معاون اردومترجم کی لسٹ میں بلاوجہ تاخیر نامناسب،سرکاراقلیت نوازی کاعملی ثبوت پیش کرے
فہرست جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں،اردوکے ساتھ انصاف یقینی بنایاجائے:محمدنوشاد
پٹنہ،مظفرپور(پریس ریلیز)
معاون اردومترجم کی لسٹ جاری کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے پھربھی چودہ مہینے سے بلاوجہ لسٹ روک کررکھی گئی ہے،پہلے بہانہ بنایاجاتاتھاکہ معاملہ کورٹ میں ہے، اس لیے تاخیرہورہی ہے جوسراسرگمراہ کن جواب تھا۔اب وہ بہانہ بھی ختم ہوگیااورکورٹ سے کیس واپس لے لیاگیاپھربھی بہاراسٹاف سلیکشن کمیشن بلاوجہ تاخیر کر رہا ہے۔ بہارحکومت تیزی سے ٹیچرزکی تقرری کی طرف بڑھ رہی ہے،حکومت نوجوانوں کوزیادہ سے زیادہ روزگاردینے کاوعدہ کرتی ہے لیکن اردوکے ساتھ اس کارویہ متعصبانہ ہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ گزشتہ سال جولائی اگست میں ہی کونسلنگ ہوگئی لیکن لسٹ روک کررکھی گئی اورکورٹ میں معاملہ ہونے کابہانہ بنایاگیاجب کہ پرائمری ٹیچرزمیں بی ایڈوالوں کاکیس سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے لیکن ان کارزلٹ جاری کردیاگیا،معاون اردومترجم کے صرف ان امیدواروں کاکیس کورٹ میں تھاجن کے پاس بی ایس ایس سی کی شرط کے مطابق پرانااین سی ایل نہیں ہے،لیکن جولوگ شرائط پوری کرتے ہیں ان کی لسٹ بھی بلاوجہ روک کراردودشمنی کاثبوت پیش کیاگیا۔اب جب کہ کیس واپس لے لیاگیاہے پھربھی لسٹ جاری کرنے میں تاخیرکی جارہی ہے حکومت چاہے تودودن میں لسٹ آسکتی ہے۔جب سوالاکھ ٹیچرزکی لسٹ اتنی جلدی نکال کرتقرری کاعمل پوراکرایاجاسکتاہے تومعاون اردومترجم کی 1294سیٹ میں کتناوقت لگے گا۔بی پی ایس سی اوربی ایس ایس سی دونوں حکومت بہارکاادارہ ہے،حکومت چاہے تویہ بہت آسانی سے ہوسکتاہے،سرکاراگرخودکواردوکی بہی خواہ اوراقلیت نوازجتاتی ہے تواسے عملی ثبوت بھی پیش کرناہوگا۔ان خیالات کااظہارکاروان تحفظ اردوکے صدرمحمدنوشادنے اپنے پریس بیان میں کیاہے۔
محمدنوشادنے مزیدکہاکہ اردوکے ساتھ ٹال مٹول کارویہ سیکولرحکومت کے لیے مناسب نہیں ہے،ایک سال سے بلاوجہ لسٹ روک کررکھی گئی اوراب جب کہ بی ایس ایس سی کے پاس بہانہ بھی ختم ہوگیا،آخرکیاوجہ ہے کہ پرائمری ٹیچرزمیں بی ایڈکامعاملہ کورٹ میں ہے لیکن اس کارزلٹ جاری کردیاگیالیکن چوں کہ یہ معاملہ اردوکاہے،اس لیے ٹال مٹول کیاجارہاہے،اب توکورٹ کابہانہ بھی نہیں ہے۔لہٰذاحکومت بہارفورالسٹ جاری کرے۔انھوں نے سوال کیاکہ جب سوالاکھ ٹیچرزکی لسٹ اتنی جلدی آسکتی ہے توبارہ سومعاون اردومترجم کی لسٹ نکالنے میں تاخیرسوائے تعصب کے اورکیاہے؟کارواں کے جنرل سکریٹری محمدفیاض الدین نے کہاہے کہ حکومت کے پاس یہ ثابت کرنے کااچھاموقع تھاکہ وہ جلدازجلدان سیٹوں پربحالی کرتی لیکن بارباروزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ اورچیف سکریٹری کوتوجہ دلانے کے باوجودحکومت اردوکے ساتھ اوراقلیتوں کے ساتھ ناانصافی پرتلی ہوئی ہے۔یہ سرکار کے لیے گھاٹے کاسوداہے۔اس سے اچھاپیغام نہیں جارہاہے۔کئی تنظیموں نے خط لکھ کر،کئی افرادنے مل کرحکومت کی توجہ اس طرف کی ہے لیکن بس ٹال مٹول کیاجارہاہے تاکہ زیادہ سے زیادہ اردووالوں کانقصان ہو۔سیکولرسرکارسے ایسی امیدنہیں رکھی جاسکتی، اس سے ان لوگوں کوموقع ملے گاجوسیکولرسرکارکے رویے پرسوال اٹھاکرسیاسی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔بہارحکومت خودایساموقع دے رہی ہے۔اس لیے یہ حکومت کے مفادمیں بھی ہے کہ جلدازجلدمعاون اردومترجم کی لسٹ جاری کرکے تقرری کاعمل آگے بڑھایاجائے جتنی دیرہوگی اتنی بدنامی ہوگی۔نیزاردوسے متعلق دیگرمسائل جیسے اردوٹی ای ٹی،اسکولوں میں اردوکی لازمیت،اساتذہ تقرری میں اردواساتذہ کی مناسب تعدادپربھی حکومت کوتوجہ دینی چاہیے۔بہارکی ملی تنظیموں، اداروں، شخصیات،حکومت کے ہمدردسیاسی اورسماجی لیڈران سے بھی اپیل ہے کہ وہ وزیراعلیٰ،نائب وزیراعلیٰ اورچیف سکریٹری سے جلدازجلدکارروائی کی اپیل کریں ورنہ کسی سیاسی نقصان کی ذمہ داری خودعظیم اتحادمیں شامل حکمراں جماعتوں پرہوگی۔
Comments are closed.