میرا گاوں اور اس کی عید، علاقہ میں عید الاضحی کا پہلا دن پر امن گزرا

 

میرا مطالعہ

مولانا ڈاکٹر ابوالکلام قاسمی شمسی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

آج 10/ ذی الحجہ عید الاضحی کا پہلا دن ہے ، عیدین کے موقع پر میں اپنے گاؤں آجاتا ہوں ، میرے گاؤں کا نام دوگھرا ہے ، یہ دربھنگہ ضلع کے جالہ تھانہ میں واقع ہے ، مظفرپور ۔۔۔دربھنگہ فور لائن روڈ سے اتربیل چوک سے دکھن کی جانب ایک روڈ نکلتا ھے ، جو سنگھواڑہ ، بھروارہ اور جالے سے گزرتے ہوئے گھوگھراہا کے پاس سیتامڑھی ۔۔۔۔۔مدھوبنی روڈ سے مل جاتا ھے ، اسی روڈ پر اتر بیل چوک سے تقریباً 25/ کیلومیٹر پر دوگھرا اور اس سے ایک کیلومیٹر یعنی 26/ کیلومیٹر پر جالہ واقع ہے ، یہ علاقہ ہر زمانہ میں مردم خیز رہا ہے ، اسی علاقہ میں حضرت مولانا بشارت کریم رح کا گاؤں گرہول شریف واقع ہے ، اسی علاقہ سے حضرت مولانا عبد العزیز بسنتی رح کا تعلق تھا ، اسی علاقہ میں حضرت مولانا عبد الاحد رح ، مولانا مجاہد الاسلام قاسمی اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کا بھی مکان ہے ، اسی علاقہ میں مولانا خیر رحمانی کا گاؤں قاضی بہیرہ بھی ہے ، اسی میں علاقہ میں دوگھرا گاؤں بھی واقع ہے ، اسی گاؤں میں حافظ سخاوت ، مولانا عطاء مولی جیسے بزرگ نے بھی قیام کیا ،اور اس گاؤں کو اپنے فیض سے نوازا ، یہ علماء ، دانشوران اور ادباء کی بستی ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے علمی فیض کو جاری رکھے

اسی دوگھرا گاؤں میں میرا بھی مکان ھے ، اس لئے اس سے فطری محبت ہے ، سال میں ایک دو مرتبہ یہاں ضرور آتا ہوں ، مجھے اس کی مٹی سے محبت ہے ،اور مجھ پر اس کا حق بھی ہے

جب یہاں آتا ہوں ،تو یہاں کے سماجی امور اور سماجی خدمات میں ضرور حصہ لیتا ہوں ، اصلاح معاشرہ یہ سماجی زندگی کا اہم حصہ ہے ، اس پر لوگوں کے ساتھ مل کر کام ضرور کرتا ہوں ، یہ حقیقت ہے کہ گاؤں دیہات میں بھی اب پہلے جیسی بات نہیں رہی ، لیکن اسی میں کام کے لئے راستہ نکالتا ہوں ، اللہ کا شکر ہے کہ لوگ بھی ساتھ دیتے ہیں ،

چند دنوں پہلے 26/ جون کو عید الاضحی کے موقع پر پٹنہ سے دوگھرا آیا ، پٹنہ شہر ہے ، وہاں لوگوں میں بیداری ہے ، اس لئے یونیفارم سول کوڈ پر رہنمائی کو لوگوں نے خوب اہمیت دی ہے ، لیکن جب علاقہ کے گاؤں دیہات کا جائزہ لیا تو کچھ کمی نظر آئی ، تو میں نے بھی اپنے گاؤں میں اس کے لئے کام کیا ،اور علاقہ کے علماء کو بھی اس جانب متوجہ کیا ، گاؤں کی مساجد میں اور عیدگاہ میں بھی لا کمیشن کو مشورہ بھیجنے کے لئے رہنمائی کی ، اللہ تعالیٰ لوگوں میں بیداری عام کردے

9/ ذی الحجہ کو مغرب کی نماز کے بعد دوگھرا ویلفیر سوسائٹی کی میٹینگ رکھی گئی ، ویلفئر سوسائٹی کے سلسلہ میں ضروری باتیں ہوئیں ، سوسائٹی کو متحرک و فعال بنانے پر غور و فکر کیا گیا ، اس کے اکاؤنٹ کھلوانے پر بھی تجویز منظور کی گئی

جب پٹنہ سے گاؤں آیا، تو گرمی بہت زیادہ تھی ، دھوپ تیز تھی ، مگر اللہ کا فضل ہوا کہ دھیرے دھیرے موسم کا مزاج بدلا اور کل 9/ ذی الحجہ سے بوندا باندی شروع ہوگئی ، آج 10/ ذی الحجہ کو صبح کے وقت موسم صاف ہو گیا ، دوگھرا مشرقی عید گاہ میں عید الاضحی کی نماز کا وقت 6.30 تھا ، گاؤں کے لوگ تکبیر پڑھتے اطمینان وسکون کے ساتھ عیدگاہ میں حاضر ہوئے ، میں نے نماز سے پہلے یکساں سول کوڈ پر لاکمیشن کو مشورہ بھیجنے کی جانب رہنمائی کی ، پھر نماز ادا کی گئی ،نماز ختم ہوئی کہ باران رحمت کا نزول شروع ہوا ، کبھی زوردار تو کبھی دھیمی رفتار سے بارش ہوتی رہی ، یہ سلسلہ دن بھر چلتا رہا ، ابھی درمیان قربانی بھی ہوگئی اور اللہ کا فضل اور شکر ہے کہ پورے علاقہ میں قربانی کا یہ تہوار پر امن طور پر گزر گیا ، ابھی تقریبا 7.10 بجے مغرب کے بعد کا وقت ھے ، کہیں سے کوئی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ھے ، اللہ کا شکر ہے

اس موقع پر اس حقیقت کا اظہار ضروری ہے کہ صوبہ کے ماحول کو پر امن بنائے رکھنے میں حکومت بہار کا اہم رول رہتا ھے ، آج عیدالاضحیٰ کا پہلا دن پر امن گزرا ، یہ اللہ کا فضل ہے اور حکومت بہار کا اقدام قابل ستائش ہے کہ وہ تہواروں کو پرامن گزارنے کے لیے پابند رہتی ہے ، اللہ تعالیٰ اس جذبہ میں مزید اضافہ فرمائے

اس موقع پر ملی تنظیموں کا کردار بھی اہم ہوتا ھے کہ تنظیموں کی جانب سے مسلم سماج کو تہواروں کو امن و شانتی سے گزارنے کی تلقین کی جاتی ہے ،اور لوگ ان کی رہنمائی کو قبول کرتے ہیں

سب سے اہم اور مثالی ہمارا دین اور ہمارا تہوار ہے کہ نہ اس میں کھیل تماشہ ہے اور نہ رقص و سرود ، تہواروں کے موقع پر بھی مسلمانوں کو اللہ کی عبادت کا حکم دیا گیا ہے ، وہ عیدگاہ یا مسجد جاتے ہیں تو تکبیر کہتے ہوئے جاتے ہیں اور جب واپس لوٹتے ہیں تو تکبیر کہتے ہوئے واپس لوٹتے ہیں ، کیا ہی نرالی شان ہے ، اللہ تعالیٰ اس شان کو برقرار رکھے ، جزاکم اللہ خیرا

Comments are closed.