گوئنکا کالج کے پروفیسر پر قاتلانہ حملہ ایک بزدلانہ کارروائی: ڈاکٹر دیواکر کمار سنگھ
اساتذہ کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنایا جائے : ڈاکٹر ابصار عالم
سی ایم کالج دربھنگہ میں اساتذہ یونین کی ہنگامی میٹنگ میں فائرنگ واقعہ کی مذمت، کالا ربن لگا کر علامتی احتجاج کا فیصلہ
جالے( محمد رفیع ساگر ؍بی این ایس)رادھا کرشن گوئنکا کالج سیتامڑھی کے شعبہ فزکس کے صدر شعبہ ڈاکٹر روی پاٹھک پر ہوئے قاتلانہ حملے کے سلسلے میں سی ایم کالج دربھنگہ کی اساتذہ یونین کے زہر اہتمام ایک ہنگامی میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں اس حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے واقعہ کی اعلی سطحی جانچ کی مانگ کی گئی ۔ میٹنگ میں اساتذہ یونین کے سکریٹری ڈاکٹر دیواکر کمار سنگھ نے کہا کہ یہ قاتلانہ حملہ محض ایک استاد پر نہیں بلکہ درس و تدریس سے وابستہ پوری برادری پر ہے۔ آج ان پر حملہ ہوا ہے کل کسی اور پر ہوسکتا ہے اور اساتذہ کے ساتھ مارپیٹ کی واقعات آئے دن پیش آتے رہتے ہیں۔اس سلسلے میں انتظامیہ کو دھیان دینا ہوگا۔ میٹنگ میں شعبہ معاشیات کے صدر ڈاکٹر ابصار عالم نے کہا کہ استاد قوم و ملت کا معمار ہوتا ہے لیکن اس طرح کے واقعات سے درس تدریس کے کام کاج متاثر ہوتے ہیں اور ہم اپنا کام دلجمعی سے نہیں کرسکیں گے۔آج سبھی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے لیے خوشگوار اور محفوظ ماحول بنانےکی ضرورت ہے۔ میٹنگ میں ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی اور کالج و یونیورسٹی کے اساتذہ و غیرتدریسی عملے کے تحفظ و سلامتی سے متعلق صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔میٹنگ میں اتفاق رائے سے منظور کیا گیا کہ کل یعنی 2 نومبر کو اس واقعے کی مذمت اور مخالفت میں سبھی اساتذہ کالا ربن لگاکر اپنے کام انجام دیں گے اور علامتی احتجاج کریں گے۔ یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ سی ایم کالج اساتذہ یونین کالج اور یونیورسٹی انتظامیہ کو ایک میمورنڈم بھی پیش کرے گا جس میں کالج و یونیورسٹی اساتذہ کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے مفاد کے حق میں پختہ انتظامات کرنے کی درخواست کی جائے گی. اس میٹنگ میں سی ایم کالج اساتذہ یونین کے سکریٹری ڈاکٹر دیواکر کمار سنگھ، جوائنٹ سیکرٹری ڈاکٹر سنجیت کمار جھا، امتحان کنٹرولر ڈاکٹر مینک شریواستو، صدر شعبہ ہندی ڈاکٹر اکھلیش کمار راٹھور، صدر شعبہ معاشیات ڈاکٹر ابصار عالم، ڈاکٹر ریتا دوبے، میناکشی رانا وغیرہ نے اظہار خیال کیا. اس میٹنگ میں سی ایم کالج کے تمام شعبوں کے اساتذہ موجود تھے اور سبھی نے اس طرح کے واقعات کے اضافے پر تشویش ظاہر کی اور انتظامیہ سے درخواست کی کہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکنے کا کوئی لائحہ عمل ترتیب دیا جائے ورنہ اساتذہ خوف کے سائے میں جینے پر مجبور ہوں گے اور درس وتدریس کے کام کاج بھی متاثر ہوں گے۔
Comments are closed.