عتیق احمد کون تھے اور کیوں بدنام ہوئے؟

 

مظاہر حسین عماد قاسمی

قسط (1)

*جرم اس کا نہیں یہ کہ وہ ڈان تھا*
*جرم اس کا یہ ہے ، وہ مسلمان تھا*

*وہ غریبوں کا ہم درد ، ہم راز تھا*
*وہ مظلوم افراد کی جان تھا*
عماد عاقب

گذشتہ رات ہندوستانی جمہوریت کے لیے بڑی خطرناک رات تھی ، درجنوں میڈیا اور پولیس اہل کاروں کی موجودگی میں سابق ممبر لوک سبھا اور سابق ممبر اسمبلی جناب عتیق احمد اور سابق ممبر اسمبلی جناب خالد عظیم عرف اشرف کو تین نوجوانوں نے گولیوں سے بھون کر موت کے گھاٹ اتار دیا ،
اس گولی باری میں صرف جناب عتیق احمد اور جناب خالد عظیم عرف اشرف کا قتل نہیں ہوا ہے ، بلکہ اس گولی باری میں ہندوستانی جمہوریت لہو لہان ہوئی ہے ،

این ڈی ٹی وی کے رپورٹر نے بتایا کہ عتیق احمد کے قاتلوں کے پاس چھ چھ لاکھ کے پستول تھے ، کل اٹھارہ لاکھ کے تین پستول خریدنے کے لیے کس نے پیسے دیے ، یہ تینوں قاتل اتر پردیش کے تین اضلاع ہمیر پور ، باندہ اور کاس گنج کے ہیں ، قاتل لولیش تیواری باندہ کا ہے اور بائیس سال کا ہے ، دوسرا قاتل موہت ہمیر پور کا ہے ، اور تیئس سال کا ہے ، تیسرا قاتل ارن کمار موریہ کاس گنج کا ہے اور صرف اٹھارہ سال کا ہے ، ان تینوں نے بیس راؤنڈ فائر کیے ، مگر پولس نے ایک راؤنڈ بھی فائر نہیں کیا ،

*عتیق احمد کون تھے*
عتیق احمد دس اگست 1962 کو چکیا الہ آباد میں پیدا ہوئے تھے ، اور کل پندرہ اپریل 2023 کو ساٹھ سال نو ماہ پانچ دن کی عمر میں قتل کردیے گیے ، ان کے والد کا نام حاجی فیروز احمد تھا ، ان کو اللہ تعالی نے پانچ بیٹے عطا کیے ، چار بیٹے الحمد للّہ زندہ ہیں ، ان کے تیسرے بیٹے اسد کو دو دن قبل پولس انکاؤنٹر میں مار دیا گیا ہے ،
انکاؤنٹر کی ویڈیو تو وائرل نہیں ہوئی ہے ، مگر عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف کا قتل میڈیا اور پولیس اہل کاروں کی موجودگی میں جس ڈرامائی انداز میں ہوا ہے ، اس کی ویڈیو وائرل ہے ، اس قتل کے وقت کی پولس کی نا اہلی ، اور بزدلی کے مناظر دیکھنے کے بعد اب یہ سو فیصد یقین ہوگیا ہے کہ اسد کو جھوٹے انکاؤنٹر میں ہلاک کیا گیا ہے ،
عتیق احمد مرحوم کی اہلیہ مکمل پردے میں رہتی ہیں ، عتیق اور ان کے مرحوم بیٹے اسد کے وائرل بعض بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پورا خاندان بڑا دینی اور مذہبی ہے ،
عتیق احمد مرحوم اور ان کے بھائی اشرف مرحوم اور ان کے بیٹے اسد پر سابق ممبر اسمبلی راجو پال اور اس قتل کے گواہ امیش پال کے قتل کا الزام ہے ، اور یہ الزام ابھی تک ثابت نہیں ہوا ہے ، بقیہ الزامات ڈرانے ، دھمکانے اور بھتہ وصولی کے ہیں ،

*عتیق احمد کی سیاست اور الہ آباد ویسٹ اسمبلی حلقہ*
عتیق احمد سیاسی سوجھ بوجھ اور شعور والے آدمی تھے ، انہوں نے جناب حبیب احمد کے بعد الہ آباد ویسٹ میں مسلم سیاست کا پرچم لہرایا ، اور اس حلقے سے لگاتار پانچ بار کامیاب ہوئے ، اور ان ہی کامیابیوں نے ان کے سیاسی دشمن اور حاسدین پیدا کردیے جنہوں نے اپنی سازشوں کے جال میں ان کو پھنسا دیا ، یا ان کامیابیوں کے غرور نے عتیق احمد سے ایسے ایسے کام کروائے جن کی وجہ سے وہ مافیا ڈان کے طور پر مشہور ہوئے ، منظم جرائم پیشہ گروپ کو مافیا کہا جاتا ہے ،

ان کے مخالفین انہیں مافیا ڈان کہتے ہیں تو ان سے محبت کرنے والے انہیں نیک دل ، اور غریبوں اور مظلوموں کا مسیحا سمجھتے ہیں.

*جرم اس کا نہیں یہ کہ وہ ڈان تھا*
*جرم اس کا یہ ہے ، وہ مسلمان تھا*

*وہ غریبوں کا ہم درد ، ہم راز تھا*
*وہ مظلوم افراد کی جان تھا*

*ویسٹ الہ آباد اسمبلی کی سیاسی تاریخ*
انیس سو سڑسٹھ میں اس حلقے کی تشکیل کے بعد سے دو ہزار بائیس تک الہ آباد ویسٹ اسمبلی حلقے میں کل اٹھارہ انتخابات ہوئے ہیں ، پندرہ عام انتخابات اور تین ضمنی انتخابات ، ان میں سے سات عام انتخابات اور ایک ضمنی انتخاب میں مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ، دو بار حبیب احمد صاحب مرحوم ، پانچ بار عتیق احمد صاحب مرحوم اور ایک مرتبہ ضمنی انتخاب میں عتیق احمد صاحب مرحوم کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف صاحب مرحوم کامیاب ہوئے ہیں
اور پانچ عام انتخابات میں اور دو ضمنی انتخاب میں مسلم امیدوار دوسرے نمبر پر رہے ،
انیس سو چوہتر میں حبیب احمد صاحب صرف ایک سو چھہتر ووٹ سے ہارگئے اور دوسرے نمبر پر رہے ، انیس سو اناسی کے ضمنی انتخاب اور انیس سو اسی کے عام انتخابات میں محبوب احمد صاحب دوسرے نمبر پر رہے
انیس سو پچاسی کے عام انتخابات میں اکبر حسین دوسرے نمبر پر رہے ،
دو ہزار چار کے ضمنی انتخاب اور دو ہزار سات کے عام انتخابات میں خالد عظیم عرف اشرف صاحب دوسرے نمبر پر رہے تھے
دو ہزار بارہ کے عام انتخابات میں عتیق احمد صاحب بھی دوسرے نمبر پر رہے تھے ، اس انتخاب میں بہوجن سماج پارٹی کی امیدوار بتیس سالہ پوجا پال کو 71114 ووٹ ملے تھے ، اور انچاس سالہ عتیق احمد کو 62229 ووٹ ملے تھے ، 8885 ووٹوں سے عتیق احمد ہار گئے تھے ،
*اس بار عتیق احمد کے ہارنے کی دو اہم وجہیں تھیں*
1- دو ہزار چار میں عتیق احمد پھول پور لوک سبھا حلقے سے سماج وادی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے اور اس سے قبل وہ دو ہزار دو میں الہ آباد ویسٹ اسمبلی حلقے سے پانچویں بار منتخب ہوئے تھے ،الہ آباد ویسٹ اسمبلی حلقہ پھول پور اسمبلی کے تحت ہی ہے ، عتیق احمد نے اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا اور لوک سبھا کی سیٹ کو باقی رکھا ، ان کے استعفی کے بعد اس اسمبلی سیٹ پر دو ہزار چار میں انتخابات ہوئے اور پوجا پال کے شوہر راجو پال بہوجن سماج پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ، چند ماہ کے بعد ہی راجو پال کا قتل ہوگیا ، اور الزام عتیق اور اشرف برادران پر آگیا ، راجو پال کے قتل کے بعد دو ہزار پانچ میں ہوئے ضمنی انتخاب میں عتیق کے بھائی خالد عظیم عرف اشرف صاحب کامیاب ہوئے ،
دو ہزار سات کے عام انتخابات میں پوجا پال نے خالد عظیم کو ہرایا ،
دو ہزار پانچ میں پوجا پال کا مقابلہ کرنے کے لیے خود عتیق احمد نے اپنادل کے ٹکٹ پر پرچۂ نامزدگی بھرا ،
جیل میں رہنے کی وجہ سے وہ اپنا پرچار نہیں کرسکے اور پوجا پال کو ہمدردی کے ووٹ بھی ملے
2- دو ہزار آٹھ میں تمام اسمبلی اور پارلیمانی حلقوں کی تشکیل جدید ہوئی تھی ، اور اس اسمبلی حلقے کی بھی تشکیل جدید ہوئی تھی ، اور اب اس حلقے میں مسلمانوں اور عتیق کے چاہنے والوں کی تعداد کم ہوگئی تھی ،
کانگریسی سرکاروں کے متعصب افسران نے اپنی طاقت و قوت کا استعمال کر کے مسلمانوں کو منتشر رکھنے کی کوشش ہمیشہ کی ہے ، اگر ایک علاقے میں مسلمان زیادہ ہوں تو انہیں تین چار حلقوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے ،

*تمام انتخابات کی ضروری تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں*

*انیس سو سڑسٹھ کا انتخاب*
انیس سو سڑسٹھ میں انڈین نیشنل کانگریس کے چودھری نونہال سنگھ کامیاب ہوئے تھے اور دوسرے نمبر پر آزاد امیدوار بی بی سنگھ تھے ،چودھری نو نہال سنگھ کو 13603 ووٹ بی بی سنگھ کو 9578 ووٹ ملے تھے

*انیس سو انہتر کا انتخاب*
جناب حبیب احمد صاحب انیس سو انہتر میں بطور آزاد امیدوار کامیاب ہوئے تھے ، اور بھارتیہ جن سنگھ کے تیرتھ رام کوہلی دوسرے نمبر پر تھے ، اسی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اس نشست پر فرقہ پرستی کی جڑیں بہت مضبوط ہیں ،
آزاد امیدوار جناب حبیب احمد صاحب کو اٹھارہ ہزار انتیس ( 18029) ووٹ ملے تھے ،اور بھارتیہ جن سنگھ ( بھارتیہ جنتا پارٹی کی ماں ) کے امیدوار تیرتھ رام کوہلی کو تیرہ ہزار ایک سو اکیس (13121 ) ووٹ ملے تھے ، اس وقت عتیق احمد صرف سات سال کے تھے ، اور ان کے کانوں میں بھی بھارتیہ جن سنگھ کے متعلق منفی باتیں ضرور گئی ہوں گی ،

*انیس سو چوہتر کا انتخاب*
انیس سو چوہتر میں بھارتیہ جن سنگھ ( بھارتیہ جنتا پارٹی کی ماں ) کے تیرتھ رام کوہلی کامیاب ہوئے تھے ، اور سیٹنگ ممبر اسمبلی حبیب احمد صاحب ہار گئے تھے ،
تیرتھ رام کوہلی کو بیس ہزار سات سو اکتیس (20731 ) ووٹ ملے تھے ، اور بھارتیہ لوک دل کے امیدوار اور سیٹنگ ممبر اسمبلی حبیب احمد صاحب بیس ہزار پانچ سو پچپن( 20555) ووٹ ملے تھے ، حبیب احمد صاحب صرف ایک سو چھہتر (176) ووٹ سے ہار گئے تھے ،
کانگریس کے اے اے زیدی تیسرے نمبر پر تھے ، اور مسلم لیگ کے رئیس احمد انصاری چوتھے نمبر پر تھے ، اے اے زیدی کو دس ہزار تین سو بائیس اور رئیس احمد انصاری کو چار ہزار پانچ سو سترہ ووٹ ملے تھے ، تین مسلم امید واروں کی موجودگی کی وجہ سے حبیب احمد صاحب صرف ایک سو چھہتر (176) ووٹ سے ہار گئے تھے ،
جو حال آج مجلس اتحاد المسلمین کا ہے وہی حال کسی زمانے میں مسلم لیگ کا تھا ،

اس وقت عتیق احمد صرف بارہ سال کے تھے ، اور ان کے کانوں میں بھی بھارتیہ جن سنگھ کے متعلق منفی باتیں ضرور گئی ہوں گی ،
فرقہ پرستوں کی یہ پہلی کامیابی تھی ، انیس سو چوہتر کے بعد تینتالیس سال کے بعد دو ہزار سترہ اور دو ہزار بائیس میں فرقہ پرست پارٹی بھارتیہ جنتا پارٹی کے سدھارتھ ناتھ سنگھ کامیاب ہوئے ہیں ،
عتیق احمد صاحب کے خلاف سچے یا جھوٹے جو بھی الزامات ہیں ، اس کے پس منظر کو سمجھنے کے لیے ضلع الہ آباد کی خصوصا الہ آباد ویسٹ کی فرقہ پرست سیاست اور سیکولر سیاست کو سمجھنا ضروری ہے ،

*انیس سو ستہتر کا انتخاب*
حبیب احمد صاحب انیس سو ستہتر میں جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر انتخاب لڑا ، اور کامیاب ہوئے ، انڈین نیشنل کانگریس کے سنیت چندرا ویاس دوسرے نمبر پر تھے ، حبیب احمد صاحب کو پچیس ہزار تین سو پچیس (25325) ووٹ ملے تھے ، اور یہ ڈالے گئے کل ووٹوں کے ساٹھ فیصد سے زائد تھے ، کانگریس کے سنیت چندرا ویاس کو نو ہزار ایک سو چار (9104) ووٹ ملے تھے ،

*انیس سو ستہتر کے انتخابات* سے قبل اٹل بہاری واجپائی جی نے اپنی پارٹی بھارتیہ جن سنگھ کو جنتا پارٹی میں ضم کردیا تھا ، اور انیس سو ستہتر میں مرکز میں مرارجی ڈیسائ کی قیادت میں بننے والی مرکزی حکومت میں وزیر خارجہ مقرر ہوئے تھے ، جون انیس سو ستہتر تا اپریل انیس سو اسی کے تمام پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں بھارتیہ جن سنگھ کے ارکان نے جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا تھا ، بھارتیہ جن سنگھ کی بنیاد اکیس اکتوبر انیس سو اکیاون کو پڑی تھی اور تیئیس جون انیس سو ستہتر کو اسے تحلیل کردیا گیا تھا ، اور اس کے ارکان جنتا پارٹی میں شامل ہوگئے تھے ، مگر جن سنگھ کے قائدین اٹل بہاری واجپائی ، لال کرشن اڈوانی اور بھیروں سنگھ شیخاوت نے چھ اپریل انیس سو اسی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کی بنیاد ڈالی تھی ،

*انیس سو اناسی کا ضمنی انتخاب*
انیس سو اناسی میں ضمنی انتخاب کیوں ہوا ، اس کی وجہ مجھے معلوم نہیں ہوسکی ، شاید ممبر اسمبلی حبیب احمد صاحب کا انتقال ہوگیا ہو ،
اس انتخاب میں انڈین نیشنل کانگریس اندرا کے چودھری نونہال سنگھ کامیاب ہوئے اور جنتا پارٹی کے محبوب احمد دوسرے نمبر تھے ، نونہال سنگھ کو چودہ ہزار اور محبوب احمد کو آٹھ ہزار آٹھ سو پینسٹھ ووٹ ملے تھے ،
نو نہال سنگھ انیس سو سڑسٹھ میں بھی انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ،

*انیس سو اسی کا انتخاب*
انیس سو اسی کے عام انتخابات میں بھی چودھری نو نہال سنگھ انڈین نیشنل کانگریس اندرا کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے، دوسرے نمبر پر جنتا پارٹی سیکولر کے محبوب احمد تھے ، نو نہال سنگھ کو تیرہ ہزار سات اکتیس (13731) ووٹ ملے تھے ، ایک سال قبل ہوئے ضمنی انتخاب میں نونہال سنگھ کو چودہ ہزار ووٹ ملے تھے ، محبوب احمد کو دس ہزار تین سو پچیس ووٹ ملے تھے ایک سال قبل ہوئے ضمنی انتخاب میں انہیں آٹھ ہزار آٹھ سو پینسٹھ ووٹ ملے تھے ،
انیس سو اسی میں عتیق احمد اٹھارہ سال کے تھے ، اور محبوب احمد کی لگاتار دو بار ہار کا انہیں ضرور قلق ہوا ہوگا ، اور کچھ الگ کرنے کی تحریک ملی ہوگی ،

*انیس سو پچاسی کا انتخاب*
انیس سو پچاسی میں لوک دل کے گوپال داس یادو کامیاب ہوئے تھے اور انڈین نیشنل کانگریس کے اکبر حسین تھے ، گوپال داس کو تیرہ ہزار نو سو ستر اور اکبر حسین کو گیارہ ہزار آٹھ سو چالیس ووٹ ملے تھے ،
عتیق احمد انیس سو پچاسی میں صرف تیئیس سال کے تھے اور اسمبلی اور پارلیمان کا الیکشن لڑنے والے کی عمر کم ازکم عمر پچیس سال کا ہونا ضروری ہے.

انیس سو نواسی سے عتیق احمد کا دور شروع ہوتا ہے ، اس کی تفصیلات اگلی قسط میں ملاحظہ فرمائیں.
(جاری)

Comments are closed.