کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھیے

 

محمد نوشاد نوری قاسمی
استاذ دارالعلوم وقف دیوبند

نیکی کے بہت سے کام ہیں، کچھ کاموں کی اہمیت بہت واضح ہوتی ہے اور سب کے دل میں ہوتی ہے اورکچھ نیک کاموں کی طرف عام طور سے توجہ نہیں ہوپاتی اور اسے اہمیت بھی نہیں دی جاتی ہے، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو یہ تعلیم فرمائی کہ نیکی بہرحال نیکی ہے اور ہرایمان والے بندے کو نیکی کے ہرکام میں سبقت کرنی چاہیے اور اسے حقیر یا بے حیثیت نہیں سمجھنا چاہیے، مسند احمد میں، صحیح سند سے، یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ ایک صحابی ابوجری الہجیمیؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہو کر عرض کیا: حضرت! ہم دیہاتی لوگ ہیں، ہمیں کوئی ایسی بات بتادیجیے جس سے اللہ تعالی ہم کو نفع پہونچائے، تو آپ ﷺنے ارشاد فرمایا: کسی بھی نیک کام کو حقیر مت سمجھو؛ چاہے وہ نیک کام کسی پانی والے کے برتن میں اپنے ڈول میں سے پانی دینا ہو یا مسکرا کر کسی بھائی سے بات کرنی ہو۔ (مسند احمد، 20633)، مسلم شریف کی ایک حدیث میں حضرت ابوذر ؓ کو نصیحت کرتے ہوئے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بھی نیک کام کو حقیر مت سمجھو، چاہے وہ اپنے بھائی سے خندہ پیشانی کے ساتھ بات کرنے کا مسئلہ ہو“(مسلم شریف، حدیث نمبر2626)
اس لیے کسی بھی نیک کام کو ہلکے میں نہیں لینا چاہیے، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالی ہرنیکی کو پسند فرماتے ہیں اور بندہ کو نہیں معلوم کہ اس کی کونسی نیکی اللہ کو پسند آجائے، بعض دفعہ انسان کی نظر میں کوئی کام ہلکا ہوتا ہے؛ جب کہ اللہ کے نزدیک بڑا ہوتا ہے۔ یہ بات بھی پیش نظر رکھنے کی ہے کہ انسان کے اخلاص ، للہیت اور وقت وحالات کی رعایت سے بھی، نیک کاموں کی اہمیت اور قدر وقیمت میں اضافہ ہوتاہے۔
اس لیے کسی بھی مفید اور نیک کام کو ہلکے میں نہ لیں؛ بلکہ جہاں جس درجہ مفید اور نیک کام میں شرکت کا موقع ملے، پورے خلوص وللہیت کے ساتھ اس کی انجام دہی کی کوشش کریں۔
اس سلسلے کا ایک واقعہ کل گزشتہ میرے رفیق محترم جناب مفتی ظہور احمد شاہ کشمیری قاسمی صاحب نے سنایا، انہوں نے بتایا کہ ایک صاحب نے ان سے درخواست کی کہ پانچ منٹ خود کشی کی مذمت پر ایک ویڈیو بنادیں، انہوں نے معذرت کی کہ اس موضوع پر بہت سی ویڈیوز موجود ہیں؛ لیکن کہنے والے کے اصرار پرانہوں نے پانچ منٹ کی ایک ویڈیوبنائی، دو چار دن کے بعد چینل والے کو ایک لڑکی کا فون آیا اور ان کا شکریہ ادا کیا او رکہاکہ مفتی ظہور احمد صاحب کا بھی میری طرف سے شکریہ اداکردیجیے، پھر اس نے بتایا کہ میں نے خود کشی کا پختہ ارادہ کرلیا تھا، رسی وغیرہ کا بھی انتظام کرلیا تھا، بس گھروالوں کے باہر جانے کا انتظار تھا، ایک دن یوٹیوب پر، خود کشی کرنے کے طریقے کے بارے میں سرچ کررہی تھی کہ یہ ویڈیو سامنے آگئی، جسے سن کرمیں کانپ گئی، میں نے اپنا ارادہ بدل دیا اور مشکل حالات میں، صحیح طریقے پر جینے کا عزم کرلیا، لہذا میری جان بچانے کے لیے آپ دونوں حضرات کا بہت بہت شکریہ!!
جس وقت مفتی صاحب اپنا یہ واقعہ سنارہے تھے، اس وقت میرے ذہن ودماغ میں مسلم شریف اور مسند احمد کی یہی حدیث گردش کررہی تھی، اس میں سمجھنے والوں کے لیے کافی سبق ہے۔

Comments are closed.