شمالی بہار میں لڑکیوں کی دینی تعلیم و تربیت کے تعلق سے مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے مفتی محمد حسنین قاسمی کا تبادلہ خیال

مدھوبنی (پریس ریلیز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر، بین الاقوامی شہرت یافتہ عالم اور فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ان دنوں بہار کے دورے پر ہیں، جہاں وہ اپنے آبائی وطن جالے میں قائم ادارہ دارالعلوم سبیل الفلاح جالے کا تعلیمی جاۂزہ لیں گے وہیں وہ سہرسہ کے ایک بڑے پروگرام میں شرکت بھی فرمائیں گے، اس موقع پر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی بہار آمد کی خبر سن کر مختلف مدارس کے ذمہ داران اور اہل علم کی بڑی تعداد جالے پہونچی تاکہ مولانا سے ملاقات کرکے اپنے اداروں کے تعلق سے مشورہ لے سکیں، اس موقع پر بسفی حلقے کے مشہور و معروف تعلیم نسواں کے مرکزی ادارہ جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کے بانی و ناظم مفتی محمد حسنین قاسمی جالے پہونچے اور مولانا خالد سیف اللہ رحمانی سے خصوصی ملاقات کرکے شمالی بہار بالخصوص مدھوبنی دربھنگہ میں تعلیم نسواں کے تعلق سے تبادلہ خیال کیا، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے مفتی محمد حسنین قاسمی سے جامعہ عائشہ صدیقہ نورچک کی موجودہ تعلیمی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل کی اور اپنے اطمینان کا اظہار کیا، مولانا رحمانی نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب کہ ارتداد کی لہر لڑکیوں کی جانب سے زیادہ پھیل رہی ہے ایسے نازک وقت میں شرعی حدودوقیود میں لڑکیوں کی دینی تعلیم اور اس کی تربیت بہت ضروری ہے بلکہ فرض کے درجے میں ہے، مولانا رحمانی نے مزید کہا کہ کوشش یہ ہو کہ ہر گاؤں میں غیر اقامتی ادارے قائم کئے جائیں اور شرعی پردہ کا لحاظ کرتے ہوئے بچیوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا جائے، مولانا رحمانی نے جامعہ عائشہ صدیقہ نور چک کے غیر اقامتی نظام کو بہت سراہا اور اسے وقت کی اہم ضرورت بتایا، اس موقع پر خانوادہ قاسمی کے چشم و چراغ اور دارالعلوم وقف دیوبند کے مہتمم آمین ملت مولانا محمد سفیان قاسمی بھی موجود تھے، انہوں نے بھی مولانا رحمانی کی تائید کی اور اس کی ضرورت واہمیت کو سمجھنے کی طرف توجہ دلائی، مفتی محمد حسنین قاسمی نے مولانا رحمانی اور مولانا محمد سفیان قاسمی کی باتوں کو بغور سنا اور اس بات کا یقین دلایا کہ انشاء اللہ علاقے میں زیادہ سے زیادہ تعلیم نسواں کے مراکز کے قیام پر توجہ دی جائے گی اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ملت کی کوئی بچی تعلیم سے محروم نہیں رہے گی. انشاء اللہ.. اس موقع پر مفتی محمد حسنین قاسمی کے ہمراہ قاری محمد شاہنواز جامعی بانی جامعہ علوم القرآن ستروپٹی و مولانا غفران ساجد قاسمی و دیگر علاقائی علماء کی ایک بڑی تعداد موجود تھی

Comments are closed.