کرناٹک اسمبلی الیکشن 2023 اور کرناٹک کی مسلم سیاست

 

 

مظاہر حسین عماد عاقب قاسمی

 

قسط (3 & 2)

 

 

*کرناٹک کے مسلمان*

کرناٹک میں میسور ہے اور میسور شیر میسور ٹیپو سلطان رح سے مشہور ہے ، اور یہ وہ شخصیت ہے جو پورے بر صغیر ، ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مجاہدین آزادی کی ہیرو ہے ،

 

کرناٹک میں مسلمان بارہ اعشاریہ بانوے ( 12.92) فیصد یعنی تقریبا تیرہ فیصد ہیں ، بارہ اعشاریہ بانوے ( 12.92) فیصد کے اعتبار سے دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق کرناٹک میں مسلمانوں کی تعداد اٹہتر لاکھ اٹھانوے ہزار چھیاسی ہے ، جو اب ایک اندازے کے مطابق نوے لاکھ کے قریب ہوگی ،

 

*کرناٹک کی مسلم نمائندگی*

*لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نمائندگی*

کرناٹک میں کرناٹک کے لوک سبھا ممبران کی تعداد اٹھائیس ہے اور مسلمان اپنی آبادی کے حساب سے تین اعشاریہ اکسٹھ (3.61) لوک سبھا ایم پی کے حقدار ہیں ،

یعنی ہر پارٹی کو چاہیے کہ ہر لوک سبھا الیکشن میں تین یا چار مسلم افراد کو ٹکٹ دے اور ہر بار تین یا چار مسلمان کرناٹک سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوں ، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا ،

 

جب تک کرناٹک میں بھارتیہ جنتا کا اثر نہیں ہوا تھا تب تک کانگریس اور جنتا پارٹی وغیرہ پارٹیاں کرناٹک کی کل اٹھائیس لوک سبھا سیٹوں میں سے دو یا تین سیٹوں پر مسلم امیدوار اتارتی تھیں اور ان میں سے ایک یا دو یا تینوں کامیاب بھی ہوتے تھے ،

راجیہ سبھا کی کل بارہ سیٹوں میں ایک یا دو سیٹیں مسلمانوں کے لیے خاص ہوتی تھیں ،

کانگریس کی سیاست کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سو فیصد نمائندگی تو کبھی نہیں دے سکی ، مگر اس نے ساٹھ یا ستر فیصد نمائندگی دی ہے یا دینے کی کوشش کی ہے ،

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط ہونے کے بعد مسلمانوں کو دینے کے لیے اس کے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے ، اس کے پاس ایک انار ہوتا ہے اور سو بیمار ہوتے ہیں ، یعنی سیٹ ایک ہوتی ہے اور اس کے امیدوار کئی ہوتے ہیں ،

 

کرناٹک کے سابق مسلم ممبران لوک سبھا

انیس سو باون سے دو ہزار چار تک کرناٹک سے ایک یا دو یا تین مسلمان کامیاب ہوئے ہیں ، بڑے افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات دو ہزار نو ، دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں کرناٹک سے ایک مسلمان بھی کامیاب نہیں ہوا ہے ،

 

 

اب ہم کرناٹک کے سابق ممبران اسمبلی کا اختصارا یا تفصیلا تذکرہ کریں گے ،

 

انیس سو باون میں موجودہ کرناٹک سے کامیاب مسلم لوک سبھا رکن

 

1- *جناب ڈاکٹر شوکت اللہ کرناٹک کے مسلمان

کرناٹک میں میسور ہے اور میسور شیر میسور ٹیپو سلطان رح سے مشہور ہے ، اور یہ وہ شخصیت ہے جو پورے بر صغیر ، ہندوستان ، پاکستان ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے مجاہدین آزادی کی ہیرو ہے ،

 

کرناٹک میں مسلمان بارہ اعشاریہ بانوے ( 12.92) فیصد یعنی تقریبا تیرہ فیصد ہیں ، بارہ اعشاریہ بانوے ( 12.92) فیصد کے اعتبار سے دو ہزار گیارہ کی مردم شماری کے مطابق کرناٹک میں مسلمانوں کی تعداد اٹہتر لاکھ اٹھانوے ہزار چھیاسی ہے ، جو اب ایک اندازے کے مطابق نوے لاکھ کے قریب ہوگی ،

 

کرناٹک کی مسلم نمائندگی

لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں نمائندگی

کرناٹک میں کرناٹک کے لوک سبھا ممبران کی تعداد اٹھائیس ہے اور مسلمان اپنی آبادی کے حساب سے تین اعشاریہ اکسٹھ (3.61) لوک سبھا ایم پی کے حقدار ہیں ،

یعنی ہر پارٹی کو چاہیے کہ ہر لوک سبھا الیکشن میں تین یا چار مسلم افراد کو ٹکٹ دے اور ہر بار تین یا چار مسلمان کرناٹک سے ممبر لوک سبھا منتخب ہوں ، مگر ایسا کبھی نہیں ہوا ،

 

جب تک کرناٹک میں بھارتیہ جنتا کا اثر نہیں ہوا تھا تب تک کانگریس اور جنتا پارٹی وغیرہ پارٹیاں کرناٹک کی کل اٹھائیس لوک سبھا سیٹوں میں سے دو یا تین سیٹوں پر مسلم امیدوار اتارتی تھیں اور ان میں سے ایک یا دو یا تینوں کامیاب بھی ہوتے تھے ،

راجیہ سبھا کی کل بارہ سیٹوں میں ایک یا دو سیٹیں مسلمانوں کے لیے خاص ہوتی تھیں ،

کانگریس کی سیاست کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مسلمانوں کو سو فیصد نمائندگی تو کبھی نہیں دے سکی ، مگر اس نے ساٹھ یا ستر فیصد نمائندگی دی ہے یا دینے کی کوشش کی ہے ،

بھارتیہ جنتا پارٹی کے مضبوط ہونے کے بعد مسلمانوں کو دینے کے لیے اس کے پاس کچھ ہوتا نہیں ہے ، اس کے پاس ایک انار ہوتا ہے اور سو بیمار ہوتے ہیں ، یعنی سیٹ ایک ہوتی ہے اور اس کے امیدوار کئی ہوتے ہیں ،

 

*کرناٹک کے سابق مسلم ممبران لوک سبھا*

انیس سو باون سے دو ہزار چار تک کرناٹک سے ایک یا دو یا تین مسلمان کامیاب ہوئے ہیں ، بڑے افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات دو ہزار نو ، دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں کرناٹک سے ایک مسلمان بھی کامیاب نہیں ہوا ہے ،

 

 

اب ہم کرناٹک کے سابق ممبران اسمبلی کا اختصارا یا تفصیلا تذکرہ کریں گے ،

 

*انیس سو باون میں موجودہ کرناٹک سے کامیاب مسلم لوک سبھا رکن*

موجودہ کرناٹک سے انیس سو باون میں لوک سبھا انتخابات میں صرف ایک مسلم امیدوار جناب ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم کامیاب ہوئے تھے،

 

*جناب ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری صاحب ،*

 

جناب ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری (12/ مئی 1908- 29/ دسمبر 1972) ایک ہندوستانی سیاست داں، سفارت کار، اور طبیب تھے ،

جناب ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری صاحب انیس سو باون میں بیدر لوک سبھا حلقے سے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اس زمانے میں بیدر حیدرآباد ریاست کا حصہ تھا ، یکم نومبر انیس سو چھپن کو بیدر شہر اور اس کے اس پاس کے علاقے ریاست میسور میں شامل ہوگئے اور بیدر کے کچھ حصے آندھرا پردیش میں شامل ہوگئے ، انیس سو ستاون میں بیدر لوک سبھا حلقہ ختم کردیا گیا تھا ، اس حلقے کو انیس سو باسٹھ میں دوبارہ بحال کیا گیا اور اب تک ہے ، بیدر لوک سبھا حلقہ انیس سو باسٹھ سے دو ہزار چار تک ایس سی حلقہ تھا ، یعنی وہاں سے صرف درج فہرست طبقات کے افراد ہی انتخاب لڑ سکتے تھے ، مسلمان یا اعلی طبقات کے ہندو وہاں سے انتخاب نہیں لڑ سکتے تھے ، دو ہزار نو سے یہ حلقہ جنرل ہے ، مگر پڑوسی حلقہ گلبرگہ کو دو ہزار نو سے ایس سی حلقہ بنادیا گیا ہے ، بیدر ضلع کی کل چھ نشستیں اور گلبرگہ کی دو نشستیں بیدر لوک سبھا حلقے کے تحت آتی ہیں ،

ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری صاحب کو بانوے ہزار ایک سو پانچ ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار آر وی بدت کو صرف اڑتیس ہزار سات سو دو ووٹ ملے تھے ،

وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی گذارش پر ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم نے روسڑا اتر پردیش سے انیس سو سنتاون میں انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا ، مگر سی پی آئی کے امیدوار سرجو پانڈے سے ہار گئے ،

سرجو پانڈے کو چوہتر ہزار پچانوے ووٹ حاصل ہوئے تھے اور ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم کو تریسٹھ ہزار ستہتر ووٹ ملے تھے ،

 

*ولادت و تعلیم*

ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ مرحوم 16 جون 1908 کو یوسف پور محمد آباد ، غازی پور ، اتر پردیش میں پیدا ہوئے ۔ ان کے والد امجد اللہ شاہ مرزا پور اتر پردیش میں ڈسٹرکٹ جج تھے ۔

ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ مرحوم نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ انہوں نے جنیوا ہائی اسکول، سوئٹزرلینڈ اور یونیورسٹی آف پیرس ، فرانس سے سائنس اور ڈاکٹر آف میڈیسن میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی ۔

 

انہیں انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر مختار احمد انصاری مرحوم (25/دسمبر 1880- دس مئی 1936) نے گود لیا تھا ۔

 

*جد جہد آزادی اور عملی زندگی*

ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم نے1937 میں فوارہ کے قریب چاندنی چوک دہلی میں طب کی پریکٹس شروع کی۔

انہوں نے پیرس میں ایک ایسے وقت میں تعلیم حاصل کی جب یورپی فکری ماحول سوشلزم اور فسطائیت کے خلاف اپنی جدوجہد سے بھرا ہوا تھا، دوسری جنگ عظیم شروع ہونے والی تھی،

ڈاکٹر شوکت اللہ مرحوم نے ہندوستان واپسی سے قبل سوشلزم کا مطالعہ کر لیا تھا اور وہ سوشلزم کی کئی خوبیوں کے مداح تھے ۔

 

1937میں، ہندوستان واپسی پر ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم اپنے چچا ڈاکٹر مختار انصاری کے انتقال کے بعد کرائے کے مکان میں 41-راج پور روڈ پر منتقل ہو گئے۔ راج پور روڈ پر واقع شوکت ہاؤس سیاسی کارکنوں اور مجاز اور سوریا کانت ترپاٹھی جیسے ترقی پسند مصنفین کی پناہ گاہ تھا ۔ سوشلزم کے تئیں اپنی وابستگی کی وجہ سے جناب ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم نے باقاعدگی سے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کی مالی مدد کی۔

1939 میں جب پاکستان کا مطالبہ سامنے آیا اور بائیں بازو کی جماعت نے اس کی حمایت کی تو وہ سی پی آئی سے الگ ہو گئے ۔ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری صاحب نے قوم پرست مسلمانوں کو آزاد مسلم بورڈ کے بینر تلے منظم کیا ، اے ایم بی کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے دو قومی نظریہ کے تصور اور اس کے قیام پاکستان کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔

 

ایک ہندوستانی آزادی کے کارکن کے طور پر انہوں نے عدم تعاون کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ۔ آزادی حاصل کرنے کے بعد وہ 1948 میں ترکی کے انقرہ میں ہندوستانی سفارت خانے میں کونسلر کے عہدے پر مقرر ہوئے۔

1951 میں، ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم ریاست حیدرآباد کے بیدر سے پہلی لوک سبھا کے لیے منتخب ہوئے۔ پارلیمنٹ کے رکن کے طور پر ، انہوں نے امور خارجہ کی مشاورتی کمیٹی میں خدمات انجام دیں۔

1954 اور 1955 میں وہ ہندوستانی وفد کے رکن کے طور پر اقوام متحدہ گئے ۔ 1957 میں، ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری بین الاقوامی کنٹرول کمیشن کے چیئرمین کے طور پر لاؤس گئے۔.

جولائی 1958 سے ستمبر 1960 تک انہوں نے ویتنام میں انٹرنیشنل کنٹرول کمیشن میں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 1955 میں جنیوا میں بین الاقوامی لیبر کانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ 1960 میں انہیں سوڈان اور کانگو میں ہندوستان کا سفیر مقرر کیا گیا۔ انہوں نے 31 جنوری 1968 کو اڑیسہ کے گورنر کا عہدہ سنبھالا اور 1971 تک اس عہدے پر فائز رہے ،

29/ دسمبر 1972 کو اللہ کو پیارے ہوگئے ،

 

*جمعیت کا خطبہ استقبالیہ*

ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری کا تعلق جمعیت علمائے ہند سے بھی تھا ، ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم کی قابلیت کا اندازہ اسی سے لگایا جاسکتا ہے ، کہ تین تا پانچ مارچ انیس سو انتالیس کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے گیا رہویں اجلاس کا خطبہ استقبالیہ ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری نے پیش کیا تھا ، اس وقت ان کی عمر اکتیس سال بھی نہیں ہوئی تھی ، ابھی اکتیس سال پورے ہونے میں دو مہینے نو دن باقی تھے ، ان کی پیدائش بارہ مئی دو ہزار آٹھ کو ہوئی تھی ، اور ایسا بھی نہیں ہے کہ جمعیت علمائے ہند کے پاس افراد کی کمی تھی ، جمیعت علمائے ہند کے صدر مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب رح (1875- 31/ دسمبر 1952) تھے اور جمعیت علمائے ہند کے بڑے قائدین میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی رح (چھ اکتوبر 1879- پانچ دسمبر 1957)جیسے بڑے بڑے علماء اور مجاہدین آزادی تھے ،

ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم کے اس عظیم اجلاس کے خطبہ استقبالیہ پیش کرنے کے واقعے سے جہاں ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری مرحوم کی صلاحیتوں کا اندازہ ہوتا ہے ، وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی کہ اکابر جمعیت علمائے ہند بڑے اعلی ظرف ، وسیع الخیال اور اصاغر نواز تھے ،

 

ڈاکٹر شوکت اللہ انصاری صاحب کا خطبہ اکیس صفحات پر مشتمل ہے ، اور یہ خطبہ بہت مفید ہے اور اپنے اندر بہت ساری مفید معلومات کو سمیٹے ہوئے ہے ،

ریختہ کی سائٹ پر یہ خطبہ دستیاب ہے.

 

*انیس سو ستاون میں کرناٹک سے منتخب مسلم رکن لوک سبھا*

انیس سو ستاون میں ریاست میسور ( کرناٹک ) سے صرف ایک مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے تھے،

 

چتردرگہ سے جے محمد امام صاحب پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اس زمانے میں میسور ریاست میں لوک سبھا کی کل تیئیس نشستیں تھیں ،

 

*جے محمد امام صاحب*

جے محمد امام صاحب (15 فروری 1897، جگلور – 3 جنوری 1983) چتردرگا لوک سبھا حلقے سے انیس سو ستاون میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر اور انیس سو سڑسٹھ میں سوتنترا پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ۔ انہیں 129848؛ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف انڈین نیشنل کانگریس کے ایس رنگا راؤ کو 118659 ووٹ ملے تھے ،

 

*ابتدائی اور تعلیمی زندگی*

جے محمد مام صاحب 15 فروری 1897 کو جگلور ، کرناٹک میں پیدا ہوئے اور جے بڑے صاحب ان کے والد تھے۔ انہوں نے سنٹرل کالج، بنگلور اور مدراس لا کالج سے تعلیم مکمل کی ، انہوں نے بیچلر آف آرٹس اور بیچلر آف لاء کی ڈگریاں حاصل کیں،

 

*سیاسی زندگی*

1928 میں وہ میسور یونیورسٹی کے سینیٹ کے لیے منتخب ہوئے ۔

1930 میں وہ میسور ریاست کی مقننہ (بعد میں قانون ساز اسمبلی) کے رکن بنے۔

وہ 1957 تک میسور کی اسمبلی کے رکن رہے ۔ سیاسی طور پر، وہ آل انڈیا مسلم لیگ کے رکن تھے ۔

1933 اور 1936 کے درمیان انہوں نے جگلور میونسپل کونسل کے پہلے غیر سرکاری صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ وہ 1936 اور 1940 کے درمیان چٹل ڈرگ ڈسٹرکٹ بورڈ کے صدر رہے۔

 

انہوں نے جون 1941 – 1945 کے درمیان میسور ریاست کی حکومت میں تعلیم، ریلوے اور تعمیرات عامہ کے محکموں کے وزیر کے طور پر خدمات انجام دیں ۔

 

1947 میں انہوں نے مسلم لیگ چھوڑ دی۔ ہندوستان کی آزادی کے بعد، وہ کسان مزدور پرجا پارٹی کے رکن بن گئے ،

جناب محمد امام صاحب نے 1948 سے 1957 تک میسور قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر خدمات انجام دیں،

 

جے محمد امام صاحب 1957 کے عام انتخابات میں لوک سبھا ( ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں) کے لیے منتخب ہوئے تھے ۔ وہ چٹل ڈرگ کے حلقے میں پرجا سوشلسٹ پارٹی کے امیدوار کے طور پر کھڑے تھے ، انہوں نے 129,848 ووٹ (حلقہ میں ووٹوں کا 52.25%) حاصل کیا۔ دوسری لوک سبھا میں وہ چیئرمین پینل کے رکن تھے۔ 1959 میں انہوں نے سواتنتر پارٹی میں شمولیت اختیار کی ۔

 

1962 کے ہندوستانی عام انتخابات میں ، انہوں نے بیلاری لوک سبھا سیٹ سے سواتنتر پارٹی کے امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا۔ وہ 137,448 ووٹ (48.02%) کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے کامیاب امیدوار ٹی سبرامنیم کو 148865 ووٹ ملے تھے ، محمد امام صاحب 11317 ووٹوں سے ہار گئے تھے ،

انہوں نے 1967 کے ہندوستانی عام انتخابات میں چٹالڈرگ (جس کا نام اب چتردروگا رکھا گیا ہے) کی نشست 164,548 ووٹ (50.45%) حاصل کر کےدوبارہ حاصل کی ،

 

وہ 1971 کے ہندوستانی عام انتخابات میں چتردروگا سیٹ ہار گئے ۔ وہ 81,303 ووٹ (24.16%) کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ انڈین نیشنل کانگریس کے کامیاب امیدوار کونداجی بسپا کو 251005ووٹ ملے تھے ، محمد امام صاحب 169702 ووٹوں کے بڑے فرق سے ہار گئے تھے ، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بنگلہ دیش بنانے اور پاکستان کے دو ٹکڑے کر دینے کی وجہ سے اندر گاندھی درگا بن گئی تھیں اور انہیں درگا کا خطاب بعد میں وزیراعظم ہند بننے والے اور اس وقت کے جن سنگھ کے سب سے بڑے لیڈر اٹل بہاری واجپائی نے دیا تھا ،

ریاست میسور کی تمام ستائیس لوک سبھا نشستیں انڈین نیشنل کانگریس کو ملی تھیں ،

 

 

*جے محمد امام صاحب ان عہدوں پر فائز ہوئے*

1۔ 1928 1940 یونیورسٹی کونسل اور سینیٹ کے رکن (پہلی مدت).

2. 1933 1948 میسور قانون ساز کونسل کے رکن ۔

3. 1936 1940 ضلع چتردرگا ضلع بورڈ کے صدر۔

4. 1941 1945 وزیر تعلیم ریلوے اور تعمیرات عامہ میسور حکومت۔

5۔ 1946 1951 یونیورسٹی کونسل اور سینیٹ کے رکن (دوسری مدت)

6۔ 1952 1957 میسور قانون ساز اسمبلی کے رکن ۔

قائد حزب اختلاف۔

7۔ 1957 1962 چتردرگا سے دوسری لوک سبھا میں ایم پی (پہلی مدت) ۔

لوک سبھا میں چیئرمین پینل کے رکن۔

8۔ 1967 1970 چتردرگا سے چوتھی لوک سبھا میں ایم پی (دوسری مدت) ۔

 

 

*کسان مزدور پرجا پارٹی سوشلسٹ پارٹی اور پرجا سوشلسٹ پارٹی*

جون انیس سو اکیاون میں انڈین نیشنل کانگریس کے سابق صدر اور سابق جنرل سکریٹری جیوترام بھگوان داس کرپلانی کی قیادت میں انڈین نیشنل کانگریس کے منحرف افراد نے کسان مزدور پرجا پارٹی کی بنیاد رکھی۔ اس کے دو رہنما، پرفل چندر گھوش اور تنگوتوری پرکاسم بالترتیب مغربی بنگال اور مدراس کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں ۔

اس پارٹی نے 1951-52 کے ہندوستانی عام انتخابات میں حصہ لیا ، جو ہندوستان میں اس طرح کے پہلے انتخابات تھے۔

اس پارٹی نے سولہ ریاستوں کے 145لوک سبھا حلقوں میں امید واروں کو نامزد کیا، لیکن صرف دس نشستوں پر کامیابی حاصل کی، چھ امیدوار ریاست مدراس سے منتخب ہوئے ، اور ریاست میسور ، دہلی ، اتر پردیش اور وندھیہ پردیش سے ایک ایک امیدوار۔، اس پارٹی نے کل پانچ اعشاریہ اسی فیصد (5.80) فیصد ووٹ حاصل کیا تھا ۔

خود کرپلانی ضلع فیض آباد (نارتھ ویسٹ) کے حلقے سے ہار گئے، لیکن ان کی اہلیہ سوچیتا کرپلانی نئی دہلی سے منتخب ہوئیں ۔ کسان مزدور پرجا پارٹی نے ریاستی قانون ساز اسمبلیوں میں 77 نشستیں حاصل کیں۔ ستمبر 1952 میں یہ پارٹی بہار کے عظیم لیڈر جن نایک جے پرکاش نارائن کی سوشلسٹ پارٹی میں ضم ہو گئی اور ان دونوں پارٹیوں کے اتحاد کو پرجا سوشلسٹ پارٹی کا نام دیا گیا ۔ مگر اس اتحاد کا کوئی فائدہ نہیں ہوا انیس سو اکیاون باون کے لوک سبھا انتخابات میں کسان مزدور پرجا پارٹی کو نو سیٹیں اور سوشلسٹ پارٹی کو بارہ کل اکیس سیٹیں حاصل ہوئی تھیں ، مگر انیس سو ستاون میں ان دونوں پارٹیوں کے اتحاد پرجا سوشلسٹ پارٹی کو صرف انیس سیٹیں حاصل ہوئیں ،

کرناٹک سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر صرف جناب امام صاحب ہی کامیاب ہوئے تھے ،

 

____________________________________

 

*انیس سو باسٹھ میں کرناٹک سے منتخب مسلم رکن لوک سبھا*

انیس سو باون میں ریاست میسور ( کرناٹک ) سے صرف ایک مسلم ، دھارواڑ جنوبی سے فخر الدین حسین محسن صاحب انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ، اس زمانے میں میسور ریاست میں لوک سبھا کی کل چھبیس نشستیں تھیں ،

 

*فخر الدین حسین محسن صاحب*

فخر الدین حسین محسن صاحب (23 جنوری 1923 – 3 ستمبر 1996)، جنہیں اکثر ایف ایچ محسن کے مختصر نام سے یاد کیا جاتا ہے ،وہ ریاست کرناٹک سے تعلق رکھنے والے ایک ہندوستانی سیاست دان اور مجاہد آزادی تھے۔ وہ پانچ بار ممبر پارلیمنٹ (ایم پی) رہے، اور ہندوستان کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا میں دھارواڑ ساؤتھ کی نمائندگی کی ، وہ انیس سو اکہتر سے انیس سو ستہتر تک وزیر اعظم اندرا گاندھی کی دوسری وزارت میں مرکزی وزیر داخلہ بھی تھے ، اور یہ مرکزی وزیر بننے والے کرناٹک کے پہلے مسلمان تھے ،

 

*ابتدائی زندگی اور پس منظر*

فخر الدین حسین محسن صاحب کی پیدائش 23 جنوری 1923 کو دھارواڑ ضلع کے ہیریکرور تعلقہ کے ہیرےماداپور گاؤں میں ہوئی ۔ حسین صاب ان کے والد تھے۔ انہوں نے ایل ایل بی کرناٹک کالج دھارواڑ اور سائکس لاء کالج کولہاپور سے مکمل کیا تھا ۔

 

*تحریک آزادی*

فخر الدین حسین محسن صاحب نے اپنی نوجوانی اور طالب علمی کے زمانے میں طلبہ کو منظم کرکے تحریک آزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

 

*فخر الدین صاحب ان عہدوں پر فائز ہوئے۔*

1۔ 1956 1957 میسور قانون ساز کونسل میں ایم ایل سی ۔

2. 1957 1962 کرناٹک قانون ساز اسمبلی میں ایم ایل اے ۔

3. 1962 1967 دھارواڑ جنوبی سے تیسری لوک سبھا میں ایم پی (پہلی مدت) ۔

4. 1967 1970 دھارواڑ جنوبی سے چوتھی لوک سبھا میں ایم پی (دوسری مدت) ۔

5۔ 1971 1977 دھارواڑ جنوبی سے پانچ ویں لوک سبھا میں ایم پی (تیسری مدت) ۔

6- 1971-1977 مرکزی نائب وزیر داخلہ۔

7۔ 1977 1980 دھارواڑ جنوبی سے چھٹی لوک سبھا میں ایم پی (چوتھی مدت) ۔

8۔ 1980 1984 دھارواڑ ساؤتھ سے ساتویں لوک سبھا میں ایم پی (5ویں مدت) ۔

لوک سبھا میں ہاؤس کمیٹی کے چیئرمین (1980)

 

*وفات*

ان کا انتقال 3 ستمبر 1996 کو 73 سال کی عمر میں بنگلور میں ہوا ۔

 

_______________________

 

*انیس سو سڑسٹھ میں کرناٹک سے منتخب مسلم ارکان لوک سبھا*

انیس سو سڑسٹھ میں ریاست میسور (کرناٹک) سے تین مسلمان رکن لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے،

اور یہ پہلا موقعہ تھا جب ریاست میسور (کرناٹک) سے تین مسلمان رکن لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے، دوسری بار انیس سو اسی میں ریاست میسور (کرناٹک) سے تین مسلمان رکن لوک سبھا منتخب ہونے میں کامیاب ہونے تھے ،

اس کے بعد سے اب تک ایسا تیسرا سنہرا موقع نہیں آیا ہے ،

دو ہزار نو ، دو ہزار چودہ اور دو ہزار انیس میں کرناٹک سے ایک بھی مسلمان ممبر لوک سبھا منتخب نہیں ہوسکا ہے

انیس سو سڑسٹھ میں ریاست میسور (کرناٹک) سے رکن لوک سبھا منتخب ہونے والے حضرات یہ ہیں

1- جے محمد امام صاحب سوتنترا پارٹی کے ٹکٹ پر چتردرگہ لوک سبھا حلقے سے کامیاب ہوئے تھے ، ان کو 164548 ووٹ حاصل ہوئے تھے ، ان کے قریبی حریف انڈین نیشنل کانگریس کے ایس ویریا بسپا کو 115051 ووٹ ملے تھے ،محمد امام صاحب انیس سو ستاون میں بھی اسی حلقے سے پرجا سوشلسٹ پارٹی کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے، ان کے متعلق تفصیلات اوپر گذرچکی ہیں،

2- فخر الدین حسین محسن صاحب دھارواڑ جنوبی سے لگاتار دوسری بار انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے ،

فخرالدین صاحب کو 147272 ووٹ ملے تھے اور ان کے قریبی حریف پرجا سوشلسٹ پارٹی کے سی عبد الرحیم کو 82641 ووٹ ملے تھے ،

ان کے متعلق تفصیلات اوپر گزرچکی ہیں ،

 

3- این ایم نبی صاحب بیلگام سے انڈین نیشنل کانگریس کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے تھے، ان کو 192246 ووٹ حاصل ہوئے تھے ، ان کے قریبی حریف آر پی آئی کے کے ڈی اپا کو 69729 ووٹ ملے تھے ،

این ایم نبی صاحب کے متعلق اس سے زیادہ تفصیلات مجھے معلوم نہیں ہیں.

 

________________________________________________________________________

(جاری ہے)

Comments are closed.