انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے ووٹ نہ دینا ملک کی پالیسی کے خلاف ہے: ایس ڈی پی آئی

نئی دہلی(پریس ریلیز) سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (SDPI)کے مرکزی دفتر سے جاری ایک اخباری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطین میں صیہونی غاصبوں نے غزہ کے شہریوں پر اندھیرے میں بمباری کرنے، تمام مواصلاتی ذرائع اور بجلی منقطع کرنے کی بے مثال وحشیانہ کارروائیوں کو جاری رکھے ہوئے ہے۔اس تنازعہ میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر جنگ بندی کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد کے حق میں ووٹ دینے سے ہندوستان کا پرہیز کرنا غیر انسانی اور اس فلسطین پالیسی کے خلاف ہے جس پر یہ ملک آزادی کے بعد سے عمل پیرا ہے۔ یہ یورپ، امریکہ اور اس کے اتحادی ہیں جنہوں نے فلسطینیوں کی اپنی ہی زمین واپس لینے کی لڑائی کو عسکریت پنسدی اور دہشت گردی قرار دیا ہے۔ تمام سابق ہندوستانی رہنما اس حقیقت سے واقف تھے اور انہوں نے ہمیشہ فلسطین کے کاز کی حمایت کی ہے۔ مسئلہ فلسطین پر حکومت کا موجودہ موقف اس موقف سے متصادم ہے جس پر ملک کئی دہائیوں سے عمل پیرا ہے۔ 120ممالک کی طرف سے حمایت یافتہ قرار داد کے حق میں ووٹنگ سے باز رہنے کی وجہ یہ تھی کہ اس قرار داد میں حماس کو مجرم قرار نہیں دیا گیا۔ اسرائیلی غاصبوں نے تمام بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑائی ہیں، وہ شہریوں کو جلانے کے لیے سفید فاسفورس کا استعمال کررہے ہیں۔ وہ اسپتالوں اور پناہ گزینوں کے کیمپوں پر بمباری کررہے ہیں۔ وہ شہریوں کو انسانی بنیادوں پر مدد دینے سے انکار کررہے ہیں۔ وہ غزہ کو پانی اور ایندھن دینے سے انکار کرتے ہیں۔ وہ شیر خوار بچوں اور خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ایسے مظالم کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ اقوام متحدہ کا مذکورہ قرارداد انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے لیے تھا، اس قرارداد کے حق میں ووٹنگ سے انکار کرنا ملک کے موقف کے خلاف ہے۔

Comments are closed.