’’مطالعاتِ نسواں‘‘ صنفی مساوات اور خواتین کی ترقی کا ضامن کورس
مولاناآزادنیشنل اردویونیورسٹی حیدرآباد
کسی بھی ملک وسماج کی ترقی کا دارومدار خواتین کی تعلیم وترقی میں ہی مضمر ہے۔ جب تک سماج میں عورت ومرد دونوں کو ترقی کے برابر مواقع اور مساوی حقوق فراہم نہیںکیے جاتے تب تک کسی بھی ملک کی مکمل ترقی ممکن نہیں ہو سکتی۔ اس کے لیئے سماج میں متعدد کو ششوں کے ذریعے صنفی مساوات (Gender equality) کے نظریات کو فروغ دینا اور عورت کی تعلیم و ترقی کے متعلق افراد کی ذہن سازی کرنا نہایت ضروری ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری وغیر سر کاری سطح پر صنفی مساوات اور خواتین کی ترقی پر حد درجہ توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔ خواتین کی ترقی وبااختیاری کی ضرورت و اہمیت کو ملحوظ رکھ کر اعلیٰ تعلیمی نظام میں ایک خاص مضمون ’’ مطالعاتِ نسواں (Women’s Studies)‘‘ کی شروعات کی گئی۔ چونکہ تعلیم کو سماجی تبدیلی و ترقی کا آلہ قرار دیا گیا ہے لہذ ا یہ کہا جا سکتا ہے کہ قومی و بین الاقوامی سطح پر مضمون ’’ مطالعاتِ نسواں ‘‘ میں تعلیم وتحقیق کے نتیجے میں بڑی واضح تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔ مختلف ممالک میں ’’ مطالعاتِ نسواں ‘‘ میں تعلیم کا حصول نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔یہ مضمون گریجویشن اور ماسٹرز پروگرام میں یوں تو ہندوستان کی بیشتر یونی ورسٹیوں میں دستیاب ہے لیکن مولانا آزاد نیشنل اردو یو نی ورسٹی ۔حیدرآبا‘د وہ واحد جامعہ ہے جہاں شعبہ تعلیمِ نسواں کے تحت یہ کورس اردو ذریعہ تعلیم میں سنہ ۲۰۰۴ ء سے فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس کورس سے کئی لڑکے اور لڑکیوں نے استفادہ کیا ہے اور کامیاب کیریر بنایا ہے۔
بقول پروفیسر آمنہ تحسین ‘ صدر شعبہ تعلیمِ نسواں ’’ مطالعاتِ نسواں ‘‘ ایک ہمہ شعبہ جاتی (Multi disciplinary ) کورس ہے ۔ ایم ۔اے اور پی ایچ ڈی میں داخلہ کے لیئے یہ کورس مانو میں دستیاب ہے۔اس کورس کے متعلق اکثریہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ صرف خواتین کے لیئے ہی بنایا گیا ہے لیکن یہ صحیح نہیں ہے۔اس کورس میں کسی بھی سبجیکٹ کے کامیاب گریجویٹس یا کسی مسلمہ دینی مدرسہ( گریجویشن کی مماثلت رکھنے والے کورسز ) کے کامیاب لڑکے اور لڑکیاں‘ دونوں داخلہ لے سکتے ہیں۔
’’ مطالعاتِ نسواں ‘‘ مضمون سماج میں خواتین کے موقف ،مسائل کے علاوہ صنفی مساوات (Gender equality)‘خواتین کے حقوق و بااختیاری (Women’s Rights and Empowerment) اور ترقی کے متعلق بھر پور معلومات فراہم کرتا ہے ۔یہ کورس طلبہ میں تحقیقی و تنقیدی صلاحیتوں کو فروغ دیتا ہے ۔عصرِ حاضر کے مسائل سے نہ صرف واقف کرواتا ہے بلکہ ان کے حل کے لیئے کیئے جانے والے سرکاری وغیر سرکاری اقدامات، پالیسیز وپروگرامس سے بھی متعارف کرواتا ہے۔ جس کے نتیجے میں طلبہ کوسماجی حقائق کو سمجھنے اور اس سے جڑے شعبوں میں روزگار حاصل کر نے کے بہتر مواقع ملتے ہیں۔ اس کورس کے ساتھ انگلش اور کمپیو ٹر کورس میں مہارت بھی سکھائی جاتی ہے۔ ان مہارتوں کے ساتھ طلبہ کسی بھی شعبہ میں بہ آسانی روزگار سے وابستہ ہو سکتے ہیں۔
پروفیسر آمنہ تحسین نے یہ بھی بتایا کہ ’’مطالعاتِ نسواں ‘‘ کورس کے فارغ التحصیل طلبہ کالج ویونی ورسٹیز میں تدریس کے علاوہ خواتین کی ترقی کے متعلق قائم کئے گئے سر کاری ادارے ، کمیٹیز و کمیشنس، غیر سرکاری تنظیموں میں پروجکٹ آفیسر، ریسرچ آفیسر، اسسٹنٹ سروے آفیسر یا کونسلر کی حیثیت سے بہترین روزگار حاصل کر سکتے ہیں۔کامیاب طلبہ خود اپنا کوئی غیر سر کاری ادارہ بھی قائم کر سکتے ہیںاور مختلف پروجیکٹس کے ذریعہ خو د روزگار کے علاوہ دیگر افراد کو بھی روزگار سے جوڑ سکتے ہیں۔مولانا آزاد نیشنل اردو یونی ورسٹی میں بہترین تعلیمی ماحول اور تمام تر سہولتوں کے ساتھ ہاسٹلز موجود ہیں ۔ لڑکیوں کے لیئے داخلہ فارم اور پہلے سمسٹر کی ٹیوشن فیس میں رعایت رکھی گئی ہے۔تاکہ زیادہ سے زیادہ لڑکیاں اس کورس سے فائدہ حاصل کرسکیں۔ ایم۔ اے (مطالعاتِ نسواں Women’s Studies ) میں داخلہ کے لیئے آن لائن فارم داخل کر نے کی آخری تاریخ بالترتیب 24-07-2023 ہے ۔آن لائن درخواست فارم معہ پراسپکٹس ‘یو نی ورسٹی ویب سائٹ(Regular Admissions) www.manuu.edu.in پر دستیاب ہیں۔ اس کورس میں داخلہ کے متعلق مزید تفصیلات کے لیئے کمرہ نمبر ۱۰۱‘ شعبہ تعلیمِ نسواں ‘لیکچر ہال کامپلکس‘ مانو ۔ حیدرآبادپر ربط کیا جا سکتا ہے۔
Comments are closed.