گمنامی کی زندگی جینے والے ایک بافیض عالمِ دین مولانا عبدالدیان رحمانی ؒ

 

شاہنواز بدر قاسمی

ضلع سہرسہ کے سیٹن آبا د میں حافظ محمد سلیمان صاحب کے گھر پیدا ہونے والے ایک معمولی طالب علم اپنی محنت، جدوجہد اور مستقل مزاجی سے دینی و علمی حلقہ میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔حضرت مولانا عبدالدیان رحمانی گزشتہ 14/ اپریل 2023ء بمطابق 22/ رمضان المبارک 1444ھ عین نمازِ جمعہ کے وقت بنگلو ر کے دارالعلوم سبیل الرشاد میں مختصر علالت کے بعد ہارٹ اٹیک سے انتقال فرماگئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

مولانا عبدالدیان رحمانی 12/اپریل1971ء میں سیٹن آباد میں پیدا ہوئے۔ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے قدیم ادارہ مدرسہ اسلامیہ، اردو مڈل اسکول سیٹن آباد اور بلوا ہائی اسکول میں حاصل کی۔مولانا بچپن سے ہی ذہین اور دینی مزاج رکھنے کی وجہ سے نویں کلاس مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے جامعہ رحمانی مونگیر چلے گئے وہاں انہوں نے اول تا آخر اپنی تعلیم مکمل کی اور 1986ء میں اعلی نمبرات سے دورہ حدیث سے فارغ ہوئے، اس کے بعد دو سال جامعہ رحمانی کے دارالافتاء میں زیر تربیت رہے۔

جامعہ رحمانی کے علاوہ آپ نے بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ پٹنہ سے 1993ء میں فارسی زبان میں فاضل کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد 2000ء میں اردو میں دوبارہ فاضل کی سند حاصل کی۔مولانا بیک وقت عربی، فارسی، اردو سمیت مختلف زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔آپ کی تقریری اور تحریری صلاحیت بھی بہت اچھی تھی،جس طرح صاف ستھرا لکھنے کے عادی تھے اسی طرح بولنے میں بھی حاضرین کا مکمل خیال رکھتے تھے،حالات حاضرہ پر گہری نظر تھی جب عوامی جلسوں سے خطاب کرتے آپ کی تقریر کو سامعین پسند کرتے تھے۔

جامعہ رحمانی مونگیر میں آپ کے نمایاں اساتذہ میں حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ، مولانا ثمیرالدین قاسمی مقیم حال انگلینڈ، شیخ الحدیث مولانا شمش الحق، مولانا عبدالسبحان رحمانی، مولانا زبیر احمد قاسمی،مفتی نعمت اللہ، مولانا ظاہرصاحب وغیرہ کے نا م قابل ذکر ہیں۔

حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانی صاحبؒ کی حکم پر ماہ جولائی 1988ء میں باضابطہ عربی مدرس کی حیثیت سے جامعہ رحمانی مونگیر میں آپ استاذ بنائے گئے۔آپ نے درس نظامی کی اول تا آخر تمام کتابوں کا درس دیاجس آمدنامہ، فارسی کی پہلی،دوسری، دینیات،رحمت عالم، خلافت راشدہ،گلستاں، بوستاں،کتاب الصرف، قصص النبین، شرہ ماۃ عامل، القراۃ الراشدہ،اول، ثانی، ثالث، نورالایضاح، کبری، مرقات، ہدایتُہ النحو، کافیہ، قدوری، اصول الشاشی، نورالانوار، شرح وقایہ، ترجمعہ قرآن پاک، جلالین شریف اور مشکوۃ شریف ثانی وغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔

مولانا عبدالدیان رحمانی کا شمار جامعہ رحمانی کے ایک کامیاب اور مقبول اساتذہ میں ہوتا تھا، ان کے پڑھانے کا انداز اور لب ولہجہ منفرد تھا، بچوں اور انتظامیہ میں پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے، انہوں نے اپنی پوری زندگی جامعہ رحمانی میں رہ کر درس وتدریس میں گزار ا۔مستقل 35سال تک وہ ایک استاذ کی حیثیت سے مہمان رسول کو قرآن و حدیث اور فقہ اسلامی سمیت مختلف علوم وفنون سیکھانے میں لگادیا۔ اس درمیان ہزاروں کی تعداد میں پڑھے ہوئے شاگرد ان سے فیض یاب ہوکر دنیا کی مختلف ممالک میں دینی و علمی اور سماجی خدمات انجام دے رہے ہیں جو ان کیلئے سب سے بڑا صدقہ جاریہ ہے۔

مولانا عبد الدیان رحمانی صرف ایک کامیاب مدرس نہیں بلکہ ایک بہترین اور اچھے منتظم بھی تھے،حضرت مولانا سید ولی رحمانی صاحب ؒکو آپ کے کاموں پر بڑا اعتماد تھا جب بھی کوئی مشکل کام ہوتا آپ کے سپرد کرتے، 2003ء میں جب آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کا خصوصی اجلاس جامعہ رحمانی مونگیر میں طے ہونا پایا تو تمام تر انتظامی امور کی ذمہ داری آپ کے سپرد کیا گیا، الحمدللہ آپ نے بحسن و خوبی اس اہم ذمہ داری کو نبھایا اور بورڈ کا یہ اجلاس تاریخ ساز ثابت ہوااور تمام مہمانوں نے انتظامی امور کو سراہا اور پسند کیا۔

2017؁ء میں مولانا عارف صاحب کی وفات کے بعد ناظم تعلیمات جیسی اہم ذمہ داری کس کو دی جائے سب کی نگاہیں حضرت مولانا ولی رحمانی کے ا س فیصلے پر ٹکی ہوئی تھی، مولانا عبدالدیان رحمانی نے اس عظیم ذمہ داری کو نہ صرف قبول کیا بلکہ زندگی کی آخری ایام تک بحسن وخوبی نبھایا اور کبھی بھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔مولانا کسی اہم اعلان اور اطلاع جاری کرنے میں تاخیر سے کام نہیں لیتے، ان کے دور نظامت میں تعلیمی معیار بلند ہوا، جامعہ رحمانی میں کئی نئے تعلیمی شعبہ جات قائم ہوئے، بچوں کی تعداد میں بھی کافی اضافہ ہوا،مولانا یقینا اپنے آپ میں باکمال انسان تھے،اپنے کام سے کام رکھتے تھے بلاوجہ قیمتی وقت ضائع نہیں کرتے اور اپنے کام پر توجہ دیتے تھے، مولانا برسہابرس سے دارالاقامہ کے نگراں بھی تھے اور احاطہ جامعہ میں مقیم بھی تھے۔

مولانا کے فیض یافتہ شاگردوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو مولانا سے مختلف کتابیں پڑھ کر آج علمی دنیا میں مقبول اور کامیاب ہیں،ان کے خصوصی شاگردوں میں امارت شرعیہ بہار، اڈیسہ و جھارکھنڈ کے نائب امیر شریعت مولانا محمدشمشادرحمانی قاسمی، قاضی شریعت مولاناانظارعالم قاسمی، مفتی امارت شرعیہ مفتی سعید الرحمن قاسمی، مفتی محمد نوشادنوری استاذ دارالعلوم وقف دیوبندوغیرہ کے نام قابل ذکرہیں۔

مولانا کو سفر حج کا بڑا شوق تھا، اللہ پاک نے اس آخری خواہش کی بھی تکمیل فرمادی اور سال گزشتہ 2022 ء میں اپنی اہلیہ محترمہ کے ساتھ سفر حج کی سعادت حاصل کی۔اللہ پاک نے مولانا کو بے شمار خوبیوں اور کمالات سے نواز ا تھا، گمنامی کی زندگی جینے کے عادی تھے، چاہے خانقاہ رحمانی مونگیر ہو یا اپنے وطن سیٹن آباد، ہر جگہ خاموشی اور خاکساری کے ساتھ رہتے تھے،مولانا نماز باجماعت ادا کرنے کے عادی تھے اور جہاں بھی جاتے وہ اس بات کا خیال رکھتے تھے، انہوں نے اپنی پوری زندگی خانقاہ رحمانی مونگیر کے نام کردیا، پڑھنے سے لیکر پڑھانے تک کسی دوسرے ادارے کا رخ نہیں کیا وہ اکابرین ملت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہوگئے وہ عام طور پر جلسے جلوس اور سیمنار وغیرہ سے دور رہتے تھے جو کام انہیں سپرد کیا جاتا تھا اسے پوری ذمہ داری اور ایمانداری سے نبھانے میں لگے رہتے تھے۔

اس دور میں بھی مولانا جب اپنے گاؤں آتے وہی پرانی سائیکل سے سفر کرتے، ایک عام انسان کی حیثیت سے زندگی گزارتے ہوئے ہم نے انہیں دیکھا ہے، کوئی تکلف اور بناوٹی انداز نہیں، سادگی کے ساتھ اپنے 60سالہ سفر کو انہوں نے بڑی خاموشی سے پورا کیا۔

2018ء میں جب ہم نے حضرت مولانا اسرارالحق صاحب قاسمی ؒ کی موجودگی میں وژن انٹرنیشنل اسکول سہرسہ کا افتتاح کیا، اس افتتاحی تقریب میں میری دعوت پر مولانا بھی تشریف لائے اور قیمتی تاثرات کااظہار فرمایا، جب بھی مولانا کو کسی تقریب یا جلسے میں دعوت دیتے اپنی تمام تر مصروفیات کے باوجود نہ چاہتے ہوئے بھی ضرور تشریف لاتے اور حوصلہ افزائی فرماتے۔انتقال سے تین ماہ قبل بھی جامعہ رحمانی کے وفد کے ساتھ جب ہمارے گاؤں چکمکہ تشریف لائے تو اسکول کا معائنہ کیا، بچوں سے ملاقات کی اور اپنی دعاؤں سے نوازا۔مولانا سے ہم جیسے طالب علم کاایک قلبی لگاؤ تھا، مجھے وہ جامعہ رحمانی لے جانا چاہتے تھے، داخلہ بھی کروا دیا لیکن اسی سال ہم دیوبند چلے گئے جب بھی میرے گھر تشریف لاتے کافی دیر تک بیٹھ کر مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے اور کہتے تھے اپنے علاقہ میں خوب کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

مولانا عبدالدیا ن رحمانی کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، والدین اور تین بھائیوں کا انتقال پہلے ہی ہوچکا ہے ابھی بھی مولانا گاؤں کے جس مکان رہتے ہیں وہ چھپر کا ہے لیکن انہوں نے اپنی ترقی میں غربت کو کبھی بھی رکاوٹ نہیں بننے دیا اور اپنے تمام بچوں کی تعلیم وتربیت کا مکمل خیال رکھا۔مولانا کی شادی 1993ء میں گاوں کے ہی ایک معزز خاندان ڈاکٹر امین صاحب مرحوم کی صاحبزادی سے ہوا، پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ سب سے بڑے صاحبزادے محمد ثوبان خان جو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس وقت بنگلور کے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں ملازمت کررہے ہیں، چھوٹے صاحبزادے بارہویں مکمل کرنے کے بعد مونگیر میں رہ کر میڈیکل کی تیاری کررہے ہیں، تین بیٹیوں میں سب سے بڑی بیٹی کی شادی ہوچکی ہے جبکہ دو صاحبزادی ابھی زیر تعلیم ہیں۔

مولانا عبدالدیان رحمانی ایک طویل عرصے سے جامعہ رحمانی مونگیر کے تعاون کے سلسلے میں بنگلور جاتے تھے امسال بھی حسب روایت وہ بنگلور کے سفر پر چلے گئے لیکن وہاں پہنچ کر طبیعت علیل ہوگئی ڈاکٹروں سے دیکھانے کے بعد مولانا کو آرام کرنے کا مشورہ دیا گیا گھر واپسی کا ٹکٹ بھی بنوالیا لیکن رمضان جیسے مقدس مہینے میں اس نیک دل اور اللہ والے کا بلاوا آگیا اور وہیں سفر کے دوران ہی چلتے پھرتے سفر آخرت کیلئے روانہ گئے۔

مولانا کی اچانک رحلت کی خبر سن کر ہر طرف ماحول غمگین اور افسردہ ہوگیا،جناب فہد رحمانی کی نگرانی میں فوری طور پر میت کو بنگلور سے دربھنگہ بذریعہ فلائٹ لایا گیااور وہاں سے ایمبولینس سے سیٹن آباد لایا گیا جہاں ہزاروں کے مجمع کی موجودگی میں نائب امیرشریعت حضرت مولانا محمد شمشادرحمانی کی مختصر اظہارخیال کے بعد ان کے برادر نسبتی حافظ محمد عمران خان نے مولانا کی نماز جنازہ پڑھائی اور اپنے آبائی قبرستان میں سپردخاک کردئیے گئے۔اللہ پاک مولانا کے درجات کو بلندفرمائے اور اہل خانہ کو صبرجمیل عطافرمائے،آمین۔

مولانا عبدالدیان رحمانی صاحب کے نماز جنازہ میں جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر اور امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ سمیت بہار کے مختلف اضلاع سے بڑی تعداد میں ان کے شاگردوں اور متعلقین نے شرکت کی اور اس سانحہ پر اپنے دلی رنج و غم کااظہار کیا۔امیرشریعت حضرت مولانا احمدولی فیصل رحمانی نے بھی اپنے تعزیتی پیغام میں مولانا کی وفات کو جامعہ رحمانی کیلئے ناقابل تلافی نقصان قراردیا اور کہاکہ ان کی وفات سے دلی صدمہ پہنچا ہے۔

گمنامی کی زندگی جینے والے ایک بافیض عالم دین، استاذ اور مربی کی رحلت پر رنج وغم فطری ہے اللہ سے دعا کیجئے مولانا کی تمام علمی و دینی کاموں کو قبول فرمائے اور ہم سب کو ان کا نعم البدل عطا فرمائے۔

Comments are closed.