بڑھتی فرقہ پرستی سے ملک کو مزید نقصان ہوگا: مولانا ارشد مدنی

امریکہ کا اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوناقابل مذمت
جمعیۃ علماء ہند کی کانفرنس میں متعدد تجاویز منظور،مخلوط تعلیم سے گُریز کرنے اور اپنے اسپتال قائم کرنے پر زور
دیوبند،13؍ نومبر(سمیر چودھری؍بی این ایس)
جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدرمولانا سید ارشد مدنی نے ملک میں بڑھتی فرقہ پرستی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہاکہ آج کچھ فرقہ پرست طاقتیں ملک کو آگ لگا رہی ہیں،معاشرہ کو ان سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، مولانامدنی نے کہا کہ ہمارا ملک فرقہ پرستی کی وجہ سے ایک مرتبہ ٹوٹ چکاہے اگر فرقہ پرستی بڑھے گی تو ملک کو مزید نقصان ہوگا۔ مولانا ارشد مدنی نے آج یہاں قاسم پورہ روڈ پرواقع ’’مدنی میموریل پبلک اسکول‘‘ میںمنعقد جمعیۃ علماء یوپی کی مجلس منتظمہ کے سرگرم کارکنوں کی کانفرنس سے خطاب کیا۔ مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مغربی اترپردیش کے17اضلاع بشمول مرادآباد، علی گڑھ، میرٹھ، باغپت، مظفر نگر، شاملی، سہارنپور، بجنور، ہاپوڑ، غازی آباد، امروہہ،سنبھل،بدایوں،گوتم بدھ نگر، بلند شہر وغیرہ کے عہدیداروں ن اور ریاست کے تقریباً پندرہ سو فعال کارکنان نے شرکت کی ۔ اجلاس میں تنظیم کی مضبوطی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فرقہ وارانہ ماحول کو تبدیل کر کے اچھے ماحول کے قیام میں مدد کرنے اور آٹھویں جماعت کے بعد لڑکیوں کے لیے الگ تعلیمی ادارے کھولنے کے علاوہ ووٹر بیداری مہم چلانے کے ساتھ ساتھ ووٹر لسٹ میں نئے ناموں کا اضافہ کرنے جیسے مسائل پر سنجیدگی سے غور و خوض کیا گیا اور مختلف قراردادیں کانفرنس میں متفقہ طور پر منظور کی گئیں۔اجلاس میں خاص طور سے پانچ تجاویز منظور کی گئی، جمعیۃ علماء کا تعمیری پروگرام اور مستقبل کا لائحہ عمل۔یہ تجویز کو مولانا مفتی محمد اشفاق احمد اعظمی نے پیش کیا۔ جمعیۃ علماء کی انسانیت کی بنیادوں پر قومی وملی خدمات۔ یہ تجویز کو مولانا سید ازہر مدنی نے پیش کیا۔جمعیۃ علماء کی ہند ومسلم اتحاد کی کوششیں اور اس کا طریقۂ کار۔ یہ تجویز حافظ عبدالقدوس ہادی نے پیش کیا۔ جمعیۃ علماء کا تنظیمی نظام اور عامۃ المسلمین کی نمائندگی۔یہ تجویز مولانا سید حبیب اﷲ مدنی نے پیش کیا۔ جمعیۃ علماء کی تعلیمی وسماجی خدمات وطریقہ کار۔ یہ تجویز مولانا سید کعب رشیدی ایڈوکیٹ نے پیش کیا۔کانفرنس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی صدر مولانا سید اشد رشیدی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہندکے قیام کا بنیادی مقصد قوم کی خدمت اور اسلامی اقدار کا تحفظ ہے۔ اس دوران کارکنان کو جمعیۃ علماء ہند نے 8؍ نکاتی پروگراموں کا خاکہ تیار کیا اور ضلع عہدیداروں کو اپنے متعلقہ اضلاع میں 8؍ نکات پر خصوصی کام کرنے کی ہدایت دی۔خصوصی خطاب میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا ارشد مدنی نے فرقہ پرستی کا مقابلہ کرنے کے لئے پیار و محبت کے پیغام اور بھائی چارہ کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔مولانا مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند جمہوریت اور سیکولر آئین کی مضبوطی کے سلسلے میں میدان میں ہے۔ مولانا مدنی نے فلسطین میں بمباری کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں بچے، خواتین اور نوجوان شہید ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ فلسطین کے شہری اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، جب کہ اسرائیل حملہ آور ہے،ان حالات میں امریکہ اور دیگر ممالک کا اسرائیل کی تائید کرنا قابل مذمت ہے۔مولانا ارشد مدنی نے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے الگ اسکول قائم کرنے کی اپیل کی ،ساتھ ہی اپنے شفاخانے(اسپتال)قائم کرنے پر زور دیا۔ کانفرنس میں مولانا کعب رشیدی نے کہا کہ ہندوستان کی جمہوریت ہر ایک کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی دیتی ہے۔ انہوں نے مدارس کی کامیابیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ مفتی اشفاق اعظمی نے کانفرنس کی نظامت کی اور کانفرنس کا منشور جاری کیا۔ پروگرام کو کامیاب بنانے میں مولانا ازہد مدنی،مفتی خبیب مدنی ،مولانا مسعود،حاجی یٰسین،مفتی خاد الاسلام قاسمی،مفتی اخلاق احمد قاسمی،قاری مظاہر،مولانا مسرور قاسمی، قاری فوزان، محمد عارف سیفی،نور محمد خاں وغیرہ نے خصوصی تعاون کیا۔

Comments are closed.