عدل سے سماج میں امن کے ساتھ آپسی رواداری کو فروغ ملتا ہے: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی

کھگڑیا کے پپرا لطیف گاوں میں مصلیان سے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر کا خطاب، استاد محترم مولانا علاء الدین کے قبر پر کی فاتحہ خوانی
جالے(محمد رفیع ساگر /بی این ایس)استاد محترم مولانا علاءالدین رحمہ اللہ ہمارے بہت ہی مخلص اساتذہ میں تھے ،جو جامعہ رحمانی خانقاہ مونگیر کے بہت ہی مقبول استاد تھے۔ ان خیالات کا اظہار عالمی شہرت یافتہ عالم دین فقیہ عصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ،صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے کھگڑیا ضلع کے پپرا لطیف گاؤں میں اپنے استاد محترم کے قبر پر فاتحہ خوانی سے قبل کیا ،مولانا رحمانی نے کہا کہ مولانا علاءالدین اپنے شاگردوں سے بے حد محبت رکھتے تھے اور عربی زبان پر انہیں جہاں دسترس اور قدرت تھی وہیں قرآن کے مفردات پربھی وہ قدرت رکھتے تھے۔ مولانا ڈاکٹر وقارالدین لطیفی آفس انچارج آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور گاؤں کے لوگوں کی خواہش پر مولانا رحمانی نے ظہر کی نماز کے بعد بڑی تعدادمیں موجود لوگوں سے تعلیم ،تجارت سماجی مسائل کے حل کرنے،بہنوں کو جائداد میں حصہ دینے اور ملک کی ترقی اور استحکام حصہ دار بننے جیسے اہم موضوعات پرخطاب کیا۔مولانا رحمانی نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ عدل اور ایثار سے کام لیا اور اپنے صحابہ کو اس پر پابندی سے عمل کا درس دیا ،چونکہ ایثار سے محبت پیدا ہوتی ہے اور عدل سے سماج میں امن کے ساتھ آپسی رواداری کو فروغ ملتا ہے اور معاشرہ ترقی کرتا ہے ،اس اہم پروگرام میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی مولانا نے نوجوانوں کو جہاں تعلیم کی جانب توجہ دلایا وہیں ان کو تجارت کی جانب توجہ دلائی اور فرمایا کہ اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے محنت اور مزدوری کرنے والے ہاتھ کا بوسہ لیا اور ایک گداگر کو کلہاڑی خریدواکر جنگل سے لکڑی کاٹ کر بازار میں فروخت کرکے اپنے بچوں کی پرورش وپرداخت کرنے کا حکم دیا ،مولانا رحمانی نے کہا کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ بے روز نوجوانوں کی خبر سختی سے لیتے تھے اور بسااوقات کوڑے کا استعمال بھی فرماتے تھے ،اس لئے کہ بے روزگاری اسلام میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ عمل ہے اور اللہ نے تجارت میں برکت رکھی ہے ۔
مولانا رحمانی نے لڑکیوں کی تعلیم کی جانب بھی لوگوں کو توجہ دلائی اور کہا کہ ہر علاقے میں غیرمخلوط خالص لڑکیوں کے لئے اسکول کو قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ہنر بھی سکھایا جائے ،مولانا رحمانی نے کہا کہ تاریخ میں تعلیم کی ابتدا ایک خاتون سے ہوئی اور وہ خاتون امہات المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی ذات ہے جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ نے اپنی رفیقہ حیات کو تعلیم کایہ پیغام سب سے پہلے دیا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینا ہماری ذمہ داریوں میں ایک اہم ذمہ داری ہے، مولانا رحمانی کے ساتھ ان کے میزبان تریانواں سمری بختیار پور باشندہ مفتی مولانا خالد مسعود صاحب ندوی ،برادر زادہ مولانا اظہرالاسلام ندوی اور بہار امور کے انچارج معتمد رابطہ عامہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے مولانا مظفر احسن رحمانی سفر میں شریک تھے ،پپرا لطیف کے لوگوں نے صدر باوقار پرزور استقبال کیا، مولانا رحمانی پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد اپنے استاد کے قبرپر ویل جیر کے ذریعہ تشریف لے گئے جہاں بہت دیر تک موجود رہے اور نم آنکھوں کے ساتھ واپس آئے اس موقعہ پر مولانا علاءالدین صاحب رحمہ اللہ کے فرزندان موجود تھے۔ مولانا وقارالدین لطیفی نے کہا کہ ہم نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ مولانا محترم کبھی ہمارے گھر بھی تشریف لائیں گے لیکن مولانا اپنے استاد کی محبت میں سفر کی صعوبتوں کو برداشت کرتے ہوئے تشریف لائے اس کے ہم تمام برادران اور علاقے اور گاؤں کے لوگ مولانا کے شکر گذار ہیں، مولانا شفاءالدین صاحب اگرچہ گھر پر موجودہ نہیں تھے لیکن اس کے باوجود وہ فون پر ہرلمحہ موجود رہ کر حالات سے باخبر رہے ،دیر رات گئے مولانا اپنے آبائی گاؤں جالے دربھنگہ کیلئے روانہ ہوگئے۔

Comments are closed.