آہ ! علی ظفر فاروقی اتنی جلدی آپکو نہیں جانا تھا

عارف شجر، حیدرآباد( تلنگانہ)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جھارکھنڈاور بہار سے ایک ساتھ شائع ہونے والا اردو روزنامہ فاروقی تنظیم کے چیف ایڈیٹر و مالک علی ظفر فاروقی کا انتقال اردو دنیا کے لئے ایک بڑا خسارہ ہے۔یقینا ان کی رحلت سے اردو دنیا میںبالخصوص جھارکھنڈ اور بہار کے اردو حلقہ میں غم کا ماحول ہے۔میں علی ظفر فاروقی کو دو دہائی سے جانتا تھا، نہایت ہی سچے اور ملنسار انسان تھے وہ اپنے اندر ہمدردانہ اور مخلصانہ جذبہ رکھتے تھے۔ مجھے فخر ہے کہ میری صحافتی آغاز فاروقی تنظیم جیسے اردو اخبار سے ہوئی میں اس سے اس وقت سے جڑا ہوا تھا جب فاروقی تنظیم بلک ائنڈ واہائٹ دو صفحہ کا انجمن پلازہ مین روڈ جھارکھنڈسے ایک چھوٹے سے کمرے نکلتا تھا جو پٹنہ سے چھپ کر آتا تھا۔ ہماری بات علی ظفر سے گھنٹوں گھنٹوں ہوا کرتی تھی باتوں باتوں میں ایسی بھی بات کرتے تھے جو میرے دل کو چھو جایا کرتا تھا۔ انہوں نے مجھے جھارکھنڈ کا بشیر بدر لقب دیا تھا جو مجھے آج بھی یاد ہے۔ ان کی سر پرستی میں بہت کچھ سیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ قریب 15 سال تک میں نے فاروقی تنظیم کی بے لوث خدمت کرتا رہا وقت کا پہہیہ کچھ اس طرح بدلا کہ مجھے فاروقی تنظیم چھوڑ کر دہلی کا رخ کرنا پٹرا اور پھر اس کے بعد حیدرآباد آ گیا لیکن اس دوران ان سے میری گفتگو ہر موضوع پر برابر ہوتی رہی۔ کوویڈ آنے کے بعد سے ان سے بات نہیں ہو پا رہی تھی اور میری صحافتی مصروفیات بھی کچھ زیادہ ہی ہوگئی تھی جو ان سے بات نہ ہو سکی۔ جب انکی شدید بیمار ہونے کی خبر سینئر صحافی و فاروقی تنظیم کے ایڈیٹر خورشید پرویز صدیقی سے ملی تو میں نے فوراً انہیں فون لگایا یہ بس ایک ماہ قبل کی بات ہے انہوں نے فون پر جب میری آواز سنی تو انتہائی خوش ہوئے اور پھر انہوں نے اپنی روداد مجھے بتائی اور کہا کہ ابھی دو روز قبل ممبئی سے لوٹا ہوں ابھی فی الحال طبیعت تو ٹھیک ہے لیکن ڈاکٹر نے صلاح دی ہے کہ زیادہ فون استعمال نہ کریں۔ اس لئے میں بہت کم فون سے بات کرتا ہوں اور جب تمہارا فون آیا تو میں فون اٹھائے بغیر نہیں رہ سکا۔علی ظفر فاروقی فون پر ہی محبت اکا اظہار کرتے تھے بلکہ میں جب بھی انکے رانچی رہائش پر گیا وہ والہانہ اور مخلصانہ طور سے مجھ سے ملے اور دیر تک گفتگو کرتے تھے پھر پوچھتے تھے تمہاری شاعری کیسی چل رہی ہے؟
ا س میں کوئی شک نہیں کہ علی ظفر فاروقی نے جھارکھنڈ میں اردو کو متعارف کرایا اور فاروقی تنظیم کا دائرہ وسیع کرنے میں سینئر صحافی خورشید پرویز صدیقی، صحافی مظفر حسن، منیجر حافظ صاحب اور اشتہار انچارج اجئے مشرا وغیرہ نے اہم رول ادا کیا جسکا ساتھ جھارکھنڈ کے اردو نواز حلقہ نے بھر پور دیا۔ انکی رحلت کی خبر سن کر میری آنکھوں میں آنسوں آگئے اور میرے منھ سے برجستہ یہی نکلا آہ ظفر صاحب آپکو ابھی نہیں جانا تھا کچھ دن اور ٹھہر جاتے تو اردو کا فروغ اور بھی ہوتا۔ اللہ انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ۔۔آمین

Comments are closed.