یونیفارم سول کوڈ ! نہ ہی ضروری نہ ہی مطلوب

مفتی محمد سلیم الدین قاسمی

شیخ الحدیث جامعہ فاطمۃ الزہراء ململ مدھوبنی بہار

 

دستور ہند کے نفاذ کے وقت آئین کے دفعہ 44 کے تحت یہ لکھ دیا گیا تھا کہ ” ریاست ہندوستان کے پورے علاقے میں شہریوں کیلیے یکساں سول کوڈ کو محفوظ بنانے کی کوشش کرے گی ” جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ حکومت اس بات کی کوشش کرتی رہے گی کہ عائلی قوانین کا ایک ایسا مجموعہ مرتب کیا جائے جسے ہندوستان کے تمام مذاھب اور برادریوں پر یکساں طور پر نافذ کیا جاسکے اور اسی قانون کے مطابق ہندوستان کے تمام شہری اپنے معاشرتی امور مثلاً شادی بیاہ ،طلاق و وراثت اور بچوں کو گود لینے کے معاملات حل کریں
اس قانون کے مذکورہ دفعہ میں اس بات کی بھی صراحت کی گئی ہے کہ یہ یکساں سول کوڈ اس وقت ہی قابل عمل ہو سکے گا جب قوم اس قانون کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی
اس سے پتہ چلتا ہے کہ آئین ہند کے نفاذ کے وقت بھی قوم نے یکساں سول کوڈ کو یکسر مسترد کر دیا تھا ۔ جس میں سب سے بڑی مصلحت یہ تھی کہ ہندوستان میں مختلف مذاہب اور برادریوں کی اپنی اپنی تہذیب ہے، ہر ایک کی الگ الگ شناخت ہے اور ہر مذہب کے ماننے والے اپنے اپنے رسم و رواج کے مطابق ہی اپنے عائلی امور انجام دینے میں ہی عافیت محسوس کرتے ہیں ۔
چنانچہ انگریزی دور اقتدار میں ہی 1937ء میں "مسلم پرسنل لاء” کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کیا گیا پھر موجودہ آئین ہند میں بھی اسے بعینہ برقرار رکھا گیا ہے
اسی طرح ہندوستان کے دیگر مذاھب کے ماننے والوں کے لیے بھی پرسنل لاء کو تحفظ فراہم کیا گیا چنانچہ ہر مذہب کے پیروکار اپنے اپنے معاشرتی معاملات اپنے مذہب کے اصول کے مطابق اب تک انجام دیتے آرہے ہیں ۔
مسلمان اپنے تمام معاملات کو قرآن و حدیث کے مطابق ہی حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور اس خلاف جو بھی قانون وضع ہوتا ہے اسے ہر گز قبول نہیں کر سکتے
موجودہ بی جے پی حکومت اپنے منشور میں میں ہی کئی ایسے منصوبے طے کر رکھی ہے جس میں براہ راست اسلامی اصولوں کی مخالفت ہے جیسے ” بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانا ،طلاق ثلاثہ کو قابل سزا جرم قرار دینا ” وغیرہ۔
اسی طرح ” یونیفارم سول کوڈ” نافذ کرنے کے ذریعے ہندوستان کو ” ہندو راشٹر” گھوشت کرنا بھی اس کے منشور کا اہم ترین حصہ ہے۔ چنانچہ موجودہ بی جے پی حکومت اپنے اقتدار کو فروغ دینے کے لئے ، ان کی اندھی تائید کرنے والے غیر مسلموں کو خوش کرنے کے لئے اور2024ء میں ہونے والے لوک سبھا انتخاب میں پھر سے کامیاب ہو کر حکومت سازی کے لیے ” U c c ” کو موضوع بحث بنایا ہے جس میں بی جے پی کے دیگر ارکان کے ساتھ ساتھ خود وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 27 جون2023ء کو بھوپال میں ہونے والے بی جے پی کے کارکنوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یکساں سول کوڈ لانے کی بھرپور وکالت کردی ہے
حالانکہ 2018ء میں خود بی جے پی حکومت کے ہم خیال ” اکیسویں لاء کمیشن آف انڈیا” نے یونیفارم سول کوڈ کے بارے میں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ "یہ قانون نہ تو فی الحال ضروری ہے ارو نہ ہی مطلوب”
لاء کمیشن کے اس بیان کی بین وجہ یہی تھی کہ اس قانون کے لانے اور اس کے نافذ کرنے میں قوم کو سلامتی کے بجائے اختلاف وانتشار اور اپنی شناخت ورسم و رواج کے عدم تحفظ کا احساس ہوگا جو ملک کی سالمیت کیلیے انتہائی نقصاندہ ہے
اسی خطرات کے پیش نظر مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے موجود حالات میں اس قانون کو غیر ضروری قرار دے دیا ہے۔ کانگریس پارٹی کے سابق وزیر پی چدمبرم نے کہا ہے کہ” یو سی سی ایک خواہشمندانہ خیال ہے ایجنڈے چلانے والی اکثریتی حکومت کے ذریعے لوگوں پر اسے زور زبردستی سے مسلط نہیں کیا جاسکتا ” ڈی ایم کے لیڈر ٹی کے ایس ایلانگوون نے کہا ہ کہ ” ہم یو سی سی نہیں چاہتے کیونکہ آئین نے ہر مذہب کو تحفظ دیا ہے "۔ عام آدمی پارٹی کے ایک بڑے رہنما نے کہا ہے کہ” تمام مذاہب اور ادارے کے ساتھ مشاورت کرنے کے بعد ہی یو سی سی لانا چاہیے ”
نیز یو سی سی اگر چہ مسلمانوں کے عائلی قوانین کے خلاف لوگوں میں متعارف کرایا جارہا ہے لیکن درحقیقت یہ قانون عیسائیوں ،سکھوں ، بدھسٹوں ،آدیواسیوں، جینیوں اور خود ہندؤوں کے بھی بہت سے مذہبی رسم و رواج کے متصادم ہو سکتا ہے مثلاً
1۔ موجودہ آئین میں غیر منقسم ہندو خاندانوں کو ٹیکس کی ادائیگی میں بہت سے مراعات دی گئی ہیں جو یکساں سول کوڈ کیوجہ سے وہ مراعات ختم ہو جائیں گی
2۔ ہندوستان میں کروڑوں کی تعداد میں آدیواسی اور قبائلی قوم ہیں جن کے یہاں مرد و عورت دونوں میں کثرت ازدواج کی تہذیب ہے اس قانون کی وجہ سے ان کی یہ تہذیب سلب ہو جائے گی
3۔ جین مت کے سادھو اور ہندؤوں کے ناگا بابا مادر زاد ننگے رہنے کو عبادت سمجھتے ہیں اس قانون کو وجہ سے انہیں بھی قومی دھارے میں شامل ہو کر لباس پہننا لازم ہو جاۓ گا۔
اس طرح سے ہندوستان کے کثیر ثقافتی اور لسانی حسن میں یو سی سی کی وجہ سے ایسی بدنمائی پیدا ہوگی جس سے پوری دنیا میں رسوائی کا اندیشہ ہے۔ اس لیے” یکساں سول کوڈ” کا مفروضہ حل کرنے اور اس کو نافذ کرنے میں قومی یک جہتی کو پامال کرنے اور ملک کے امن و سلامتی کو نقصان پہونچا نے کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

Comments are closed.