مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے کالج آف نرسنگ میں دماغی صحت کا ہفتہ منایا گیا
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ نے دماغی صحت ہفتہ کے تحت مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا۔
نرسنگ کے اساتذہ اور طلباء نے شعبہ کمیونٹی میڈیسن، جے این ایم سی کے تحت قائم اربن ہیلتھ ٹریننگ سنٹر میں لوگوں کو دماغی بیماری کی وجوہات اور اس طرح کی بیماریوں پر قابو پانے کے طریقوں سے آگاہ کیا جا۔ طلباء نے پی پی ٹی، فلیش کارڈ، پوسٹر اور ویڈیو کے ذریعے بتایا کہ دماغی صحت میں جذباتی، نفسیاتی اور سماجی بہبود کے پہلو شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دماغی صحت زندگی کے ہر مرحلے میں اہم ہے اور ذیابیطس اور ہائی بلڈ پریشر جیسی بیماریوں کے علاج پر بھی زور دیا جانا چاہیے جو کہ دماغی امراض کی وجہ سے بڑھتی ہیں۔
او پی ڈی، ٹراما سنٹر، جے این ایم سی میں دماغی امراض پر مبنی ایک نکڑ ناٹک پیش کیا گیا اوردماغی صحت کے سلسلہ میں بیداری پیدا کی گئی۔
دماغی صحت کے مسائل پر ایک پینل مباحثہ کی صدارت کرتے ہوئے پروفیسر فرح اعظمی، پرنسپل، کالج آف نرسنگ نے دماغی صحت کو بہتر بنانے والی تھیراپی کی اہمیت بیان کی۔
ڈاکٹر وجے لکشمی ورما نے دماغی صحت سے متعلق مسائل کے مختلف پہلوؤں اور ان سے نمٹنے کے لیے مفت سہولیات کی فراہمی پر زور دیا، جب کہ پامیلا شالنی جوزف نے دماغی صحت کے لیے یوگ، مراقبہ اور کم از کم 8 گھنٹے کی نیند کو اہم قرار دیا۔ ڈاکٹر فیصل شان نے غیر سرکاری تنظیموں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ انھوں نے ٹیلی مانس کو بھی ذکر کیا جو لوگوں کو دماغی تناؤ پر قابو پانے میں مدد کرتی ہے۔ اسی طرح دیپتی منج نے ملازمت کی جگہ پر تناؤ کو کم کرنے کے طریقوں پر روشنی ڈالی۔
٭٭٭٭٭٭
پی جی اورینٹیشن پروگرام
علی گڑھ، یکم نومبر:جے این میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ پیتھالوجی میں ایم ڈی پیتھالوجی کے طلباء اور دیگر ریزیڈنٹ ڈاکٹروں کے لئے اورئنٹیشن پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
پروفیسر وینا مہیشوری، ڈین، فیکلٹی آف میڈیسن نے اپنے خطاب میں شعبہ کے آغاز اور ارتقاء پر روشنی ڈالی اور ان ناموراساتذہ کا ذکر کیا جنہوں نے شعبہ کی شہرت کو چار چاند لگائے۔ انھوں نے ہسٹوپیتھولوجیکل ٹشو پروسیسنگ اور ہسٹوپیتھولوجی لیب میں تعینات ریزیڈنٹ کی ذمہ داریوں کا ذکر کیا اور ایم ڈی امتحان کے قواعد و ضوابط پر روشنی ڈالی۔
پروفیسر محبوب حسن، چیئرمین، شعبہ پیتھالوجی نے اساتذہ اور عملے کے اراکین کا تعارف کرایا اور شعبہ کی 6 لیبارٹریز کے بارے میں بتایا۔
پروفیسر کرن عالم اور پروفیسر روبینہ خان نے سائٹوپیتھولوجی لیب کے بارے میں بتایا، جبکہ پروفیسر محمد جسیم حسن نے بتایا کہ بلڈ اینڈ کمپونٹ بینک میں تعیناتی کے دوران ریزیڈنٹس کو کیا احتیاطی تدابیر اختیار کرنی پڑتی ہیں۔ ڈاکٹر حنا انصاری نے کیمیکل پیتھالوجی لیب کی سہولیات اور ڈاکٹر محمد فیروز عالم نے سنٹرل لیب کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ ڈاکٹر سہیل الرحمن نے ہیماٹولوجی لیب میں کئے جانے والے ٹیسٹ اور سال اول اور سال دوم کے ریزیڈنٹس سے وابستہ توقعات پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے ’اچھی پاورپوائنٹ پرزنٹیشن کیسے بنائی جائے‘ کے موضوع پر گفتگو کی، جبکہ پروفیسر کفیل اختر نے ’حوالہ جات کو درست طریقے سے کیسے پیش کیا جائے‘ کے موضوع پر پرزنٹیشن دیا۔ ڈاکٹر بشریٰ صدیقی نے پروگرام کی نظامت کی ، جب کہ ڈاکٹر مراد احمد نے شکریہ ادا کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے اساتذہ نے دہلی یونیورسٹی میں مقالے پیش کئے
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ کے سابق چیئرمین پروفیسر لطیف حسین شاہ کاظمی سمیت ڈاکٹر عبدالشکیل اور ڈاکٹر دیوان تسخیر خان نے دہلی یونیورسٹی کے شعبہ فارسی اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی، ایران کی نئی دہلی برانچ کے اشتراک سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس بعنوان ’’ مہاتما گاندھی اور امام خمینی کی کے نقطہ نظر سے زندگی کے معنی‘‘ میں مقالے پیش کئے۔
’’گاندھی کا عدم تشدد کا فلسفہ اور آج کی دنیا میں اس کی معنویت‘‘ پر مقالہ پیش کرتے ہوئے ڈاکٹر شکیل نے کہا کہ مہاتما گاندھی کا عدم تشدد کا نظریہ صرف جسمانی تشدد کی نفی پر مبنی نہیں تھا بلکہ یہ زندگی کا ایک طریقہ تھا جس میں خیالات و الفاظ بھی شامل تھے اور یہ ستیہ گرہ کے اصول پر زور دیتا ہے جو آفاقی ہے اور سیاست، سماجی اصلاح اور باہمی تعلقات میں اسے لاگو کیا جا سکتا ہے۔
ڈاکٹر دیوان نے ’’گاندھی اور خمینی کے انسانی حقوق کے اصول: ایک تجزیہ‘‘ موضوع پر مقالہ پیش کیا۔ انھوں نے خمینی کو ایران کا گاندھی قرار دیتے ہوئے کہا کہ گاندھی اور امام خمینی دونوں نے اپنی مہم عدم تشدد کے ساتھ چلائی اور دونوں رہنما اپنے مقاصد کے لیے مذہبی اصولوں کو استعمال کرتے تھے۔ گاندھی کا عدم تشدد (اہنسا) کا فلسفہ ان کے ہندو عقائد سے متاثر تھا، جبکہ خمینی کی قیادت اسلامی اصولوں پر مبنی تھی۔
پروفیسر کاظمی نے ’’ہمارے عہد میں مہاتما گاندھی اور امام خمینی کے افکار کی معنویت‘‘ موضوع پرخطبہ دیا اور دونوں رہنماؤں کے درمیان مماثلت کو واضح کیا۔
٭٭٭٭٭٭
’’مغل شہنشاہوں کی نظرانداز میراث کی تلاش: ثقافتی، ادبی اور تعمیراتی خدمات‘‘ کے موضوع پر قومی سیمینار کا انعقاد
لکھنؤ، یکم نومبر: شعبہ فارسی ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈیز ،شعبہ تاریخ کے اشتراک سے ’’ مغل شہنشاہوں کی نظرانداز میراث کی تلاش: ثقافتی، ادبی اور تعمیراتی خدمات‘‘ کے عنوان پر دو روزہ قومی سمینار کا انعقاد کیا گیا، جس کا افتتاحی اجلاس آرٹس فیکلٹی لائونج میں منعقد ہوا۔
شعبہ تاریخ ،دہلی یونیورسٹی کے سابق صدر اور مشہور مؤرخ پروفیسر سید ظہیر حسین جعفری نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے مغل حکمرانوں خصوصاََ اکبر، جہانگیراور شاہجہاں کے عہد میںفروغ پانے والی ادبی ،تعمیراتی اور تہذیبی میراث کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عہد وسطیٰ کی تاریخ پر قلم اٹھانے والوں کو فارسی کی سمجھ ہونا بہت ضروری ہے اور اس لحاظ سے فارسی اور تاریخ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔عہد وسطیٰ کی تاریخ نگاری پر کام کرنے والا کوئی بھی مؤرخ اس وقت تک بہترین مؤرخ ثابت نہیں ہو سکتا جب تک فارسی مآخذ تک رسائی نہ حاصل کرسکے۔ پروفیسر جعفری نے تاریخی کتبات کو بھی اہم قرار دیا ،چاہے وہ مذہبی عمارات پر ہوں یا غیرمذہبی عمارات پر۔
مہمان خصوصی پروفیسر آذر می دخت صفوی، بانی ڈائرکٹر و مشیرمرکز تحقیقات فارسی، علی گڑھ مسلم نے جلسہ کی صدارت کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت ہماری اہم ضرورت انٹرڈسپلنری ریسرچ ہے۔ انہوں نے اس سیمینار کے لئے شعبہ فارسی و تاریخ کے اشتراک کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ مغلوں کی فراموش شدہ میراث کی تلاش میں یہ ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ فارسی اور تاریخ کے اساتذہ آگے آئیں اور مل کر اس نظر انداز میراث کو منظر عام پر لانے کی کوشش کریں۔انہوں نے کہا کہ آئین اکبری جو ایک انسائکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے اس کا کوئی اچھا ایڈیشن ہمیں دستیاب نہیں ہے، اس کے لئے ہم سر سید احمد خاں کے تصحیح شدہ نسخہ سے ہی مستفیض ہوتے ہیں۔
پروفیسر عارف نظیر، ڈین، فیکلٹی آف آرٹس نے اس جلسہ میں مہمان اعزازی کی حیثیت سے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔انھوں نے اکبر کے عہد کی دو مشہور ہستیوں عبدالرحیم خان خاناں اور تلسی داس کے دلچسپ مکالمے کا ذکر کیا جس سے عہد وسطیٰ میں مختلف زبانوں کے شاعروں کے درمیان ہم آہنگی و رواداری کا پتہ چلتا ہے۔
اس سے قبل جلسہ کے آغاز میں صدر شعبہ تاریخ پروفیسر گلفشاں خان نے مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور سیمینار کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی۔ انھوں نے اکبر کے عہد میں سنسکرت، عیسائی، یہودی اور دیگر مذاہب کی کتب کے فارسی تراجم پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جدید عہد میں ابھی تک ان کی اشاعت نہیں ہوسکی ہے۔ اسی طرح جامی کے بہارستان سمیت متعدد منقش مخطوطات بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہیں۔ انھوں نے جہانگیر، شاہجہاں اور دارا شکوہ کے مرقعات کا بھی ذکر کیا جن کے کچھ ہی حصے شائع ہوئے ہیں۔
پروفیسر رعنا خورشید، صدر شعبہ فارسی نے بھی موضوع سے متعلق اپنے خیالات پیش کئے اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔
نظامت کے فرائض ڈاکٹر لبنیٰ عرفان، اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ تاریخ نے انجام دئے۔
اس دو روزہ سیمینار میں علی گڑھ اور ہندوستان کی دیگر یونیورسٹیوں و کالجوں کے اساتذہ نے شرکت کی جن میں پروفیسر علیم اشرف خان، دہلی یونیورسٹی، پروفیسر عراق رضا زیدی جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر غلام اشرف قادری، گاندھی فیض عام کالج شاہجہاں پور، ڈاکٹر شبیب انور علوی لکھنؤ یونیورسٹی وغیرہ شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
یوم اتحاد پر مختلف پروگرام ہوئے
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مختلف شعبہ جات، اسکولوں اور دفاتر میں یوم اتحاد منایا گیا اور اساتذہ و طلباء نے ہندوستان کے مرد آہن سردار ولبھ بھائی پٹیل کو شاندار خراج عقیدت پیش کیا، جن کے یوم پیدائش کو قومی یوم اتحاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔
پروفیسر یوسف الزمان خاں، چیئرمین، شعبہ الیکٹریکل انجینئرنگ نے شعبہ کے اساتذہ اور طلباء سے اتحاد کا عہد کرایا، جبکہ شعبہ ریڈیو ڈائیگنوسس میں چیئرمین پروفیسر ابن احمد نے دیگر اساتذہ اور عملے کے ساتھ اتحاد کی حفاظت اور ملک کی سا لمیت کے لئے کام کرنے کا عہد کیا۔
شعبہ سنسکرت میں صدر شعبہ پروفیسر ایچ ایس آچاریہ اور شعبہ ہوم سائنس میں ڈاکٹر صبا خان نے حاضرین کو یوم اتحاد کا حلف دلایا ۔ اس موقع پر طلباء و طالبات کے لئے سلوگن رائٹنگ مقابلہ بھی منعقد کیا گیا۔
شعبہ جیولوجی میں چیئرمین پروفیسر کنور فراہیم خان نے اساتذہ، طلباء اور دیگر حاضرین کو یوم اتحاد کا حلف دلایا۔ کالج آف نرسنگ میں پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی نے اساتذہ اور عملے پر زور دیا کہ وہ ملک و قوم کے تئیں یگانگت کا جذبہ پیدا کریں اور ملک کی ترقی کے لیے کام کریں۔
پروفیسر قمر الہدی فریدی، ڈائریکٹر، اردو اکیڈمی، اے ایم یو نے اساتذہ اور عملے کو اتحاد کا حلف دلایا۔ اسی طرح ایس ٹی ایس اسکول کے پرنسپل مسٹر فیصل نفیس اور آفتاب ہال کے پرووسٹ پروفیسر فیاض الرحمن نے بھی اپنے اپنے اداروں میں حاضرین کو یکجہتی و اتحاد کا حلف دلایا۔
٭٭٭٭٭٭
’’ای -مواد کی تیاری ‘‘ پر دو روزہ ورکشاپ
علی گڑھ، یکم نومبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے کمپیوٹر سائنس شعبہ کے تعاون سے ’’ای- مواد کی تیار‘‘ پر دو روزہ ورکشاپ کا انعقاد کیا جس میں اساتذہ اور ریسرچ اسکالرز سمیت 80 افراد شریک ہوئے۔
مہمان خصوصی ، شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرمین پروفیسر عاصم ظفر نے ورکشاپ کے موضوع کو اہم قرار دیتے ہوئے آرگنائزنگ ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ ڈاکٹر عمار ابن انور نے شکریہ کی تجویز پیش کی۔
افتتاحی تقریب میں شعبہ منافع الاعضاء کے چیئرمین اور ورکشاپ کے آرگنائزنگ سکریٹری ڈاکٹر فاروق احمد ڈار نے ورکشاپ کا خاکہ پیش کیا۔ پروفیسر عبید اللہ خان،ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے ای -مواد کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے میسیو اوپن آن لائن کورسز (موکس) پر روشنی ڈالی، جب کہ پروفیسر بی ڈی خان ، پرنسپل، اجمل خاں طبیہ کالج نے ای -مواد کی تیاری کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی ضرورت پر زور دیا۔
ورکشاپ کے دوران، شرکاء نے مختلف ای-مواد کی تیاری کے موضوعات پر تربیت حاصل کی اور موکس، سویم، ایڈوانسڈ پی پی ٹی وسائل، او بی ایس اور وی ایس ڈی ایس سافٹ ویئر کے بارے میں جانا۔ پروفیسر عاصم ظفر نے فنڈنگ کے مواقع اور اوپن ایجوکیشنل ریسورسز ، سویم، ایڈ ایکس، کورسیرا وغیرہ پر روشنی ڈالی۔
ڈاکٹر یوسف انصاری نے جدید پی پی ٹی ٹولز اور اینیمیشن تکنیکوں کا مظاہرہ کیا، جب کہ ڈاکٹر فیصل انور نے اوبی ایس، وی ایس ڈی سی اور ویڈیو ایڈیٹنگ ٹولز کی تربیت فراہم کی۔
ڈاکٹر ایم ندیم خان اور ڈاکٹر حافظ اقتدار احمد نے ورکشاپ کوآرڈینیٹر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.