حالات سے مقابلہ کے لیے علم واخلاق کے ہتھیارسے خود کو مسلح کریں:انیس الرحمن قاسمی
ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ ہم انسانیت کی بھلائی کے لیے ہمہ وقت فکر مند رہیں:ڈاکٹرمولانا محمدعالم قاسمی
یکم نومبرپھلواری شریف (پریس ریلیز)
آل انڈیا ملی کو نسل کا تعلیمی،دعوتی اوراصلاحی دورہ جاری ہے،ان دنوں ملی کونسل کا وفد مفکر ملت حضرت مولاناانیس الرحمن قاسمی کی قیادت میں مدھوبنی کے بسفی بلاک کے دورہ پر ہے،گزشتہ دنوں وفد نورچک پہونچا،نورچک حلقہ بسفی کی اہم بستی ہے،جہاں متعدد تعلیمی ادارے بھی ہیں۔نورچک میں وفد کا والہانہ استقبال ہوا، مولانا نسیم احمد قاسمی،بانی وناظم جامعہ عائشہ للبنات کی قیادت میں بستی والوں نے وفد کا استقبال کیا۔وفد کا علمی واصلاحی پروگرام مغرب کے بعد بازارکی جامع مسجد میں امام صاحب کی تلاوت قرآن سے شروع ہوا،جب کہ ہدیہ نعت مولانا نسیم احمد کے صاحبزادے نے پیش کیا۔اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے فرمایا کہ قوموں کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتلاتا ہے کہ جن قوموں کو حالات کا صحیح ادراک نہیں ہوتا وہ پستی کی دلدل میں دھنستی چلی جاتی ہے۔اس امت کی یہ خوبی رہی ہے کہ اس نے ہر دورمیں حالات کا صحیح اندازہ کیا ہے،اورا س کی قیادت میں امت کی بروقت رہمنائی کی ہے،اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ مومن فراست سے بچو،اس لیے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے،اس کا مطلب یہی ہے کہ وقتاً فوقتاً اپنے گردوپیش کا جائزہ لیتے رہنا چاہیے اورمستقبل کے لیے لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے،آل انڈیا ملی کونسل کا یہ وفد مختلف علاقوں کا دورہ اسی لیے کررہا ہے کہ مسلمانوں کو حالات کی نزاکت اورسنگینی سے باخبر کرے،اورانہیں خوف ہراس کی نفسیات سے باہر نکالیں،ملک میں جتنے بھی فسادات برپا کیے جاتے ہیں اورلنچنگ کے جوواقعات جان بوجھ کر ہوئے ہیں ان کا مقصد یہی ہے کہ وہ مسلمانوں کو ڈرائیں،حالاں کہ مسلمان ڈرنے والی امت نہیں ہے،اس نے ہر دورمیں جرأت وبہادری کے ساتھ زندگی گزاری ہے،اکادکاحادثات اورفسادات ہمیں ڈرانہیں سکتے ہیں۔ہاں ضرورت ہے کہ ہم اپنے آپ کو حالات کے مطابق ڈھالیں،اورحالات سے مقابلہ کے لیے علم واخلاق کے ہتھیارسے خود کو مسلح کریں۔
اپنے افتتاحی خطاب میں آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مولانامحمدعالم قاسمی صاحب نے آل انڈیا ملی کونسل کی تاریخ پر روشنی ڈالی اوراس کی خدمات کا تفصیلی تعارف کرائے، انہوں نے کہا کہ اس وفد کے دورہ کا مقصد لوگوں میں علمی اوردینی بیداری پیدا کرنا ہے،مولانا قاسمی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں خیر امت بنا کر مبعوث کیا ہے اورہم پر یہ ذمہ داری عائد کی ہے کہ ہم لوگوں کی نفع رسانی کے لیے کام کریں، ہر وہ کام جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے وہ کار ِ ثواب ہے،ہمیں خیر امت کے منصب سے اس لیے سرفرازکیا گیا کہ ہم اچھائیوں کا حکم دیتے ہیں اوربرائیوں سے روکتے ہیں،ملی کونسل کے تمام شعبہ جات اسی عنوان کی تفسیر ہیں،ملی کونسل چاہتی ہے کہ مسلمانوں میں احساس ذمہ داری پیدا ہو اوروہ اپنے تئیں ذمہ دار شہری بنے اوریہ ذمہ داری اس پر اللہ اوراس کے رسول نے ڈالی ہے اوراس کے بارے میں اللہ کے یہاں ہمیں جواب دہ ہونا پڑے گا۔اللہ کے نبی نے فرمایا کہ تم سے ہر شخص ذمہ دارہے اوراس سے اسی کی ذمہ داریوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔جب کہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل بہار کے کارگزارجنرل سکریٹری نے کہا کہ اللہ کا اصول ہے کہ جو چیز انسانیت کے لیے سود مند اورنافع ہوتی ہے،اسے بقاء اوردوام حاصل ہوتا ہے اورجو چیز اپنی افادیت کھو دیتی ہے،وہ بلبلے کی طرح ختم ہوجاتی ہے،جب کہ اس اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ال انڈیا ملی کونسل بہار کے جوائنٹ جنرل سکریٹری مولانا محمد ابوالکلام شمسی نے کہا کہ آل انڈیا ملی کونسل کا یہ وفد اس لیے گاؤں گاؤں گھوم رہا ہے کہ لوگوں میں اپنی آنے والی نسل کے دین وعقیدہ کی حفاظت کی یہ فکر پیدا کی جائے،ہرشخص یہ سوچے اوراس کی زندگی کے تگ ودو کا ماحصل یہ ہو کہ اس کی اولاد اورآنے والی نسل کس دین وعقیدہ پر جئے گی اورمرے گی،ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی اولاد کی ایسی تربیت کریں اورانہیں ایسی تعلیم دیں کہ ان کے دل میں توحیدورسالت اوراسلام کی بنیادی عقیدے اس طرح جئم جائیں کہ دنیا کی بڑی سی بڑی مصیبتوں میں بھی ان کے قدم نہ ڈگمگائیں،جب کہ آل انڈیا ملی کونسل ضلع سوپول کے نائب صدرووفد کے رکن مولانا ضیاء اللہ رحمانی نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین دیا ہے اورجو ہمارے لیے پسند فرمایا ہے وہ صرف اورصرف اسلام ہے،اسلام کی دعوت کو عام کرنااوراس کی تعلیمات عمل کیے بغیر نہ ہم دنیا میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں اورنہ آخرت میں ہم سرخ رو ہوسکتے ہیں۔اخیرمیں علاقہ کے مؤقر عالم دین مولانا نسیم احمد قاسمی نے مہمانوں کاشکریہ اداکیا اورملی کونسل کی تعلیمی تحریک کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔اس اجلاس کی نظامت جامعہ اسلامیہ فیض القرآن کے شیخ الحدیث مولانا فہیم احمد قاسمی نے کی۔اجلاس کا اختتام مولانا انیس الرحمن قاسمی کی دعاپر ہوا۔
رات کو اراکین وفد میں شامل علمائے کرام کا قیام جامعہ عائشہ صدیقہ میں تھا۔صبح آٹھ بجے جامعہ عائشہ صدیقہ کے وسیع وعریض ہال میں مدرسہ کے طالبات نے اراکین وفد کا استقبال کیا اورنہایت عمدہ علمی پروگرام پیش کیا۔بچیوں کے پروگرام کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ طالبات کی تعلیم وتربیت میں اساتذہ نے بڑی جانفشانی سے کام لیا ہے۔ جامعہ عائشہ اس علاقہ کا اہم تعلیمی ادارہ ہے۔جس کے ذمہ دارمولانا نسیم احمد قاسمی ہیں انہوں نے اپنی افتاحی گفتگو میں ملی کونسل کے وفد کا استقبال کرتے ہوئے جامعہ کاتعارف کراتے ہوئے کہا کہ الحمد للہ جامعہ حفظ کے علاوہ دورہ حدیث تک کی تعلیم دی جاتی ہے۔بچیوں کی تعداد چھ سوسے زائد ہیں۔یہ ایک غیر اقامتی ادارہ ہے،لیکن طالبات کے دن کے کھانے کا نظم مدرسہ میں رہتا ہے۔طالبا ب سے خطاب کرتے مولانا انیس الرحمن قاسمی نے کہا کہ خواتین نے ہردورمیں اسلام کی آبیاری اپنے خون جگر سے کی ہے، بچیوں کو دین کا صحیح علم عطا کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،ایک لڑکی کے تعلیم یافتہ ہونے کا مطلب ایک نسل کی حفاظت ہے۔کیوں کہ انسان کی پہلی درس گاہ ماں کی گود ہے،اس درس گاہ کی اگر صحیح فکر کے ساتھ آبیاری ہوگئی،تو ہماری اگلی نسل ارتداد،گمراہی اوربہت سارے فتنوں سے محفوظ رہے گی،جامعہ عائشہ کے بعد آل انڈیا ملی کونسل کا وفد جامعہ عائشہ ہی کے جوارمیں واقع معہد طیب پہنچا،جہاں حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی اوراراکین وفد کی دعا کے ساتھ معہد طیب کی جدید عمارت کا افتاح عمل میں آیا،اس موقع پر معہد طیب کے طلبا سے قومی نائب صدر نے خطاب بھی کیا۔معہدطیب کے ناظم مولاناجسیم قاسمی نے اراکین وفد کا شکریہ اداکیا۔اس موقع پر محمد ارشادعالم،محمد عبد الرحمن،محمدرضوان،عبد القادر،محمد ارشدپرویز،محمد علی، محمدطارق منہاج، شہاب الدین، محمد نورعالم،نجیب اللہ قاسمی، عطاء الرحمن، عمران احمد، نورعالم،محمد صلاح الدین،ماسٹر شفاعت،محمد حسان،محمد ثاقب،محمد وکیل محمد امان اللہ وغیرہ حضرات شریک تھے۔
Comments are closed.