استاذی الشفیق حضرت مولانا عبدالدیان رحمانی کا سجدہ کی حالت میں وصال
از: ڈاکٹر مفتی محمد عرفان عالم قاسمی
ایک محقق عالم دین، متبع سنت و شریعت،ایک مقبول معلم و مربی، قرآن پاک کے عمدہ مفسر،شعائردینیہ کے پاسبان، امانت و دیانت میں ہزاروں سے پیش رو استاذی الشفیق حضرت مولانا عبدالدیان صاحب رحمانی شہر بنگلور میں سجدہ کی حالت میں وفات پا گئے۔
اناللہ وانا الیہ راجعون
حضرت مولانا اخلاق عالیہ کے بلند مرتبے پر فائز تھے۔ آپ تصنع و تکلف سے دور، اپنے مقصد پر نظر رکھنے مخلص انسان تھے۔اللہ تعالیٰ حضرت کودرجات عالیہ نصیب فرمائے اور اپنے جوار رحمت میں جگہ عنایت فرمائے۔
حضرت مولانا جامعہ رحمانی میں تعلیم حاصل کی اور فراغت کے وہیں درس و تدریس کی خدمت بحسن وخوبی انجام دی، صادق و امین آپ کا وصف خاص تھا۔
اچانک اس طرح ایک مخلص، صادق وامین انسان کا انتقال کرجانا جامعہ رحمانی کے لئے بڑا حادثہ ہے جس کا نعم البدل جامعہ رحمانی کو ملنا مشکل نظر آرہا ہے۔دعا ہے کہ جامعہ رحمانی کو آپ کا بدل عطا فرمائے۔ آمین
حضرت مولانا عبدالدیان خان صاحب ہر کام میں وفادار تھے آپ نے کبھی کسی کام میں کوتاہی نہیں کی آپ کے اچانک انتقال کی خبر پاکر میں بہت غمگین ہوں بدن میں لرزہ طاری ہے۔حضرت سے ناچیز کو کلام پاک کا ترجمہ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔
حضرت مجھ سے بے پناہ محبت رکھتے تھے اس سال ختم بخاری شریف کی تقریب کے موقع سے جب حضرت کی نگاہ مجھ پر جامعہ رحمانی کی مسجد میں پڑی تو پاس بلاکر فرط محبت میں گلے لگا لیا۔پھر خیر خیریت دریافت کر کے پوچھنے لگے بھوپال سے دواوغیرہ لائیں ہیں کہ نہیں میں نے جب نفی میں جواب دیا تو فرمانے لگے کہ ادھر کچھ دنوں سے میرے شانے میں سخت تکلیف ہے۔میں نے عرض کیا حضرت شوگر کی زیادتی کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے ایسے آپ ہارٹ کا چیک اپ کروالیں۔ حضرت نے فرمایا فی الحال آپ درد کے لیے کوئی دوائی لکھ دیں۔
اس کے بعد حضرت میرے بیٹے محمد عباد الرحمٰن کے بارے میں بتانے لگے کہ میں ان کو ہر اتوار کو قرآنی مجلس میں لے جاتا ہوں اور ان سے ہی قرآن مجید کی تلاوت کرواتا ہوں دراصل مونگیر شہر میں برسوں پہلے شیخ الحدیث حضرت مولانا شمش الحق صاحب رحمتہ اللہ علیہ ہر اتوار کو بعد نماز عصر ترجمہ وتفسیر کا سلسلہ شروع فرمایا تھا وہ آج تک جاری ہے
آج کل حضرت مولانا عبد الدیان صاحب تفسیر بیان فرماتے تھے۔ استاذ محترم مفتی عارف علیہ الرحمہ کے وصال کے بعد آپ کو جامعہ رحمانی کا ناظم تعلیمات منتخب کیا گیا تھا مولانا تاحال اس خدمت کو بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے۔
کل بروز بدھ صبح ٦ بجے مولانا کی جسد خاکی کو بذریعہ فلائٹ بنگلور سے دربھنگہ لایا جائے گا پھر یہاں سے ان کے آبائی وطن سیٹن آباد ضلع سہرسہ میں سپردخاک کیا جائے گا۔استاذمحترم ہم سے جدا ہوگئے ساتھ ہی ان کی ذہانت،کام کے تئیں خلوص، دردمندی اور جامعہ رحمانی اور وہاں کے طلبہ کے لیے توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین
Comments are closed.