جامعہ رحمانی مونگیر کے ناظم تعلیمات مولانا عبد الدیان صاحب رحمانی کا سجدہ کی حالت میں وصال خدا کا انعام ہے
حافظ محمد امتیاز رحمانی
جامعہ رحمانی مونگیر کے استاد حدیث اور ناظم تعلیمات مولانا عبد الدیان صاحب رحمانی آج مختصر علالت کے بعد نمازِ جمعہ کے وقت دارالعلوم سپیل الرشاد بنگلور میں انتقال کرگئے انا للہ وانا الیہ رجعون ۔
انکے جنازہ کی نماز کل 15/اپریل کو مولانا کے آبائی وطن سیٹن آباد سہرسہ میں دوپہر 3/بجے ادا کی جائے گی اور تدفین عمل میں آۓ گی انشاءاللہ ۔
مولانا برسوں سے جامعہ رحمانی مونگیر کی مالی فراہمی کے لیے بنگلور کے سفر پر جاتے اور یہ خدمت خوشدلی کے ساتھ انجام دیتے ۔مولانا کی ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں میں ہوئی پھر جامعہ رحمانی مونگیر میں داخل ہوئے اور 1985 میں فراغت حاصل کی حضرت امیر شریعت مولانا منت اللہ صاحب رحمانی کی ہدایت اور اپنے مربی استاد حضرت مولانا محمد طاہر صاحب قاسمی کے مشورے سے ایک سال تربیت میں رہے پھر ابتدائی درجات کی تعلیم سے جامعہ رحمانی مونگیر میں تدریس خدمات کا آغاز ہوا حضرت مولانا مفتی محمد عارف صاحب کے وصال کے وقت جب ہم لوگ انکے جنازہ کے ساتھ اساتذہ طلبہ اور کارکنان کے ساتھ سوپول جارہے تھے تو میں نے مولانا عبد الدیان صاحب سے گزارش کی کہ ناظم تعلیمات کی زمہ داری عارضی طور پر قبول کر یں پھر میں نے مرشدِ گرامی حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی صاحب رحمانی رحمۃ اللہ علیہ کو مطلع کیا کہ انتظام ابھی کردیا ہے اؤر مولانا خالد صاحب رحمانی نائب ناظم تعلیمات ہمارے ساتھ جارہے ہیں جب حضرت صاحب رحمۃ االلہ علیہ مونگیر تشریف لائیں تو انہوں نے مولانا کو ناظم تعلیمات منتخب کردیا ۔اسوقت سے تاحیات مولانا اس منصب پر فائز رہے ۔حضرت کے وصال کے بعد ۔موجودہ سرپرست سے گزارش کرکے انہوں نے دور حدیث کی ایک گھنٹی لی اور دوسال تک طلبہ دور ہ حدیث ان سے استفادہ کیا ۔
جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا سترھواں اجلاس خانقاہ رحمانی مونگیر میں منعقدہ ہورہاہے تھا تو حضرت مولانا صغیر احمد صاحب رحمانی مجلس استقبالیہ کے سکریٹری بنے تو مولانا عبد الدیان صاحب کو آفس سکریٹری بنایا گیا الحمدللہ انہوں نے اس موقع پر بزرگوں کی ہدایت پر بہت بہتر خدمات انجام دی جامعہ رحمانی مونگیر کے مختلف کاموں میں حصہ لینے والے لوگوں میں مولانا ایک تھے جنہیں جب جو زمہ داریاں دیجا تی وہ خوشی سے قبول کیا کرتے۔
مولانا باجماعت نماز پڑھنے والوں میں رہے ہیں میں نے شروع سے دیکھا ہے کہ خانقاہ رحمانی مونگیر کی مسجد میں وقت بر تشریف لائے اور جماعت سے نماز پڑھنے کا اہتمام بھی کرتے ۔اللہ تعالیٰ نے ماہ رمضان المبارک میں سجدہ کی حالت میں اپنے دربار میں حاضر ہوئے کا موقع دیا ۔اللہ تعالیٰ مولانا عبد الدیان صاحب رحمانی کے اگلے تمام مراحل کو آسان فرمائے آمین ۔ مولانا حضرت مولانا شمش الحق صاحب سیخ الحدیث جامعہ رحمانی مونگیر کے بعد مونگیر میں نصف صدی سے چلنے والی دینی مجلس قرآنی مجلس کے سربراہ بناۓ گۓ اور پابندی کے ساتھ ہر اتوار کو بعد نمازِ عصر اس میں شرکت کیلئے تشریف لے جاتے اور ترجمہ وتفسیر بیان کیا کرتے ۔ادھر چند سالوں سے پہلے پارہ سے تفسیر شروع کیا تھا اور چھٹے پارہ تک فروری 2023میں تھے ۔انکے بعض مضامین بھی منظر عام پر آیا کرتے تھے ۔
کچھ دنوں قبل قرآنی مجلس میں شرکت کے لیے جانے کے دوران انہوں نے بتایا کہ میں قرآن مجید کی مختصر تفسیر لکھنے کا اہتمام کیا ہے دعا کیجیے آسان ہو جائے ۔سفر حج کا بہت شوق تھا جب میں اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ حج کے سفر پر جانے والا تھا تو میرے کمرے میں تشریف لائے اور رونے لگے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت صاحب کے ساتھ بھی حرمین شریفین جانے کا موقع دیا اور اب والدہ کے ساتھ جارہے ہیں ۔میری بھی حاضری کی دعا کیجیے گا اور والد ہ سے کرنے کی درخواست کیجیے گا ۔آپ اپنی جماعت میں بہت خوش قسمت ہیں کہ کم عمری میں اللہ تعالیٰ نے یہ موقع دیا ہے۔ الحمدللہ 2022میں مولانا اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ حج کا سفر کیا اور عافیت سے واپس تشریف لائے ۔
میں بھی سفر پر تھا مگر اب لو ٹ رہا ہوں آپ حضرات سے دعا کی درخواست ہے کہ جنازہ میں شرکت کرنے کی سعادت حاصل ہو جائے ۔ بس پر یہ مختصر سی تحریر قلم بند ہوسکی انتظار کیجئے اگلے تحریر کا
غم زدہ
محمد امتیاز رحمانی
Comments are closed.