کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست

 

مظاہر حسین عماد قاسمی

27/4/2023

 

قسط (1)

 

کرناٹک میں دس مئی کو دو سو چوبیس رکنی اسمبلی کے انتخابات ہیں ، اور تیرہ کو نتائج آئیں گے ، اس مناسب سے کرناٹک کی سیاست اور وہاں کی مسلم سیاست کے کئی مخفی گوشوں کو اجاگر کیا جائے گا ،

 

*کرناٹک کی اہمیت*

کرناٹک رقبے کے اعتبار سے جنوبی ہند کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، اور آبادی کے اعتبار سے تمل ناڈو کے بعد جنوبی ہند کا دوسرا بڑا صوبہ ہے ، یہ صوبہ بہت ہی زیادہ حساس صوبہ ہے ،

 

جنوبی ہند کی کل سات ریاستیں ہیں اور وہ یہ ہیں

تمل ناڈو ، پانڈیچری ،کیرل ، تلنگانہ ، آندھرا ، کرناٹکا اور گوا ،

کرناٹک اور گوا کے علاوہ جنوبی ہند کے بقیہ تمام صوبوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثر بہت کم ہے ،

 

کرناٹک کے شمالی حصوں گلبرگہ ، بیدر ، اور رائچور وغیرہ پر جنوبی ہند کی مشہور مسلم سلطنتوں ، بہمنی سلطنت ، برید شاہی سلطنت عادل شاہی سلطنت ، قطب شاہی سلطنت اور آصف جاہی مملکت کی حکومت تیرہ سو سینتالیس سے انیس سو اڑتالیس تک کل چھ صدیوں تک رہی ہے ،

کرناٹک کے جنوبی حصے میں میسور ہے ، اور یہاں کے ہی مسلم حکمراں حیدر علی مرحوم اور ان کے صاحب زادے ٹیپو سلطان نے انگریزوں کے خلاف داد شجاعت دے کر ساری دنیا میں میسور کا نام امر کردیا ،

 

*کرناٹک صوبے کی تشکیل*

موجودہ کرناٹک انیس سو سینتالیس میں آزادی کے وقت پانچ حصوں میں منقسم تھا ، جنوب میں میسور ریاست تھی ،

شمال مشرق کے موجودہ سات اضلاع بیدر ,گلبرگہ ، رائچور ، یاد گیر، بلاری ، کوپل اور وجیانگر حیدرآباد کی آصف جاہی مسلم سلطنت کا حصہ تھے ،

شمال مغرب کے موجودہ سات اضلاع بیجاپور ، بیلگام ، دھارواڑ ، باگل کوٹ ، گدگ ، اتر کنڑا ، اور ہاویری انگریزوں کی ڈائریکٹ حکمرانی والی بمبئی پریزیڈنسی کا حصہ تھے ،

جنوب مغرب کے موجودہ دو اضلاع اڈپی اور دکھن کنڑا انگریزوں کی ڈائریکٹ حکمرانی والی مدراس پریزیڈنسی کا حصہ تھے ،

جنوب میں کیرل سے متصل ایک چھوٹی سی غیر فعال شاہی ریاست کورگ بھی تھی ، اس ریاست کے راجہ کو 1834 میں انگریزوں کے خلاف ایک بغاوت کے بعد غیر فعال کردیا گیا تھا ، اس صوبے کی اصل کمان انگریزی حکومت کی طرف سے مقرر ایک کمشنر کے ہاتھ میں ہوتی تھی ،

مذکورہ بالا حصوں کے علاوہ موجودہ کرناٹک کے علاقے میسور کی شاہی ریاست کے تحت تھے ،

یکم نومبر 1956 کو لسانی بنیادوں پر کیرل ، مدراس ( انیس سو انہتر میں تمل ناڈو نام رکھا گیا) اور آندھرا پردیش وغیرہ کے ساتھ ریاست میسور کی تشکیل جدید ہوئی ، اور سترہ سالوں کے بعد یکم نومبر انیس سو تہتر کو ریاست میسور کا نام کرناٹکا رکھ دیا گیا ،

 

صوبہ میسور کے ساتھ ساتھ حیدرا باد ، بمبئی اور مدراس کے وہ علاقے جہاں کی اکثریت کرناٹک بولتی تھی انہیں کرناٹک میں شامل کرلیا گیا ،

آج بھی کرناٹک کے بیلگام وغیرہ اضلاع کے کئی گاؤں کے لوگ کرناٹک میں رہنا نہیں چاہتے ہیں وہ مہاراشٹر کا حصہ بننا چاہتے ہیں ،

 

*کرناٹک کا رقبہ اور ابادی*

کرناٹک کے شمال میں مہاراشٹر ، شمال مغرب کے ایک تھوڑے سے حصے میں چھوٹا سا صوبہ گوا ، جنوب مغرب میں بحر عرب اور کیرلا ، شمال مشرق میں تلنگانہ ،مشرق میں آندھرا پردیش ، جنوب مغرب میں بحر عرب اور کیرلا ، اور جنوب مشرق میں تمل ناڈو ہے ،

کرناٹک کا رقبہ ایک لاکھ اکانوے ہزار سات سو اکیانوے (191791) ہے ، اور یہ رقبے کے اعتبار سے ہندوستان کا چھٹا بڑا صوبہ ہے ،

کرناٹک کی کل ابادی دوہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق چھ کروڑ گیارہ لاکھ تیس ہزار سات سو چار (61130704) ہے ، اور کرناٹک آبادی کے اعتبار سے ہندوستان کا آٹھواں بڑا صوبہ ہے ،

 

*کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا اثر*

کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کا کافی اثر ہے ، اور اس کی تقریبا دو ٹرم حکومت رہ چکی ہے ، اس کی پہلی حکومت بارہ نومبر تا انیس نومبر دو ہزار سات کل سات دنوں کی تھی ،

دوسری حکومت تیس مئی دو ہزار آٹھ تا تیرہ مئی دو ہزار تیرہ کل پانچ سالوں تک حکومت تھی ، اب تک سب سے زیادہ سیٹیں بھارتیہ جنتا پارٹی کو دو ہزار آٹھ میں ہی حاصل ہوئی تھیں ، اسے کل ایک سو دس سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ،

تیسری حکومت چھبیس جولائی دو ہزار انیس سے ہے جس کی میعاد تیرہ مئی دو ہزار تیئیس کو ختم ہوجائے گی ، دو ہزار اٹھارہ میں دوسری بڑی کامیابی ملی تھی اور اسے ایک سو چار سیٹیں ملی تھیں ،

 

*کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کی تاریخ*

کرناٹک میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو انیس سو نواسی میں صرف چار سیٹیں حاصل ہوئی تھیں , انیس سو چورانوے میں چالیس سیٹیں حاصل ہوئیں ، انیس سو ننانوے میں چوالیس سیٹیں حاصل ہوئیں ، دو ہزار چار میں اناسی سیٹیں حاصل ہوئیں ،

دو ہزار آٹھ میں ایک سو دس سیٹیں حاصل ہوئیں ،

دو ہزار تیرہ میں اسے کافی نقصان ہوا اور اسے صرف چالیس سیٹیں حاصل ہوئیں ،

 

*دو ہزار انیس میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے جمہوریت کا قتل*

دو ہزار اٹھارہ میں اسے ایک سو چار سیٹیں حاصل ہوئیں اور وہ دو سو رکنی کرناٹک اسمبلی میں سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ،

اس کے لیڈر بی ایس یدی یورپا کو سترہ مئی دو ہزار اٹھارہ کو وزیر اعلی بنایا گیا مگر وہ اسمبلی میں اکثریت ثابت نہ کرسکے ، انہوں نے پانچویں دن تیئس مئی دو ہزار اٹھارہ کو استعفی دے دیا ، اس کے بعد کانگریس اور جنتادل سیکولر کی سرکار قائم ہوئی ، کانگریس کے پاس اسی (80) ارکان تھے اور جنتادل سیکولر کے پاس کل چالیس ارکان تھے ، اپنے سینتیس اور دیگر تین دوسری پارٹیوں کے ، ہونا یہ چاہیے تھا کہ کانگریس کا وزیر اعلی ہو ، اور دونوں پارٹیوں کی حکومت میں مناسب نمائندگی ہو ، مگر جنتادل سیکولر کے لیڈر کمار سوامی نے وزیر اعلی بننے پر اصرار کیا ، وہ وزیر اعلی کرناٹک بنائے گئے اور وہ اس عہدے پر تیئس مئی دو ہزار اٹھارہ تا تیئس جولائی دو ہزار انیس فائز رہے ،

 

اس چودہ مہینوں کی مدت میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے کانگریس کے تیرہ ارکان اسمبلی ، جنتادل سیکولر کے تین ارکان ارکان اسمبلی اور کرناٹکا پرگنیا ونتھا جنتا پارٹی کے واحد رکن اسمبلی کو استعفی دے کر دوبارہ ضمنی انتخابات لڑنے پر راضی کرلیا ،

ان سترہ ارکان کے استعفی کے بعد کرناٹک اسمبلی میں جنتادل سیکولر اور کانگریس اتحاد کے ارکان کی تعداد ایک سو ایک ہوگئی ، اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان کی تعداد ایک سو پانچ تھی ، اب دو سو سات رکنی اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو واضح اکثریت تھی ، اس طرح انتخاب کے چودہ ماہ بعد بھارتیہ جنتا پارٹی کی مضبوط حکومت قائم ہوگئی ،

 

بعد میں پانچ دسمبر دو ہزار انیس کو ہوئے ضمنی انتخابات میں سترہ میں سے کانگریس نے تین ، آزاد نے ایک اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے تیرہ سیٹیں حاصل کیں ،

اس طرح دو سو چوبیس رکنی کرناٹک اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سو اٹھارہ سیٹیں ہوگئیں ،

جنتادل سیکولر کے دو پرانے ارکان اور کانگریس کے دس پرانے ارکان بھارتیہ جنتا پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوگئے ، سستعفی دینے والے ایک کانگریسی رکن آر روشن بیگ اورپرگنیا ونتھا جنتا پارٹی کے واحد رکن آر شنکر نے ضمنی انتخاب نہیں لڑا ، آر روشن بیگ کی خالی کی ہوئی سیٹ پر انڈین نیشنل کانگریس کے رضوان ارشد کامیاب ہوئے ، نااہل قرار دیے جانے والے یا استعفی دینے والوں میں آر روشن بیگ واحد مسلم تھے ،

 

فی الحال کرناٹک اسمبلی میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ایک سو تیرہ ، کانگریس کے چوہتر اور جنتادل سیکولر کے ستائیس ارکان ہیں ، دس سیٹیں خالی ہیں ، اور ان میں زیادہ تر سیٹیں بھارتیہ جنتا پارٹی کے ان ارکان کی ہیں جو اب انڈین نیشنل کانگریس میں چلے گئے ہیں ،

 

________________

 

اگلی قسط میں کرناٹک کی مسلم سیاست پر بحث ہوگی

Comments are closed.