ہمیں ہے حکم اذاں لاالہ الااللہ
مظفراحسن رحمانی
ایڈیٹر بصیرت آن لائن
عید قرباں کا آج تیسرا دن ہے ،ہم نے اور آپ نے اپنے جانوروں کی قربانی کرکے یقینا سنت ابراہیمی کو ژندہ رکھنے کی کوشش کی ہے ،اللہ سب کی قربانیوں کو قبول و مقبول فرمائے. لیکن کیا ہم سب اس کے بعد بھی قربانی کے جذبے کے ساتھ اپنی زندگی گذارنے کا عہد کرتے ہیں ،
اگر ہاں تو پھر
آئیے ہم سب اس بات کا عہد لیں کہ جب جب اللہ ہم سے دین کی بقا ،شریعت کی حفاظت ، قرآنی احکامات کی پاسداری، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قانون کی بالادستی کا مطالبہ کرے گا تو ہم سب اپنی جان ،مال، اولاد اور اہل و عیال کے ساتھ آگے بڑھ کر قربانی دینے کے لئے تیار کھڑے رہیں گے. آپ کو لگ رہا ہوگا کہ یہ باتیں شاید جذباتی ہیں ،لیکن تھوڑی دیر کے لئے سر جھکا کر بیٹھیں اور سوچیں تو آپ سمجھ پائیں گے کہ یہ باتیں جذباتی نہیں بلکہ سب سے زیادہ سنجیدہ اور فکرمندی کی ہیں.
اس وقت اس ملک میں ہم سے ہمارا رب اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ فسطائی طاقتوں کے سامنے سینہ سپر ہوکر پوری قوت اور طاقت کے ساتھ مسلم پرسنل لا کی حفاظت کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنی زندگی کے نذرانے کے ساتھ حکومت کو للکارتے ہوئے اس بات کو کہیں کہ ہمیں ہمارا ملک سب سے زیادہ عزیز ہے اور ہم اپنے اس عزیز ملک میں اپنے تشخص اور شریعت کے ساتھ زندہ رہنے کا عہد کرتے ہیں.
یاد رکھئے !
موجودہ وقت میں سب سے بڑا اور سب سے اہم کام یہ ہیکہ شریعت اسلامی کو سب سے پہلے ہم اپنی زندگی میں داخل کریں اور اس ارادے اور عزم مصمم کے ساتھ داخل کریں کہ کچھ بھی ہو ہم اپنی زندگی سے شریعت کو کبھی نکلنے نہیں دینگے، جب آپ پوری قوت ارادی کے ساتھ اس بات کے لئے تیار ہو جائیں گے تو پھر یہ کہنا اچھا لگے گا کہ اللہ کی کسی بھی بات میں ہمیں تبدیلی منظور نہیں ہے،
غور کرنے کی بات!
اس وقت وطن عزیز کے فرعونی اور طاغوتی مرکزی حکومت نے "یکساں سول کوڈ”کا بہت حساس مسئلہ ہم سب کے سامنے لاکھڑا کیا ہے اور ملک کا سب سے مغرور شخص عوامی پلیٹ فارم سے کھل کر کہتا ہے کہ ہم اس ملک میں”یونیفارم سول کوڈ "(UCC)کو نافذ کر کے ہی دم لیں گے.
عجب یہ نہیں ہے کہ وہ کھلے عام یہ بات بول رہا ہے ،عجب یہ ہیکہ ہم اب بھی تماش بین کی طرح کھڑے ہوکر اس سپیرے کو دیکھ رہے ہیں جس کی ٹوکری سے صرف سانپ ہی نکلے گا.
لاکمیشن نے ملک کے تمام شہریوں سے رائے مانگی ہے کہ کیا اس ملک میں "یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے ؟
جس کے لئے ایک ماہ کی مہلت دیا ہے ،آپ لاکمیشن کے ویب سائٹس پر جاکر دیکھیں تو آپ اپنی انگلیوں پر بچے ہوئے دنوں کو گن سکیں گے، لیکن مسلم پرسنل لا بورڈ جو ہندوستانی مسلمانوں کا متحدہ پلیٹ فارم ہے اور اس کے صدر اس وقت ملک کے باوقار اور سنجیدہ عالم دین، فقیہ عصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم ہیں نے تمام مسلمانوں سے پرزور انداز میں اپیل کیا ہے کہ ہم لاکمیشن تک اپنی رائے پہونچانے میں جلدی کریں.
بہار میں حضرت سید ابوالمحاسن مولانا سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی فکروں کا تاج محل اور ہندوستانی مسلمانوں کی بقا کے لئے پوری مضبوطی کے ساتھ جنگ لڑنے والا ادارہ امارت شرعیہ بہارواڈیسہ نے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تحریک پر اوربورڈ کے نو منتخب سکریٹری امیر شریعت محترم جناب مولانا سید احمد ولی فیصل رحمانی صاحب نے امارت کے پلیٹ فارم سے لا کمیشن تک رائے پہونچانے کے لئے لنک بھی اور QR کوڈ بھی تیار کروایا ہے اور پھر اپنے تمام عملہ کو صوبہ بہار کے کونے کونے تک ہہونچاکرامت کے ایک ایک فرد کو اس بات کے لئے تیار کیا کہ فوراً لاکمیشن تک اپنی رائے بھیجی جائے.
اس کام کو زمینی سطح پر کرنے کی ضرورت ہے ،سوشل میڈیا کے ذریعہ ہم میسیج اور پیغام تو پہونچا سکتے ہیں لیکن کیا امت میں اس ہتھکنڈے کے ذریعہ بیداری لائی جاسکتی ہے؟ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ، تنظیمیں تو بے شمار ہیں لیکن مسلم تنظیموں کے پاس افراد کی کمی ہے ،سب اپنی اپنی بانسری لئے چند لوگوں کے ذریعہ اپنی بانسری بجانے میں لگے ہوئے ہیں، یہ میں نہیں کہتا بلکہ ہر وہ شخص اس بات کو مانتا ہے جو تنظیموں ،اداروں اور تحریکوں پر نظر رکھتے ہیں.
بہار میں خاص طور پر امارت شرعیہ نے شروع ہی دنوں سے اپنی تنظیم کو مضبوط کرنے کی کوشش کی ہے لیکن جب اس کی باگ ڈور حضرت امیر شریعت رابع مولانا سیدمنت اللہ رحمانی رحمہ اللہ ، حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رحمۃ اللہ علیہ، امیر شریعت حضرت مولانا سید نظام الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ہاتھوں میں آیا تو ان بزرگوں نے گاؤں اور دیہاتوں کا دورہ کرکے اسے اور منظم کیا. مفکر اسلام حضرت امیر شریعت مولانا سید محمد ولی رحمانی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی پیرانہ سالی اور مختلف عوارض کے باوجود بہار کے مختلف ضلعوں کا دورہ کر کے بلاک اور پنچایت سطح تک صدور سکریٹریز اور ممبران طے کئے ،
یہی وجہ ہیکہ اس وقت مسلم پرسنل لا بورڈ کے پیغام کو پہونچانے اور زمینی سطح پر کام کرنے میں سہولت محسوس کی جارہی ہے ،اوراس وقت لاکمیشن تک پیغام پہونچانے میں سب سے زیادہ بہار آگے ہے اور یہ بھی ایک سچ ہیکہ یہ اس لئے ممکن ہوسکا کہ بورڈ کے دوررس صدر محترم فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے موجودہ امیر شریعت کو بورڈ کا سکریٹری نامزد کیا ،آج اگر یہ نہیں ہوتا تو منظرنامہ کچھ اور ہوتا.
امت کے ایک ایک فرد کو اس وقت اپنے عائلی قوانین پر عمل کے لئے اور اس ملک میں اپنے تشخص اور وقار کو بحال رکھنے کے لئے آگے آنا ہوگا اور مسلم پرسنل لا بورڈ کی ہدایت پر عمل کرنا ہوگا.
Comments are closed.