جورب رمضان المبارک کا ہے وہی ر ب باقی سارے مہینوں کا بھی ہے

 

مولانابدیع الزماں ندوی قاسمی
چیرمین انڈین کونسل آف فتویٰ اینڈ ریسرچ ٹرسٹ بنگلور ، کرناٹک وجامعہ فاطمہ للبنات مظفرپور ، بہار

بلاشبہ رمضان کے بعد مسلمان کا اعمال صالحہ کرنے پرصبر کرنا اوراسی حالت پر باقی رہنا اللہ تعالیٰ کےہاں رمضان المبارک کے روزے قبول ہونے کی علامت ہے ۔
اوررمضان المبارک کے بعد اعمال صالحہ ترک کرنا اورشیطان کے راستوں پرچلنا ذلت ورسوائی ہے ، اورجب بندہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل ورسوا ہوجاتا ہے توکوئی بھی اس کی عزت نہیں کرتا ۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :
"جسے اللہ ذلیل کردے اسے کوئی بھی عزت دینے والا نہیں ہے۔” ( الحج :18 )
تعجب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ بعض لوگ رمضان المبارک میں روزے رکھتے اور قیام کرتے ہیں اوراللہ تعالیٰ کے راستےمیں صدقہ و خیرات بھی کرتے ہیں اوررب العالمین کی اطاعت بھی بہت زيادہ کرتے ہیں لیکن جیسے ہی رمضان المبارک کا مہینہ گزرا تو…..؟ان کی فطرت بدل جاتی ہے اوراپنے رب کے ساتھ ان کے اخلاق اورہی ہوجاتے ہیں آپ دیکھيں کہ وہ نہ تو نماز پڑھتا ہے اورنہ ہی اعمال صالحہ میں وہ کثرت اورتيزی رہتی ہے بلکہ ان میں قلت آجاتی اوروہ ان سے بھاگنے لگتا ہے ۔
وہ معاصی اورگناہ کا ارتکاب کرنے لگتا ہے اوروہ کئی انواع واقسام میں اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی کرنے لگتا اور اللہ مالک الملک جوکہ قدوس السلام بھی ہے کی اطاعت وفرمانبرداری سے دوربھاگتا ہے ۔
اللہ کی قسم وہ لوگ توبہت ہی برے ہيں جواللہ تعالیٰ کوصرف رمضان المبارک میں ہی پہچانتےہیں ۔
مسلمان پرضروری ہے کہ وہ رمضان المبارک کے بعد ایک ایسی تقویٰ والی زندگی گزارے جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف توبہ ورجوع اورہروقت اورہر گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا رہے ، اس طرح زندگی گزازنا ہرمسلمان شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ مستقل طور پراللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتا رہے اورہرگناہ ومعصیت کے کام سے بچے اوررمضان المبارک میں جن اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہا اسے رمضان کے بعد بھی جاری رکھے ۔
درحقیقت رمضان المبارک کے بعد اللہ تعالیٰ جسے اعمال صالحہ پر ثابت قدم رکھے اس کے لیے بہت بڑي کامیابی ہے ۔
اوراس میں کوئ شک وشبہ نہيں کہ ہروقت اوردورمیں اعمال صالحہ اللہ تعالی کے قرب کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ، پھریہ بھی ہے کہ جورب رمضان المبارک کا ہے وہی رب شوال ،ذیقعدہ، ذی الحجہ ، محرم ،صفر اورباقی سارے مہینوں کا بھی ہے ۔
اس لئے ایک متقی مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے ڈرتا رہے اس کا تقوی اختیارکرے ، اورہروقت وہمیشہ کےلیے خير وبھلائی اوردعوتی کاموں امربالمعروف اورنہی عن المنکرمیں مشغول رہے ۔
اس لئے کہ الله تعالیٰ کے نزدیک محبوب اورپسندیدہ عمل وہ ہے جوہمیشہ کیاجائے ، چاہے وہ تھوڑا ہی کیوں نہ ہو ۔
لہذا ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم رمضان المبارک کی طرح پورے سال استقامت کے ساتھ حسب استطاعت عبادات کوبجالانے کی بھرپور کوشش کریں اور اس سلسلے میں کوتاہی اور لاپرواہی ہرگز نہ کریں ۔

Comments are closed.