تعلیم نسواں وقت کی اہم ترین ضرورت ہے

جامعہ الہامیہ مدرستہ البنات کے جلسہ میں طالبات کو سند فراغت سے نوازاگیا
دیوبند،30؍اکتوبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
تعلیم نسواں کی معروف دینی ادارہ جامعہ الہامیہ مدرستہ البنات پٹھانپورہ دیوبند کا جلسہ دستار بندی آج یہاں عیدگاہ روڈ پرواقع ایک بینکٹ ہال میں منعقد ہوا،جس میں فراغت حاصل کرنیو الی طالبات کو دستار فضیلت سے نواز اور علماء نے انہیں نہایت قیمتی نصیحتوں سے نوازا۔ پروگرام کی صدارت مسلم پرسنل لاء بورڈ کی خاتون ونگ کی رکن محترمہ زینت مہتاب نے اور نظامت کے فرائض ادارہ کی معلمہ زینب عرشی عرف روحی فاطمہ نے انجام دیئے ۔پروگرام کا آغاز جامعہ کی طالبہ مسکان کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ اسکے بعد تقریبا پانچ گھنٹہ تک بچیوں نے مختلف عنوان پر تقاریر نظمیں مکالمات پیش کئے ۔بعد ازاںسال 2019سے سال 2023تک ادارہ سے فراغت حاصل کرنے والی تقریبا50؍بچیوں آرزو،شہرین ،آصفہ ، مہک ، منشاء ،فوزیہ، عائشہ ، دلجہاں،ریشما، مسکان بنت مستقیم،ناظمہ ،مسکان بنت و سیم پھلاس، مسکان بنت جان محمدنگلہ ، شیبا بنت ،خوشبو ، ثانیہ اکرام الدین ،ثانیہ نفیس ،لائبہ ،عارفہ ،ماجدہ ،تسلیمہ نواب ،نیہا نواب، نورین ،ثنا ء،شاکرہ ،ذاکرہ،نبیلہ ،مصباح ، انجم ،زارہ، طبیبہ ،عائشہ ، افشاں،سمیہ،عائشہ سلیم ،عائشہ عرفان ،حلیمہ ،آمنہ ،زینب ، مشتاء ، شازیہ ،شہزادی، تسلیمہ ،صناء انوار،عائشہ ،فرحہ ، فردوس،فرحہ، عینی ، شیریں ، کلثوم دیوبندکو اعزازی اسناد اور تحائف سے نوازا گیا ۔بعد ازیں ادارہ کی ناظمہ آپا خورشیدہ خاتون نے تعلیم نسواں پر زور دیتے ہوے کہا کہ آج کے دور میں بچیوں کا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونا بہت ضروری ہے۔زینب عرشی نے کہا کہ آج کی عورت کو اچھی عورت بننے کے لئے حضرت خدیجہ، حضرت عائشہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہ کی زندگی سے سبق حاصل کر اسکی روشنی میں عمل کرنا چاہئے ۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کی رکن محترمہ زینت مہتاب نے کہا کہ آج ہمارا معاشرہ ہر طرح کے فتنہ سے دو چار ہے ہماری بچیاں ارتداد کی شکار ہورہی ہیں اسطرح کے فتنہ کو دینی ادارے ہی روک سکتے ہیں۔ آخر میں دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا منیر الدین احمد نے خواتین و طالبات سے خطاب کرتے ہوئے تقوی اور اخلاص پر مختصر گفتگو کی اور اپنی پر سوز دعا سے پروگرام کا اختتام کیا ۔ پروگرام کے اختتام پر ادارہ کے اہم رکن عرشی بیگ اور ایوب بیگ نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر علاقہ کی کثیر تعداد میں خواتین اور سرکردہ شخصیات نے شرکت کی۔

Comments are closed.