انسانی حقوق کی علمبردار، سماجی جہدکار، ڈاکٹر ثنا قطب سے ایک ملاقات

 

*اپنے آبائی وطن کی ترقی و خوشخالی کے لیے ہمیشہ سرگرداں و کوشاں.*

 

ملاقاتی : مرزا عبدالقیوم ندوی اورنگ آباد

* کچھ لوگ واقعی بڑے اِسْم با مُسَمّیٰ ہوتے ہیں وہ اپنے نام اور کام کو کچھ اس انداز و سلیقہ سے برتتے ہیں کہ انہیں دیکھنے کے بعد بلا مبالغہ کہنا پڑتا ہے کہ اسم با مسمی ہے ..

 

ثناء کے معنی تعریف، مدح سرائی کے ہوتے ہیں. بار بار تعریف و ستایش کی جائے. اردو میں ثنا خوان، ثنا خوانی مستعمل ہے اور یہ عام طور پر اس وقت استعمال ہوتا ہے جب کسی شخص یا خاندان کی اس کی عزت و شرافت، خاندانی وضعداری، انسانیت سے ہمدردی اور خدمت خلق کے جذبات خاندان کے ہر فرد میں بدرجہ اتم موجود ہوں تو ان کی تعریف و توصیف کرنا، عزت و اکرام کرنا ثناخوانی کے درجہ و زمرے میں آتا ہے..

اس طویل تمہید کے بعد میں آپ کی ملاقات ڈاکٹر ثنا قطب الدین سے کراتا ہوں جو امریکہ میں پیدا ہوئیں،وہیں پر پلی بڑھیں، اعلی تعلیم حاصل کی اور دنیا کے تقریباً تمام ترقی یافتہ ممالک کی سیرکرچکی ہیں. باوجود اس کے وہ آبائی وطن نارائن پیٹھ ریاست تلنگانہ کے رہنے بسنے والوں کے لیے بے چین رہتی ہیں.

ڈاکٹر ثنا ہمیشہ اپنی والدہ اور والد سے ان کے آبائی وطن کی ترقی و خوشخالی کے مسئلوں کے حل کے لئے بے چین رہتی ہیں. ڈاکٹر ثناء کی یہ تڑپ و بے چینی انہیں اپنے والد ڈاکٹر محمد قطب الدین (ماہر نفسیات شکاگوامریکہ) سے ورثہ میں ملی ہے.

ڈاکٹر قطب الدین صاحب نے نارائن پیٹھ کو ضلع بنانے میں ناقابل فراموش کردار ادا کیا ہے۔ اس کے لیے بے دریغ پیسہ خرچ کیا ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ اپنی زندگی کی ساری جمع پونجی اس کام میں لگا دی ہے۔

"دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے.”

ڈاکٹر ثناء کے بارے میں ان کی انسانیت کے تئیں خدمات اور کوششوں کے بارے میں ان کے والد محترم ڈاکٹر قطب الدین سے بہت کچھ سنا تھا ۔ وہ بڑی متحرک اور مقناطیسی شخصیت کی مالک ہیں۔ ظلم و ناانصافی کے خلاف ہمیشہ نبرد آزما رہتی ہیں اور وہاں کئی محاذوں پر کام کر رہی ہیں.

‘یقین محکم عمل پہم محبت فاتح عالم’ کا جذبہ ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا پایا۔

ڈاکٹر قطب الدین صاحب نے نارائن پیٹھ کو ضلع بنانے میں جن لوگوں نے کوششیں کی ان کے لیے تہنیتی پروگرام منعقد کیا تھا، اسی تقریب میں ڈاکٹر ثناء سے ملاقات ہوئی.

اس اجلاس میں ڈاکٹر ثناء نے جو تقریر کی اس نے اسٹیج پر موجود تمام سیاسی لیڈروں اور سماجی خدمت گاروں کو چونکا کر رکھ دیا.. پردیس میں رہنے کے باوجود اپنے آبائی وطن اور یہاں کے رہنے والوں کے تئیں جس ہمدردی و یگانت کا اظہار انہوں نے کیا وہ ناقابل بیان حقیقت ہے.. عورتوں کے مسائل اور ان کی پریشانیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ نارائن پیٹھ کی ہر ماں، ہر بیٹی و بہن اپنے آپ کو خودکفیل بنانے کے لیے کوششیں کریں، خود روزگار کے مواقع فراہم کریں. اس کے لیے انہوں نے اپنے آبائی مکان میں خواتین کے لیے سلائی مشن سینٹر شروع کیا. اس تقریب میں یہ خادم بھی موجود تھا.

ڈاکٹر ثناء کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے، وہ ایک اعلی تعلیم یافتہ اور جہاں دیدہ خاتون ہیں ۔ دنیا کے کئی ممالک کا سفر کیا ہے. اقوام متحدہ کے علاوہ کئی بین الاقوامی حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے ساتھ بھی کام کرتی ہیں ۔

ڈاکٹر ثناء نے خواتین سے متعلق اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ

*’’نپو لین نے کہا تھا کہ تم مجھے بہترین مائیں دو ،میں تمہیں بہترین قوم دوں گا۔‘‘*

ڈاکٹر ثناء چوں کہ ایک جہاں دیدہ خاتون ہیں، وہ دنیا میں رونما ہونے والے حالات و واقعات سے بخوبی آگاہ ہیں. وہ خواتین کو لے کر کافی فکرمند و سنجیدہ بھی ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ کسی بھی قوم کی عزت و عظمت کی پہچان و شناخت اس قوم کی عورتوں، بیٹیوں اور ماؤں سے ہوتی ہیں. ان کی آغوش میں قوموں کا مستقبل پنپتا و سنورتا ہے.

عورت جہاں گھر گرہستی سنبھالنا جانتی ہے وہیں ملک کی ترقی میں اپنا حصّہ لینا بھی جانتی ہے۔ عورت کے بغیر کوئی بھی ملک و معاشرہ صحیح ڈھنگ سے ترقی نہیں کرسکتا۔ خواتین نے ہمیشہ یہ بات باور کروائی ہے کہ کوئی بھی شعبہ ہو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں اپنا نام بنا سکتی ہیں۔دنیا میں بے شمار ایسی خواتین ہیں جنھوں نے اپنی غیر معمولی ذہانت اور خداداد صلاحیتوں کی بنیاد پر دنیا کی تاریخ میں اپنا مقام اور اپنی الگ پہچان بنائی ہے اور اپنے ملک و قوم کا نام روشن کیا ہے۔

ام المومنین حضرت خدیجتہ الکبریٰ اپنے زمانہ کی سب مالدار اور کامیاب تاجر خاتون تھیں. سابقہ میں خواتین اسلام نے گھر سے لے کر میدان جنگ تک اپنے فرائض انجام دئے ہیں ہمیں بہادر خواتین اسلام کے کارناموں کو خود بھی پڑھنا ہوگا اور اپنی آغوش میں پروان چڑھنے والی نسل کو بھی اسلام کے عظمت، رواداری کے واقعات سنانے ہوں گے.

موجودہ دور میں مسلم خواتین کے سامنے کئی طرح کے چیلنجز کا سامنا ہیں.. فرقہ پرست و اسلام دشمن طاقتیں ہر طرح مسلم خواتین کو بدنام کرنے پر تلی ہوئی ہیں. کبھی حجاب کے نام پر تو کبھی طلاق کے نام پر انہیں گمراہ کیا جاتا ہے تو کبھی زور و زبردستی کے ساتھ ان کے ساتھ نازیبا حرکتیں کی جاتی ہیں.. ان سب کا مقابلہ انہیں کرنا ہوگا. اپنی جان مال، عزت و آبرو کی حفاظت خود کرنی ہوگی، حفاظت خود اختیاری کے ذرائع و طریقے اپنانے ہوں گے.. مالی و جسمانی طور سے بھی اپنے آپ کو مظبوط کرنا ہوگا.. بے حیائی اور برے کاموں سے اپنے آپ کو روکنا ہوگا. اپنی عزت و ایمان کی ہر حال میں حفاظت کرنا ہوں گی. خواتین اسلام و شریعت کے دائرے میں رہ کر اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کرسکتی ہیں لیکن دنیاوی ترقی کے لیے اخروی زندگی کو تباہ و برباد نہیں کرسکتی ہیں.

۔ قرآن نے ہمیں اس سلسلے میں ایک جامع دعا بتلائی ہے۔ہمیں کثرت سے اسے پڑھتے رہنا چاہئے۔ـ’’اے ہمارے رب ہماری بیویوں اور بچوں سے ہماری آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب فرما اور ہمیں متقیوں کا پیشوا بنا۔‘‘

جب میں نے ان سے پوچھا کہ آج کی نوجوان نسل کو آپ کا کوئی پیغام؟

 

*ڈاکٹر ثناء قطب کا پیغام نوجوانوں کے نام..*

اے میرے پیارے بھائیو اور پیاری بہنو! اس وقت ہمیں جو سب سے اہم و ضروری کام کرنا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اور انسانیت کا تحفظ ہو۔ آج کچھ انسان دشمن طاقتیں، انسانوں کو غلام بنانا چاہتی ہیں، ان کے قدرتی زرائع و وسائل پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں، اپنے ان ناپاک عزائم اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ عالمی سطح پر انسانوں کو انسانوں سے لڑا رہی ہیں.

ہمیں غریبوں، مزدوروں اور کمزوروں کی حمایت و مدد کے لیے آگے آنا ہوگا. ان کے حقوق کی لڑائی لڑنا ہوگی.

اپنے مذہبی و مسلکی فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر متحد و منظم ہونا ہوگا اور حالات کا مقابلہ کرنا ہوگا،.

*ہمارے اس عظیم ملک بھارت کو سپر پاؤر بننے سے جو باتیں مانع ہیں جیسے مذہبی منافرت و تعصب، ذات برادریوں کے نام پرت لسانی و علاقائی بنیادوں پر لڑنا، ایک دوسرے کے مذہبی مقامات و شخصیات کی توہین کرنا ان جیسی باتوں کو چھوڑنا ہوگا.*

میں مسلمانوں سے اپیل کروں گی کہ وہ قرآن کریم کے پہلے پیغام و حکم *”اقراء”* کو اپنے زندگی کا عظیم اور اہم ترین مقصد بنا لیں.

*ہمیں اپنے پیارے وطن بھارت کو دنیا کے نقشے پر بڑی آن بان اور شان سے دیکھنا ہے تو ہمیں ملک کی تعمیر و تشکیل میں، اس کی حفاظت و ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا.*

 

مظلوموں کی حمایت کرنا ہے. ظالموں کو ظلم سے روکنا ہے اور ہر اس شخص سے لڑنا ہے جو انسانوں کے درمیان نفرت اور مذہب و دھرم کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتا ہے..

خواتین کے حقوق کا تحفظ، ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرنے کو ہم اپنا اہم فریضہ سمجھیں.

کمزوروں اور بیماروں کی مدد کرنا، ان کے علاج و معالجہ کے لیے حتی المقدور کوشش کرنا ہمارا کام ہونا چاہیے.

 

*ہم ہندوستانی مسلمان خصوصاً مسلم خواتین ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں… موجودہ حالات سے بہت زیادہ مایوس و پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے.. حالات کبھی بھی آپ کے سازگار نہیں رہیں گے، آپ کو ہر طرح کی پریشانیوں سے گزا جائے گا..*

آپ کو ایمانداری، اخلاق و کردار اور اپنے پورے تشخص کے ساتھ اس ملک میں رہنا ہے اور اس کی ترقی میں بنیادی کردار ادا کرنا ہے…

*اگر ہم یہ کام کرتے ہیں تو ان شاء اللہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں گے. اللہ ہماری مدد اور نگہبانی کرے گا.*

 

*بیشک اللہ نیکی کرنے والوں کے اجر کوضائع نہیں فرماتا.

Comments are closed.