جمعۃ الوداع اور عید کی نماز مساجد اور عیدگاہ کے اندر ادا کی جائے ، مساجد یا عیدگاہ سے باہر کھلی جگہ یا سڑک پر نماز ادا کرنے سے پرہیز کیا جائے

 

 

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آج جمعۃ الوداع ھے ، ہمارے ملک میں جمعۃ الوداع کا بہت اہتمام کیا جاتا ھے ، شہروں میں اس کا اہتمام زیادہ دیکھنے کو ملتا ھے ، اس کے لئے نئے کپڑے سلائے جاتے ہیں ، جمعۃ الوداع کی نماز کی تیاری میں جوان اور بوڑھے سبھی پیش پیش رہتے ہیں ، بچوں میں بھی خوشی دیکھنے کو ملتی ھے ، یہ سمجھئے کہ جمعۃ الوداع چھوٹی عید ھے ، اس کے اھتمام میں حکومت کی جانب سے بھی چھٹی کی رعایت دی جاتی ھے ، جمعۃ الوداع کے موقع پر مسلم سماج کے لوگوں میں جوش وخروش نظر آتا ھے ، بڑی تعداد میں لوگ جمعۃ الوداع کی نماز پڑھنے کے لئے مساجد جاتے ہیں ، اکثر دیکھنے میں آیا کہ مساجد میں نمازیوں کے لئے جگہ کم ہو جاتی ھے

ہندوستان مختلف مذاہب کا گہوارہ ھے ، ہزاروں برس پہلے سے تمام مذاہب کے لوگ ایک دوسرے کا احترام کرتے رہے ہیں ، خاص طور پر تہوار کے موقع پر لوگ فراخ دلی سے کام لیا کرتے تھے ، سبھی مذاہب کے لوگ تہوار کو امن و شانتی سے گزارنے کے حق میں ہوتے تھے ،جہاں تک مسلمانوں کی بات ہے تو جہاں وقت ھوتا جاتا لوگ عبادت کرلیا کرتے تھے ، چونکہ نماز میں تھوڑا سا وقت لگتا ھے ، اس لئے مساجد میں جگہ کم ہوجاتی تو لوگ کھلی جگہ اور سڑکوں پر نماز پڑھ لیا کرتے تھے ، اسٹیشن اور ریل گاڑیوں میں نماز پڑھ لیتے تھے ، مگر کچھ برسوں سے اقلیت اور اکثریت کے مسئلہ کو کھڑا کر کے مسلمان اور برادران وطن کے درمیان نفرت کا ماحول پیدا کردیا گیا ، اور سرکاری اور کھلی جگہ میں نماز اور عبادت کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں ، کئی مقامات پر آپس میں ٹکراؤ کی شکل بھی پیدا ہوگئی ، چنانچہ بعض اسٹیٹ میں حکومت کی جانب سے بھی سرکاری یا کھلی جگہ میں نماز یا عبادت سے ممانعت کردی گئی ہے ، اس لئے اب کتنی بھی مجبوری ہو کھلی جگہ ،سرکاری جگہ ،سڑک وغیرہ پر نماز و عبادت منع ھے ،

جمعۃ الوداع اور عید کے موقع پر عام طور سے نمازیوں کی بڑی تعداد ھو جاتی ھے ، شہروں میں مسجدیں عموماً دوری پر ھوتی ہیں ، کام کاج کرنے والوں کو نماز کے لئے اتنا وقت نہیں دیا جاتا ھے نیز مساجد میں جگہ کم ھو جاتی ھے تو لوگ آسانی کے لئے کھلی جگہ میں یا مسجد سے باہر سڑک پر نماز ادا کرلیا کرتے تھے ، جبکہ علماء اور دانشوران اس سے منع کرتے تھے ، مگر مجبوری میں ایسا کیا جاتا تھا ،حکومت کی جانب سے بھی عبادت اور نماز کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ،اس سے منع نہیں کیا جاتا تھا ، مگر جب اس کے خلاف آواز بلند ہونے لگی اور تصادم کی شکل پیدا ھونے لگی تو بعض صوبوں میں سرکاری اور کھلی جگہ پر نماز و عبادت کو ممنوع قرار دے دیا گیا ھے ، موجودہ وقت میں تقریبا پورے ملک میں اسی پر عمل ہورہا ھے ،

آج جمعۃ الوداع ھے اور کل عید الفطر متوقع ہے ،اس لئے تمام حضرات سے مخلصانہ اپیل ھے کہ جمعۃ الوداع اور عید کی نماز مساجد اور عیدگاہ میں ادا کی جائے , مسجد یا عید گاہ کے باہر کھلی جگہ یا سڑک پر ہرگز نماز ادا نہ کی جائے ، مساجد یا عیدگاہ میں جگہ کی کمی محسوس ھو ،تو دو جماعت یا تین جماعت کا انتظام کیا جائے ، ایسے موقع پر غلط عناصر سرگرم رہتے ہیں ، وہ موقع سے فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں ،ہم سب کو اس سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ، اللہ تعالیٰ سے دعاء ہے کہ شر اور فتنہ سے حفاظت فرمائے ، اور ملک میں امن و شانتی کا ماحول بنائے ، جزاکم اللہ خیرا

 

Comments are closed.