نمونۂ اسلاف تھے حضرت‌ مولانا سید محمد رابع ندوی رحمہ اللہ

 

شمشیرحیدر قاسمی

خادم جامعہ رحمانی ، خانقاہ مونگیر

 

۲۱ رمضان المبارک ۱۴۴۴ھ مطابق ۱۳ اپریل ۲۰۲۳ ء روز جمعرات بعد نماز ظہر مختلف ذرائع ابلاغ سے ہر طرف یہ اندوہناک خبر گشت کرنے لگی کہ عالم اسلام کی معروف شخصیت ، اسلامیان ہند کے مخلص رہنما، اسلامی علوم و معارف کا ماہر عالم‌ دین ، زبان و قلم کا بے تاج بادشاہ ، ملی قیادت و سیادت کا دوراندیش مرد آہنگ ، درس و تدریس کا مقبول ترین استاذ، انتظامی امور کے بہت بڑے ماہر ، نمونۂ اسلاف ، شیخ طریقت حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی و ندوی نے اس دار فانی کو الوداع کہا، اور مالک حقیقی کی رحمتوں کے پاکیزہ اور خوبصورت چھاؤں کو بطور آرام گاہ اختیار کرلیا، انا للہ واناالیہ راجعون ، اس افسوس ناک خبر سے اہل علم کے حلقے میں کہرام مچ گیا، ایسا محسوس ہونے لگا کہ غموں اور صدموں کا ایک کوہ گراں ٹوٹ پڑا، مصائب وآلام نے ہر سمت سے ملت اسلامیہ کو گھیرلیا، تعلیمی ادارے ، ملی تنظمیں، ادبی محفلیں ، ریسرچ سنٹرز اور اصلاحی مجلسیں سب کے سب سونی ہوگئیں ، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے درودیوار سے حسرتیں ٹپکنے لگیں، مسلم پرسنل لاء بورڈ کی کرسی قیادت سکتے میں چلی گئی،

اناللہ وانا الیہ راجعون ، ان لہ مااخذ وان لہ ما أعطی و کل شئی عندہ باجل مسمی ،

حضرت مولانا سید محمد رابع ندوی رحمہ اللہ مجمع الکمالات تھے ان کا انتقال تنہا ایک فرد کا انتقال نہیں ہے بلکہ ان کے انتقال سے علم و معرفت اور فضل وکمال کا ایک وسیع باب ہم سے ہمیشہ کے لئے مستور ہوگیا، انشاء و تحقیق کا ایک خوبصورت سوتا‌ سدا کے لئے بند ہوگیا، اصلاح و تربیت کا ایک عظیم سلسلہ منقطع ہوگیا، انتظام و انصرام کا ایک نرالا انداز ابدی طور پر ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگیا، میدان سیادت و قیادت ایک قابل افتخار مسندنشیں سے خالی ہوگیا، درس و تدریس کا ایک باوقارمسند ہمیشہ کےلئےسونا پرگیا، تصنیف و تالیف کا ایک قلم سیال ٹوٹ گیا، اور نگاہوں کے سامنے جو منظر اس وقت ہے ، اس کی عکاسی مرحوم شورش کاشمیری کے اس شعر سے ہوتی ہے جو انھوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کے انتقال پر کہا تھا کہ ،

 

زمین کی رونق چلی گئی ہے، اُفق پہ مہر مبین نہیں

تری جدائی سے مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں،

 

یہ دور، قحط الرجال کا ہے، علمی شخصیات ایک ایک کرکے رخصت ہورہے ہیں، قوم و ملت مخلص قیادتوں سے محروم ہوتی چلی جارہی ہے، ہر چہار جانب سے تاریک بڑھ رہی ہے، وہ نفوس جن سے روشنی کی امیدیں وابستہ تھیں وہ بڑی تیزی سے ياايتهالنفس المطمئنة، ارجعي ربك راضية مرضية، فادخلي في عبادي وادخلي في جنتي، کی رحمانی آواز پر لبیک کہتے چلے جارہے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ یہ نبوی ارشاداتِ(علی صاحبہا‌ الصلاۃ والسلام) متنوع خدشات و تشویشات کے ساتھ ذہن کے دریچے پر گردش کرنے لگے ہیں کہ :

 

عَنْ مِرْدَاسٍ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : ” يَذْهَبُ الصَّالِحُونَ، الْأَوَّلُ فَالْأَوَّلُ، وَيَبْقَى حُفَالَةٌ كَحُفَالَةِ الشَّعِيرِ – أَوِ التَّمْرِ – لَا يُبَالِيهِمُ اللَّهُ بَالَةً ". قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ : يُقَالُ : حُفَالَةٌ وَحُثَالَةٌ.

”نیک لوگ یکے بعد دیگرے گزر جائیں گے اس کے بعد جَو کہ بھوسے یا کھجور کے کچرے کی طرح کچھ لوگ دنیا میں رہ جائیں گے جن کی اللہ پاک کو کچھ ذرا بھی پروا نہ ہوگی۔ “( صحيح البخاري كِتَابٌ : الرِّقَاقُ | بَابُ ذَهَابِ الصَّالِحِينَ. رقم الحديث 6434)

 

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : ” إِنَّ اللَّهَ لَا يَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا يَنْتَزِعُهُ مِنَ الْعِبَادِ، وَلَكِنْ يَقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَاءِ، حَتَّى إِذَا لَمْ يُبْقِ عَالِمًا اتَّخَذَ النَّاسُ رُءُوسًا جُهَّالًا، فَسُئِلُوا فَأَفْتَوْا بِغَيْرِ عِلْمٍ، فَضَلُّوا وَأَضَلُّوا ”

حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاصؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا آپﷺ فرماتے تھے کہ اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھا لے گا کہ اس کو بندوں سے چھین لے۔ بلکہ وہ(پختہ کار) علماء کو موت دے کر علم کو اٹھائے گا۔ حتیٰ کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو سردار بنالیں گے، ان سے سوالات کیے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے جواب دیں گے۔ اس لیے خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ “(صحیح البخاري ،كِتَابٌ : الْعِلْمُ | بَابٌ : كَيْفَ يُقْبَضُ الْعِلْمُ ، رقم الحديث 100)

 

جو بادہ کش تھے پرانے،وہ اٹھتےجاتے ہیں،

کہیں سے آب بقائے دوام لے ساقی

 

کٹي ہے رات تو ہنگامہ گستري ميں تري

سحر قريب ہے، اللہ کا نام لے ساقي!

 

حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ عظیم الشان خانوادے کا عظیم المرتبت فرد تھے، ان کی نشؤ و نما، پروش و پرداخت ، تعلیم و تربیت ایسے پاکیزہ آغوش ، دینی ماحول اور علمی فضا میں ہوئی جہاں کا ہر فرد عمدہ اخلاق، اعلی کردار ، علمی ذوق اور دعوتی مزاج کا حامل ہوتا‌ چلا آرہا ہے، جن کے اسلاف کے علمی کارنامے عرب و عجم ہر ایک کے لئے قابل رشک ہیں، جن کا علمی تفوق ،دینی تصلب و دعوتی مزاج و‌مذاق کا چرچہ پوری دنیا میں ہے، حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمہ اللہ اپنے ان اکابر واسلاف کے دینی ، علمی ،تصنیفی، دعوتی اور اصلاحی امانتوں کے سچے امین ،پاسبان اور ترجمان تھے،

 

کیا لوگ تھے جو راہِ وفا سے گذر گئے

جی چاہتا ہے نقشِ قدم چومتے چلیں

Comments are closed.