ہمارے آزاد اور خود مختار مدارس کو کسی سرکاری امداد کی ضرورت نہیں

دیوبند میں پہنچے جمعیۃ علماء کے نائب صدر مولانا ممتاز قاسمی کا اظہار خیال
دیوبند 29؍اکتوبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
صوبہ ہماچل پردیش کے سابق حج کمیٹی کے صدر اور پنجاب ،ہریانہ اور ہماچل پردیش کی جمعیۃ علماء کے نائب صدر مولانا ممتاز قاسمی نے کہا کہ بر صغیر ہند و پاک میں مدارس اسلامیہ ملت اسلامیہ کی مذہبی و تہذیبی اور تمدنی روایات کے امین و پاسبان ہیں خاص طور پر ہندوستان میں ہماری پوری قوم کا ملی تشخص اور مذہبی شناخت ان مدارس کی وجہ سے باقی ہے۔ شملہ سے دارالعلوم دیوبندآئے مولانا ممتاز قاسمی آج یہاں کچھ اخباری نمائندوں سے گفتگو کر رہے تھے ،انہوں نے کہا کہ مدارس اسلامیہ کا تحفظ مسلمانوں کے لئے مذہبی فریضہ کا درجہ رکھتا ہے ۔مسلم خواص وعو ام اپنے مدارس کی کفالت کرتے ہیں اس لئے ہمارے آزاد اور خود مختار مدارس کو کسی سرکاری امداد کی ضرورت نہیں پڑتی ،دا رالعلوم دیوبند نے بھی گذشتہ روز کے اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا ہے مدارس اسلامیہ کو سرکاری امداد سے محفوظ رکھنا چاہئے ، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مدرسہ تحریک آج ایک عالمی تحریک بن چکی ہے دنیا کا کوئی گوشہ ایسا نہیں ہے جہاں مسلمان آباد ہوں اور وہاں مدرسہ یا مکتب کا نظام نہ میسر ہو ،یہ دارالعلوم دیوبند کا ہی فیض ہے کہ آج مغرب کے کلیساؤں میں آذان کی آواز گونجی ہے۔مولانا ممتاز قاسمی نے کہا کہ اسلام کا فروغ اور مدارس اسلامیہ کی ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا نظام مدرسہ عصری تعلیم کے خلاف نہیں ہے یہ بھی دنیا کی بنیادی ضرورت ہے ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے پاس مثالی عصری تعلیم کے ادارے ہوں لیکن ہم کسی بھی طرح مبنی بر آخرت ترجیحات یعنی قرآن و حدیث کی تعلیم اور اس کی فوقیت کو نظر انداز نہیں کر سکتے ۔مولانا ممتاز قاسمی بانی و مہتمم مدرسہ اصلاح الفکر شملہ نے اپنے صوبہ کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ صوبہ پنجاب و ہریانہ اور ہماچل پردیش میں مسلمانوں کی آبادی بہت معمولی ہے ،زیادہ تر مزدور پیشہ افراد ادھر ادھر سے جا کر ان صوبوں میں بسے ہیں ہمارے مکاتب و مدارس ان کے بچوں کی تعلیمی کفالت کرتے ہیں تینوں ملحقہ صوبوں میں مدارس اللہ کا شکر ہے آزادانہ کام کر رہے ہیں۔

Comments are closed.