں کے ساتھ اورکبھی گرما گرم زناٹے دارتھپڑ،چل جِس میں توراضی مجھے بھی وہی پسندہے،یہ کہتاہوامجذوب ایک بار پھراپنے راستے پرچل دِیا۔دوسری جانب وہ نوجوان جوڑاجوانی کی مستی سے سرشاراپنی منزل کی طرف گامزن تھا تھوڑی ہی دورچلنے کے بعدوہ ایک مکان کے سامنے پہنچ کررک گئے وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نِکال کراپنی محبوبہ سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے بالا خانے کی سیڑھیاں طے کررہاتھا۔
بارش کے سبب سیڑھیوں پرپھلسن ہوگئی تھی،اچانک اس نوجوان کاپاؤں پھسلااوروہ سیڑھیوں سے نیچے گرگیا۔عورت زورزور سے شورمچا کرلوگوں کواپنے مِحبوب کی جانب متوجہ کرنے لگی جس کی وجہ سے کافی لوگ فورامددکے واسطے نوجوان کی جانب لپکے لیکن دیرہوچکی تھی۔نوجوان کا سر پھٹ چکاتھااوربہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہوچکی تھی۔کچھ لوگوں نے دورسے آتے مجذوب کودِیکھا توآپس میں چہ میگوئیاں ہونے لگیں کہ ضرور مجذوب نے تھپڑکھاکرنوجوان کیلئے بددعاکی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کاصرف چندسیڑھیوں سے گِرکرمرجانابڑے اچھنبے کی بات لگتی ہے۔چندمنچلے نوجوانوں نے یہ بات سن کرمجذوب کوگھیرلیا،ایک نوجوان کہنے لگاکہ آپ کیسے اللہ والے ہیں جو صِرف ایک تھپڑکی وجہ سے نوجوان کیلئے بددعاکربیٹھے،یہ اللہ والوں کی روِش توہرگزنہیں کہ ذراسی تکلیف پربھی صبرنہ کرسکیں۔
وہ مجذوب کہنے لگا:رب کی قسم میں نے اِس نوجوان کیلئے ہرگِزبددعانہیں کی!تبھی مجمعے میں سے کوئی پکارا،اگر آپ نے بددعانہیں کی توایساکڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گِرکرکیسے ہلاک ہوگیا؟تب اس مجذوب نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیاکہ کوئی اِس تمام واقعہ کاعینی گواہ موجودہے؟ایک نوجوان نے آگے بڑھ کرکہا،ہاں میں اِس تمام واقعہ کاعینی گواہ ہوں۔مجذوب نے اگلاسوال کیا،میرے قدموں سے جوکیچڑاچھلی تھی کیااس نے اِس نوجوان کے کپڑوں کوداغدارکیاتھا؟وہی نوجوان بولانہیں لیکن عورت کے کپڑے ضرور خراب ہوئے تھے۔مجذوب نے نوجوان کی بانہوں کوتھامتے ہوئے پوچھا،پھراِس نوجوان نے مجھے کیوں مارا؟نوجوان کہنے لگا،کیونکہ وہ نوجوان عورت اس کی محبوبہ تھی اوراس سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی اس کے کپڑوں کوگندہ کرے اس لئے اپنی معشوقہ کی جانب سے اس نوجوان نے آپ کومارا۔نوجوان کی بات سن کرمجذوب نے ایک نعر مستانہ بلندکیا اور یہ کہتاہواوہاں سے رخصت ہوگیا:پس اللہ کی قسم میں نے بددعاہرگزنہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جومجھ سے محبت رکھتاہے اوروہ اِتناطاقتورہے کہ دنیاکابڑے سے بڑابادشاہ بھی اس کے جبروت سے گھبراتاہے۔
قارئین!اس کہانی کے تناظرمیں آج پاکستان کے تمام مناظرکودہرائیں کہ ہمیں یہ معجزاتی ریاست ماہِ رمضان کی سب سے زیادہ قیمتی،مبارک اورمقدس شب کواس اوفوبالعہد پرعطا کی گئی کہ ہم اس ملک میں مکمل قرآن پرمبنی قانون نافذکریں گے۔ خطے کی سب سے بڑی ہجرت اوردس لاکھ عزیزترجانوں کی قربانیوں کے بعدیہ معجزاتی ریاست عطاکی گئی جہاں
ہم نے اللہ سے کئے گئے اس وعدے کی تکمیل کیلئے اللہ کے بندوں کوبندوں کی غلامی سے نکال کردوبارہ اللہ کی غلامی میں لاناتھا۔اس ارضِ وطن کی طرف ہجرت کرتے ہوئے مشرقی پنجاب کے سینکڑوں کنوئیں آج بھی پکاررہے ہیں جوہماری عفت مآب بیٹیوں کی لاشوں سے اٹ گئے جن کوبعدازاں انہیں کنوں کی خاک میں دفن کردیناپڑا۔ہزاروں بچیاں بیدردی کے ساتھ اغواکرلی گئیں جن کاآج تک سراغ نہ مل سکااوربعدازاں ایک ہندوستانی ہندوآئی ایس افسر’’کے ایل گابا ‘‘کواس معاملے کی تحقیق کاکام سپردکیاگیا تواس نے برملااپنی کتاب’’پیسووائس‘‘جس کااردوترجمہ’’مجبورآوازیں‘‘میں اس تمام لرزہ خیزواقعات کے چشم دید گواہوں کوسن کراس قدرمتاثرہواکہ اس نے اس دوقومی نظریہ کی اساس ’’اسلام‘‘ کاجب مطالعہ شروع کیاتوکنہیالال گابا سے خالد لطیف گابابن گیا۔
میں جب کبھی چشم تصورمیں ان شہداکے خون آلودکٹے پھٹے،ٹکڑوں میں تقسیم ان کے وجودکودیکھتاہوں تولرزجاتاہوں اور پاکستان کی موجودہ مشکلات کودیکھ کربے اختیارمجھے اس مجذوب کانعر مستانہ میرے کانوں میں ابلتے ہوئے سیسے کی طرح محسوس ہوتاہے کہ اللہ کی قسم میں نے بددعاہرگزنہیں کی تھی لیکن کوئی ہے جومجھ سے محبت رکھتاہے اوروہ اِتنا طاقتور ہے کہ دنیاکابڑے سے بڑابادشاہ بھی اس کے جبروت سے گھبراتاہے۔

Comments are closed.