واضح اور روشن اسلوب پروفیسر شارب ردولوی کی تنقید ی شناخت ہے: پروفیسر خالد محمود
اردو اساتذہ اکادمی، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام شارب ردولوی کے انتقال پر تعزیتی نشست
نئی دہلی ۳؍نومبر (پریس ریلیز)شارب ردولوی کی ادبی خدمات خصوصاً تنقیدی کارنامے اردو زبان و ادب کا بیش قیمت سرمایہ ہیں۔ نہایت سنجیدہ اور روشن اسلوب ان کی تنقید کی امتیازی شناخت ہے۔ کوئی قاری ان کی آرا سے اختلاف کرسکتا ہے لیکن یہ نہیں کہہ سکتا کہ ان کے اسلوب میں ترسیل کا مسئلہ ہے۔ ان کی صاف اورشستہ زبان اور واضح تصور ان کی تنقیدکے بنیادی خصائص ہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر خالد محمود نے شارب ردولوی کے سانحۂ ارتحال پر اردو اساتذہ اکادمی ، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ تعزیتی نشست میں صدارتی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
اردو اساتذہ اکادمی کے ڈائرکٹر پروفیسر شہزاد انجم نے افتتاحی گفتگو میں اپنے استادپروفیسر شارب ردولوی کی سوانح ، شخصیت اور ادبی خدمات کے مختلف پہلوئوں خصوصاً بہ حیثیت استاد ان کے مشفقانہ اور عالمانہ رویوں پر بالتفصیل روشنی ڈالی ۔ انھوںنے کہا کہ شارب ردولوی صاحب اپنے شاگردوں کی تربیت صرف بات چیت سے نہیں بلکہ عملاًبھی کرتے تھے۔ ان کے سلوک میں استاد کی محبت اور باپ کی شفقت محسوس ہوتی تھی۔ اپنے شاگرد وں کے اہل خانہ کو نام بہ نام جانتے تھے اور ان کی خیر خبر بھی لیتے رہتے تھے۔ ہماری خوش نصیبی ہے کہ ایسے مشفق استاد کی تلمذی کا شرف حاصل رہا۔ اس موقع پر پروفیسر شہپر رسول نے شارب ردولوی سے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ظاہری شکل و شباہت کا حسن ان کی شخصیت میں بھی موجود تھا۔ اخلاص اور انکسار کا وہ نمونہ تھے۔ ادیب اور فن کار تو بہت ہوتے ہیں لیکن بہترین انسان کم ہوتے ہیں۔ شارب ردولوی اچھے ادیب کے ساتھ ساتھ اچھے انسان بھی تھے۔
ڈاکٹر ارشاد نیازی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہ اکہ استاد ِ گرامی پروفیسر شارب ردولوی کی شفقت اور ان کا جاہ و جلال طلبہ کی حوصلہ مندی کے اسباب تھے۔ ان کے وہ شاگرد جو استاد کے منصب پر فائز ہیں۔ ان کے سامنے جاتے ہوئے گھبراتے تھے کہ استاد ہماری ادبی سرگرمیوں کی تفصیل ضرور پوچھیں گے۔ وہ اپنے شاگردوں کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھتے تھے۔
ڈاکٹر واحد نظیر نے پروفیسرشارب ردولوی کے ادبی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تخلیق ، تنقید اور پھر تعمیر کی طرف ان کا رحجان دراصل تجربے اور مشاہدے سے بدلتی ہوئی ترجیحات کو واضح کرتا ہے۔ انھیں یہ عرفان ہوگیا تھا کہ انسانی بقا کے لیے کس چیز کی اہمیت کتنی ہے۔
اس موقع پر ڈاکٹر حنا آفریں نے پروفیسر شارب ردولوی ، ان کی اہلیہ پروفیسر شمیم نکہت اور صاحبزادی مرحومہ شعاع فاطمہ سے مختلف ملاقاتوں کا ذکرکیا۔ انھوںنے شارب ردولوی صاحب کے خاندانی پس منظر اور ادبی سفر پر روشنی ڈالی ۔ ان کی خورد نوازی اور حوصلہ افزائی کے مختلف واقعے بیان کیے۔ اس تعزیتی نشست میں متعدد اساتذہ اور ریسرچ اسکالر ز نے شرکت کی۔ جن اسکالرز نے اپنے تاثرات پیش کیے ان میں جناب محمد ساجد ، جناب زین ہاشمی، جناب زین العابدین ، جناب عبدالماجد ، جناب سیف الرحمن ، محترمہ عذرا انجم، محترمہ وسیمہ اختر ، محترمہ شفق رضیہ اور محترمہ طائبہ کے نام اہم ہیں۔
Comments are closed.