متھلا مائنوریٹی ڈینٹل کالج کے بانی معروف فکشن نگارآچاریہ شوکت خلیل کا انتقال ادبی وطبی میدان کے لئے عظیم خسارہ
تعزیتی نشست میں مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظر عالم کا اظہار افسوس
جالے(محمد رفیع ساگر /بی این ایس)
متھلا مائنوریٹی ڈینٹل کالج اینڈ ہاسپیٹل کے بانی آچاریہ شوکت خلیل کے انتقال پر اتوار کو بیداری کارواں کے مقامی دفتر لال باغ میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں انھیں شایان شان خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت مسلم بیداری کارواں کے قومی صدر نظرعالم نے کی۔
اس دوران دو منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ نظرعالم نے اپنے خطاب میں کہا ”میں آچاریہ شوکت خلیل کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتا ہوں، اور مرحوم کے لئے دعاگو ہوں۔ اللہ ان کے عزیزوں اور چاہنے والوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی طاقت دے“ شوکت صاحب نہ صرف ڈینٹل کالج کے مالک تھے بلکہ معروف فکشن نگار کے ساتھ ساتھ مشہور صحافی بھی رہے ہیں۔ اپنے قلم کی طاقت کے آگے کسی کی نہیں سنتے تھے۔
مرحوم ایک کامیاب استاد کے ساتھ ساتھ سماج کی فکر رکھنے والے نیک انسان میں شمار کئے جاتے تھے۔ سماج کے لئے اور بھی بہت کچھ کرنا چاہتے تھے لیکن صحت نے ان کا ساتھ نہیں دیا۔ امید ہے اپنے والد کے بچے ہوئے خواب کو ان کے اکلوتے بیٹے انبساط شوکت ضرور پورا کریں گے اور اپنے والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے سماج کے ہر سطح کے لوگوں سے ویسا ہی رشتہ قائم کریں گے جیسا کہ ان کے والد محترم کا تھا۔ ان کے انتقال سے دربھنگہ میں جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کی بھرپائی مشکل ہے۔
وہیں عظمت اللہ ابوسعید نے کہا کہ ”آچاریہ شوکت خلیل میڈیکل کالج کے ایک مہربان، نرم اور خوش گفتار انسان تھے۔ مجھے یہ افسوسناک خبر سن کر بہت دکھ ہواہے“ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلی سے اعلی مقام عطا کرے۔ انہوں نے آگے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ اپنے علم اور تجربہ سے کلاس روم کو ایک خوشگوار جگہ بنایا۔ ان کی کمی محسوس کی جائے گی۔ مرحوم اپنے پیچھے ایک لڑکا اور تین لڑکی سمیت بھرا پورا خاندان چھوڑ گئے ہیں۔ تعزیتی اجلاس میں قاری محمد سعید ظفر٬ اشرف عالم٬ ماسٹر محمد نورعالم٬ محمد اظہر عالم٬ محمد طالب٬ ضمیرخان٬ محمد عرفان وغیرہ نے شرکت کی۔
Comments are closed.