جامعہ رحمانی اپنے ایک مخلص فرزند سے محروم ہوگیا
احساسات قلب ! شمشیرحیدر قاسمی
خادم جامعہ رحمانی ، خانقاہ مونگیر
بلا کی چمک اس کے چہرہ پہ تھی
مجھے کیا خبر تھی کہ مر جائے گا
حضرت مرشد ملت کی رحلت پر ابھی اشکباری جاری ہی تھی کہ جامعہ رحمانی کے مؤقر استاذ و ناظم تعلیمات حضرت مولانا عبد الدیان صاحب رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات کی خبر دلفگار نے قلب و جگر کو پارہ پارہ کردیا، آج پورا جامعہ رحمانی سوگوار ہے، اس کا ذرہ ذرہ ماتم کناں ہے، جامعہ رحمانی کا ہر فرد صدموں سے نڈھال ہے، اس لئے کہ آج جامعہ رحمانی اپنے ایک قابل ، محنتی، متحرک ، فعال ،سنجیدہ مزاج، نیک طبیعت اور مخلص فرزند سے محروم ہوگیا، فرشتہ اجل نے آغوش جامعہ سے ایک ایسے فرزند کو چھین لیا ، جو اپنے مادرعلمی جامعہ رحمانی کا نہایت ہی وفادار و خیرخواہ تھا، جن کے رگ و ریشے میں مادرعلمی کی محبت سرایت کئے ہوئی تھی، جو جامعہ کی تعمیر و ترقی کے لئے کی جانے والی تمام کوششوں میں منتظمین جامعہ کے شانہ بشانہ چلتے تھے، اور مفوضہ امور کو نہایت ہی بشاشت کے ساتھ انجام دیتے تھے، جو جامعہ کے نظامت تعلیمات کے مسند پر بیٹھ کر اساتذہ کے مقام و مرتبے کا مکمل خیال رکھتے تھے، طلبۂ جامعہ کے ساتھ ان کا سلوک ایک مشفق و شفیق باپ کے مانند تھا، نظامت تعلیمات کے عہدے نے کبھی ان کے اندر کسی استاذ کے بارےمیں کسی طرح کی تنگ نظری اور کسی تحقیری عنصر کو جنم نہیں دیا، وہ نرم مزاج ضرور تھے، مگر اپنی نرم مزاجی سے کسی کو غلط فائدہ اٹھانے کا موقع ہرگز نہیں دیتے تھے، کم گو تھے مگر بات بہت سیلقے سے کرتے تھے، ان کی تقریر مرتب ہوا کرتی تھی، وہ ایک بافیض استاذ تھے، سال گزشتہ اللہ تبارک و تعالی نے انھیں حج بیت اللہ کی سعادت بخشی، حج سے واپسی پر اساتذہ و طلبہ کو مدنی و مکی تبرکات سے نوازا ، وہ اذکار و وظائف اور تلاوت قرآن کا بڑے پابند تھے، فجر بعد روزانہ جامعہ کی مسجد میں طلبہ کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرتے تھے، عصر بعد تفریح اور چہل قدمی کے لئے نکلتے تو ایک لمبی سی تسبیح ہاتھ میں ہوتی ، جن کے دانوں کو انگلیوں سے الٹ پلٹ کرتے رہتے اور زبان ذکر سے تر ہوا کرتی تھی، مولانا مرحوم کو اپنے استاذ محترم حضرت مولانا عبدالسبحان صاحب زید مجدہم سے خاص لگاؤ تھا،عامطور پر عصر کے بعد ان کی مجلس میں تشریف لے جاتے اور عصرانے سے لطف اندوز ہوتے، فقیر زادہ عزیزی اسامہ حیدر سلمہ جس نے سال رواں جامعہ رحمانی سے فضلیت کی،سالانہ امتحان پاس کیا، کسی خاص ضرورت کے تحت انھیں سند کی سخت ضرورت تھی ،اس کے لئے ناظم تعلیمات کی تصدیق ضروری تھی، میں نے حضرت مولانا عبدالدیان صاحب سے اس کا تذکرہ کیا، انھوں نے یہ کہہ کر معذرت کرلی کہ اتنی جلدی میں یہ ممکن نہیں ہے، اس لئے کہ سب لوگ گھر کی تیاری میں ہیں ایسے میں رجسٹر نکالنا ، طالب علم کے سابقہ تمام ریکارڈ کا جائزہ لینا پھر تصدیق کرنا بہت ہی دشوار کن امر ہے، اس لئے عید سے پہلے یہ کام نہیں ہوسکے گا، مولانا کی یہ بات معقول اور اصولی تھی، مگر چوں کہ ضرورت ہی کچھ ایسی تھی جوسند کے بغیر پوری نہیں ہوسکتی تھی ، اس لئے میں چاہتا تھا کہ کسی طرح سے سند نکل جاتی تو بہتر ہوتا، خیر میں نے حضرت مولانا عبدالسبحان صاحب زید مجدہم سے فون کرکے کہا ، حضرت آپ مولانا کے استاذ ہیں ، آپ سفارش کردیں تو ممکن ہے مولانا تصدیق فرمادیں گے ، آگے کی کارروائی کے لئے ناظم جامعہ حضرت مولانا الحاج عارف صاحب دامت برکاتہم سے میں خود ہی درخواست کروں گا ، امید ہے کہ کام بن جائےگا، خیر حضرت مولاناعبدالسبحان صاحب نے فرمایا ، مولانا آپ کو معلوم ہی ہے وہ خان صاحب ہیں ، جو بولتے ہیں اس پر پختگی سے عمل کرتے ہیں، ویسے آپ کہہ رہے تو میں فون کردیتا ہوں ، تھوڑی ہی دیر کے بعد حضرت مولانا عبدالدیان صاحب کا فون آیا کہ میں دفتر میں ہوں، جلدی سے اسامہحیدر کو درخواست لیکر بھیجئے الخ غرض مولانا اصول کے پابند ہونے کے ساتھ حالات اور مصلحت پر بھی گہری نظر رکھتے تھے، جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر میں مولانا کی کمی ہر نشیب و فراز میں لمبے عرصہ تک محسوس کی جاتی رہے گی، ان کے محاسن یاد رکھے جائیں گے ، ان کی موت وہ بھی غریب الوطنی میں ہمارے دلوں کو کچوکے لگاتی رہی گی، ان کے اہل خانہ کے لئے بڑی آزمائش کی گھڑی ہے، ابھی ان لوگوں کو مولانا کے سہارے کی سخت ضرورت تھی، اللہ تبارک وتعالیٰ ان سب کا حامی و محافظ ہو، انھیں صبر ،ہمت اور حوصلہ عطافرمائے ، کل من علیہا فان ، ویبقی وجہ ربک ، ذو الجلال والاکرام ،
۲۲، رمضانالمبارک ۱۴۴۴ھ مطابق ۱۴ اپریل ۲۰۲۳ء
Comments are closed.