سیلانی کے نام

سمیع اللہ ملک
گاڑی میرے گھرکے سامنے رکی،پہلے باوردی شوفراترا،پچھلے دروازے کی طرف بھاگااورسرعت سے ہینڈل کھینچ دیا۔اندرسے سرمئی سوٹ میں ملبوس ایک خوبصورت نوجوان نکلا، اس کے ہاتھوں میں گلدستہ تھا۔میں یہ سب کچھ اپنے گھ کے فرنٹ روم کی سامنے والی کھڑکی سے دیکھ رہاتھا۔اس نے عینک کے گہرے سیاہ شیشوں کے پیچھے سے ماحول کاجائزہ لیا اورآگے بڑھ کر میری دہلیزپرقدم رکھ دیا۔اس نے جونہی گھرکی بیل بجائی تومجھے قدرے حیرت بھی ہوئی اورپریشانی بھی کہ یہ اجنبی کون ہے اورمیرے ہی گھرکااس نے انتخاب کیوں کیاہے؟
اگلے دومنٹوں میں وہ میرے سامنے بیٹھاتھا،وہ ایک خوشحال،وجیہہ اورمہذب آدمی دکھائی دے رہاتھالیکن اسے اپنے سامنے پاکر مجھے کوئی مسرت نہیں ہورہی تھی۔میں دراصل پچھلے6ہفتوں سے شدیدعلالت اورشدیدڈپریشن کاشکارتھا،خدادادپاکستان کی اوپر تلے کی ناکامیاں،سنگین معاشی بحرانوں،مہنگائی میں تڑپتے عوام اورحالات کے بے مہر تھپیڑوں نے میری جڑیں تک ہلادی تھیں۔ میں چڑچڑا،سنکی اوربیزارہوچکاتھا۔رات کے لباس میں بیٹھاایک کتاب پڑھنے میں منہمک تھا،میل ملاقات سے مجھے چڑسی ہو گئی تھی۔ میں نے سوچاکہ یہ کتنے غلط وقت پربغیراطلاع دیئے میرے پاس آیاہے۔اس کے پھول میرے سامنے میزپردھرے تھے جو دروازہ کھولتے ہی اس نے اپنی مسکراہٹ کے ساتھ میرے ہاتھوں میں تھمادیئے تھے۔
اس نے دھوپ کاانتہائی قیمتی چشمہ اتارا،اورزندگی سے بھرپورمسکراہٹ میری طرف پھینک کربولا،آپ نے مجھے پہچانا؟میں نے غورسے اسے دیکھا ،چہرہ توشناساتھالیکن وقت اور دوری کی دھندمیں ملفوف تھا۔اس نے میری کشمکش بھانپ لی،آپ پہچان بھی کیسے سکتے ہیں،15 سال تھوڑاعرصہ نہیں ہوتا؟میں اسے خاموشی سے دیکھتارہا۔آپ میرے محسن ہیں ،میری خواہش تھی،میں جب کامیاب بزنس مین بن جاؤں،میرے پاس بے پناہ دولت آجائے،لوگ میرے اوپررشک کریں،توپھرمیں آپ کے قدموں میں حاضری دوں۔
میری وحشت حیرت میں تبدیل ہوگئی اورمیں سکتے کے مریض کی طرح اسے دیکھنے لگا۔وہ تھوڑاساجذباتی ہوگیا،سرمیں ایک ناکام شخص تھا،غریب تھا،جذباتی تھا،سونے کوہاتھ لگاتا مٹی ہوجاتا،جس نوکری کیلئے درخواست دیتاوہاں سے انکارہوجاتا۔میں نے سوچااس زندگی سے توموت اچھی ہے۔اس سے پہلے کہ میں مرجاتا،ایک دوست مجھے آپ کے پاس چھوڑگیا۔آپ نے میری ساری کہانی سن کرمجھے خودکشی کاایک انوکھاطریقہ بتایا۔آپ نے کہااس معاشرے میں زندہ رہنے سے بڑی کوئی خودکشی نہیں، تم اپنے اردگردموجودلوگوں جیسے ہوکران سب سے انتقام لے سکتے ہو۔آپ نے کہاکامیابی اورناکامی،اچھائی اوربرائی فقط اسٹیٹ آف مائنڈ(اپنے دماغ کی سوچ)ہوتی ہے۔جیب تراشی ایک شخص کی
ناکامی اوردوسرے کیلئے کامیابی ہوتی ہے،اسے ایک برائی کہتاہے اوردوسرے کے نزدیک وہ حصولِ رزق کاذریعہ ہوتی ہے۔
وہ سانس لینے کیلئے رکا،وہ مجھے اب ہلکاہلکایادآنے لگا۔دس سال پہلے وہ ایک کمزورلڑکا اب سڈول جسم کاخوبصورت نوجوان تھا۔وہ گویاہوا،آپ نے کہاتھا کہ اصل قصوروارضمیرہوتا ہے،یہ جوتم بہت خوشحال قسم کے لوگ دیکھتے ہوجن کی لوگ مثالیں دیتے ہیں کہ یہ برسوں میں ارب پتی بن گیایہ بھی کبھی تم جیسے لوگ تھے،بس انہوں نے خود کومارنے کی بجائے اپنے اپنے ضمیرکوقتل کردیااوربس ایک ہی رات میں خوشحالی کے سفرپرگامزن ہوگئے۔جیسادیس ویسا بھیس۔تم اسلام آبادمیں رہتے ہوجہاں اسلام کاسب سے بڑامذاق اڑایاجاتا ہے۔اس ملک میں ضمیرکی کوئی ضرورت نہیں،اس سوسائٹی میں ضمیر’’اپینڈکس ‘‘کی طرح ہے،اگرہے توکوئی فائدہ نہیں،موجودنہیں توکوئی نقصان نہیں۔آپ نے کہاتھاکہ اپنے ارد گرددیکھو،کتنے سیاستدان ہیں،کتنے مذہبی رہنما،بزنس مین، دانشور، ادیب اورصحافی ہیں،یہ سب اخبار، ریڈیواور ٹی وی پرکتناجھوٹ بولتے ہیں کہ عرش تک ہل جاتاہے لیکن تم ان کااعتماددیکھو،ان کے لہجے کی کھنک،ان کی آنکھوں کی چمک اوران کے چہرے کی دمک ملاحظہ کروتمہیں کسی جگہ کشمکش،پریشانی اورشرمندگی نظرآتی ہے،نہیں دکھائی دیتی،کیوں؟ کیونکہ ان لوگوں کے اندرضمیرجیسی چیزہی نہیں۔آپ نے کہاتھایہ ضمیرہی ہوتاہے جوانسان کوشرمندگی،پریشانی اورکشمکش سے دوچارکرتاہے،جوآپ کے اعتمادمیں دراڑڈالتاہے، اگرضمیرنہیں توسکھ ہی سکھ،اطمینان ہی اطمینان اورسکون وچین ہی چین۔وہ رکا!
،اس نے صوفے کی پشت سے ٹیک لگائی اورلمباساسانس لیکربولا،سر!اس کے بعد آپ نے یہ بھی کہاتھاکہ اگرضمیر کے ساتھ زندہ رہوگے تومیں تمہیں یہ یقین دلاتاہوں کہ کامیاب تو تم پھربھی ہو جا ؤگے لیکن یہاں نہیں بلکہ وہاں،جہاں ہم سب کا انتظارہورہاہے۔ سر!میں نے آپ کی پہلی نصیحت پرعمل کیا،میں نے اپنے ضمیرکاگلہ دبادیا،میں نے اسے مٹی میں دفن کردیا۔آپ کی پشین گوئی یاتجربہ کی بات بالکل سچ ثابت ہوئی،میں واقعی کامیاب ہوگیا۔مجھے لگامیں آپ کے ساتھ ملاقات سے پہلے قطب شمالی پربرف کی دوکان کھول بیٹھا تھا یا چولستان کے باسیوں کوریت بیچ رہاتھا۔میں نے جب بازارمیں درست سودا بیچناشروع کیا تودن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔میں آپ کامشکورہوں سر!وہ خاموش ہوگیا۔میں اس کے چہرے کوغور سے دیکھنے لگا،وہاں واقعی کوئی ملال،کوئی شرمندگی اورکشمکش نہیں تھی بالکل ہمارے آج کے حکمرانوں کی طرح!آئی ایم ایف کی شرمناک شرائط کوپاکستانی عوام پرمسلط کرنے کے باوجوددھتکاردیئے جاتے ہیں۔قوم کویہ بتایاجاتاہے کہ کس طرح ہماری قابل فخرفوج کاسابقہ سپہ سالارقمرباجوہ25صحافیوں کوبلاکراپنی بزدلی کااظہارکرتے ہوئے کشمیرکومودی کے حوالے کرنے کی سازش میں شریک تھااورمودی کے پاکستان کے دورے کی تاریخ بھی طے کرچکاتھا جبکہ وزارت خارجہ کواس کاعلم تک نہیں۔
اس نے آگے پیچھے دیکھااوربڑے اعتمادسے بولا،سر!آپ مجھے کچھ پریشان دکھائی دے رہے ہیں،کوئی مسئلہ آن پڑا ہے؟اینی پرابلم سر؟میں نے ٹھنڈی سانس بھری اورتھکی مرجھائی آوازمیں کہا،ہاں میں پریشان ہوں،میں بھی اپنے ضمیر کے ہاتھوں تنگ آچکاہوں،اس نے قہقہہ لگایااور چمک کربولا،آپ بھی میری طرح کریں،مطمئن اورخوشحال ہو جائیں۔میں نے زوردارقہقہہ لگا کرکہا،بڑی کوشش کرتاہوں لیکن اللہ نے میرے اندرایک عجیب نسل کاضمیرفِٹ کردیاہے،میں جہاں چھوڑکرآتاہوں،یہ بلی کی طرح واپس آجاتا ہے،میرے گھرپہنچنے سے پہلے دہلیزپرکھڑاہوتاہے اورپہلے سے زیادہ طاقت کے ساتھ مجھ پرحملہ آورہوتاہے اوربالآخرمجھے شکست سے دوچارکردیتاہے بالکل میرے بھائی احسان سیلانی کی طرح۔
سر!پھرآپ کاشماران لوگوں میں ہوتاہے جواپنے مقدرمیں ناکامی لکھواکرآئے ہیں،جوکبھی کامیاب نہیں کہلواسکتے البتہ یہاں نہیں بلکہ وہاں بھی آپ کامیاب ٹھہریں گے،مجھے معلوم نہیں؟میرے لائق کوئی خدمت ہوتویہ میراکارڈرکھ لیں،کبھی یاد فرمائیں!اب میز پرپڑے پھولوں کے ساتھ یہ کارڈ بھی مجھے دیکھ کرطنزیہ ہنسی کو چھپانے کی کوشش کررہاتھا۔

 

Comments are closed.