۳؍ دسمبر  :منوتی یا پنوتی کا دن؟

 

ڈاکٹر سلیم خان

وطن عزیز میں قومی انتخاب تو پانچ سال میں ایک  ہی بار ہوتا ہے الاّ یہ کہ درمیان میں سرکار گر جائے لیکن صوبائی و دیگر  الیکشن برس بھر  جاری و ساری رہتے ہیں۔ فی الحال  ان سب  کو ایک ساتھ کردینے کی  بظاہر ناممکن مشق جاری ہے ۔ اس کے لیے سابق صدر رام ناتھ کووند کی صدارت میں ایک  کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ اس میں وزیر داخلہ امیت شاہ، ایوانِ بالا میں حزب مخالف کے سابق لیڈر غلام نبی آزاد، مالیاتی کمیشن کے سابق صدر این کے سنگھ، لوک سبھا کے سابق جنرل سکریٹری سبھاش سی کشیپ، سابق چیف وجلنس کمشنر سنجے کوٹھاری اور سینئر وکیل ہریش سالوے شامل ہیں۔ کانگریس رہنما ادھیر رنجن چودھری کو دعوت دی گئی تھی  لیکن انھوں نے اسے ٹھکراکر  کنارہ کشی اختیار کر لی ۔اس  کمیٹی کا مقصد لوک سبھا، ریاستی اسمبلیوں، نگر پالیکاؤں اور پنچایتوں کے انتخابات کوبیک وقت  کرانے پرغور کرکے سفارشات دینا ہے۔ اس بابت کوئی خاص پیش رفت تو نہیں ہوئی مگر پچھلے ہفتہ رام ناتھ کووند نے ’ ون نیشن ون الیکشن سسٹم‘ کو  مرکز میں برسراقتدار پارٹی کے لیے  فائدہ مند بتا کر حزب اقتدار کے لیے مشکل کھڑی کردی  اور حزب اختلاف کی جانب سے جو اعتراضات یا جن اندیشوں کا اظہار کیا جارہا تھا ان کی نادانستہ  تائید کردی ۔ 

اعلیٰ سطحی کمیٹی کے سربراہ  رام ناتھ کووند ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لئے  رائے بریلی کے شیواجی نگر آئے تو اپنے  قیام کے دوران  اس اہم  مسئلہ پر تبادلۂ  خیال کیا۔انہوں نے کہا کہ مرکز میں برسراقتدار پارٹی چاہے وہ بی جے پی ہو، کانگریس ہو یا کوئی اور پارٹی، اسے ون نیشن ون الیکشن کا سیدھا فائدہ ملے گا۔ اس  صاف گوئی سے انہوں نےاول  تو بی جے پی کا نقصان کردیا مگر پھر لیپا پوتی کے لیے عوام کو ملنے والے  فائدے  بتانے لگے ۔  ان کے مطابق چونکہ ایسا کرنے سے  کروڑوں روپئے کا بچنے والی رقم  ترقیاتی کاموں میں استعمال  کی  جاسکےگی۔ یہ خوش فہمی  رام ناتھ کووند کی  سادگی یا فریب کاری  ہے۔ عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ عام لوگوں کو کبھی نہیں ملا۔ اس  سےسرکاری خزانے کو بھر کر ایسے منصوبوں پر  خرچ  کیا جاتا ہے جو  ٹھیکیداروں  اور سیاستدانوں کی تجوری بھرتے ہیں۔عوام کو پانچ کلو اناج دے کر اپنا حامی تو بنایا جاتا ہے مگر انہیں خودکفیل بنانے کی سعی نہیں کی جاتی  تاکہ وہ  محتاج رہیں اور احسانمندی میں  ووٹ دینا جاری رکھیں۔

سابق صدر جمہوریہ نے’  ایک قوم ایک انتخاب‘کے نظریہ   کی حمایت میں کہا کہ ہر کسی نے کبھی نہ کبھی اس کی حمایت کی ہے ۔ فی الحال اس کے حق میں اتفاق رائے  بنانے کی سعی  جاری  ہے۔   اس مقصد کے حصول کی خاطر سیاسی جماعتوں سمیت مختلف تنظیموں سے تجاویز طلب کی گئی ہیں۔  نیتی آیوگ اور الیکشن کمیشن جیسے اداروں سمیت  کئی سیاسی جماعتوں نے اس کی حمایت کی ہے۔  انہوں نے اعتراف کیا کہ کچھ سیاسی جماعتوں کا اس سے اتفاق نہیں ہے مگر درمیانی راستہ نکالا جارہا ہے تاکہ اسے   عملی جامہ پہنایا جاسکے ۔  مودی سرکار کا طریقۂ کار یہ ہے کہ اگر سیدھی انگلی سے گھی نہ نکلے تو ٹیڑھی سے کام چلاو۔ اس نے سوچا کہ  یہ قانون بن جائے تب بھی  وزیر اعظم کا چہرا تو موجود ہی رہے گا ہاں  ریاستی وزرائے اعلیٰ  بے وقعت ہو جائیں گے  تو کیوں  نہ ان پانچ ریاستوں کے انتخاب میں یہ تجربہ کرکے دیکھ لیا جائے۔  مودی اور شاہ نے اسی حکمت عملی کے مطابق  حالیہ انتخاب لڑا۔

 اتفاق  سے ان  پانچ میں سے  چار ریاستوں کے اندر ڈبل انجن سرکار نہیں تھی اس لیے وہاں کسی صوبائی چہرے کے بغیر انتخاب لڑنا نسبتاً سہل تر تھا مگر بی جے پی  ہائی کمان نے مدھیہ پردیش کے ماما کو بھی ماما  بنادیا۔  ان کو رسوا کرنے کےلیےامیدواروں  کی پہلی فہرست سے  وزیر اعلیٰ اور  ان کے نائب کا نام  غائب  تھا ۔ اس شکوک شبہات کے ماحول  میں  یار دوستوں نے ماما اور کاکا  کے پتہ  کٹنےکی قیاس آرائی شروع کردی ۔ مودی اور شاہ کے لیے گجرات میں تو یہ کام بہت آسان ہے کہ راتوں رات وزیر اعلیٰ کو گھر بھیج کر اس کی جگہ کسی اور کو براجمان کردیا جائے مگر دس سال  کی انتھک محنت کے بعد بھی  یہ جوڑی پورے  ملک کو  نام نہاد آدرش گجرات بنانے  میں کا میاب  نہیں ہوسکی ۔ اس لیے ۶؍ عدد ارکان پارلیمان کو ٹکٹ دے کر انہیں بلااعلان  وزارت اعلیٰ کے عہدے  کا  دعویدوار بنادیا۔  اس کےبعد انتخابی مہم پر نریندر مودی ایسے چھائے کہ وزیر اعلیٰ بالکل غائب سے ہوگئے ۔ اس کے ردعمل میں  شیوراج سنگھ    چوہان نے اپنے پوسٹرو بینر سے وزیر اعظم کی تصویر غائب کردی ۔ 

وزیر اعظم نریندر مودی  کے اندرفی الحال نرگسیت کی بیماری اس قدر شباب پر ہے  کہ ان کو بی جے پی کے اندر یا باہر کسی کی ناراضی  سے کوئی فرق نہیں پڑتا اور  کسی کی ذرہ برابر  پروا نہیں  کرتے ۔ انہوں نے اپنے لوگوں کے ذریعہ  راجستھان کی سابق وزیر اعلیٰ  وسوندھرا راجے کو اتنا رسوا کیا کہ اگر ان کے اندر عزت نفس موجود ہوتی  یا بلیک میل ہونے کاخطرہ  نہ ہوتا تو بغاوت کرکے کانگریس میں چلی جاتیں یا کم از کم  اوما بھارتی کی طرح انتخابی مہم سے کنارہ کش ہوجاتیں  ۔ ان کے  رکن پارلیمان بیٹے پر کئی الزامات لگ چکے ہیں اس لیے اولاد کی محبت اور دیگر سیاسی  دباو کے تحت وہ سب کچھ برداشت کرتی رہیں۔  چھتیس گڑھ میں بی جے پی کے سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر رمن سنگھ انتخابی مہم کے دوران کہیں بھی نظر نہیں آئے۔  تلنگانہ میں وزیر اعظم بار بار یہ کہتے رہے کہ  بی جے پی اقتدار میں آکر کسی پسماندہ  ہندو کو وزیر اعلیٰ بنائے گی لیکن   اس فرد  کا نام سامنے  نہیں آیا ۔ میزورم میں تو خیر بی جے پی کی جڑ کٹ چکی ہے۔ وہاں مہم کے لیے نہ مودی گئے نہ شاہ ۔ منی پور کا تشدد ان کے قدموں کی زنجیر بن گیا۔  

وزیر اعظم نریندرمودی  نے اس طرح چار  ریاستوں کی مہم اپنے اوپر اوڑھ لی تاکہ جیت کے کریڈٹ میں کوئی شریک نہ ہوسکے۔ اس حکمت عملی میں ایک خطرہ  یہ بھی ہے کہ اگر کامیابی کے بجائے شکست سے دوچار ہونا پڑے تو اس ناکامی میں بھی کوئی شریکِ کار نہیں ہوگا۔ پارٹی کے اندر خوف اور لالچ کے تحت کئی لوگ بادلِ ناخواستہ  آگے آکر بلی  کا بکرا تو  بنا ئیں گےلیکن  ’یہ جو پبلک ہے نا وہ سب جانتی  ‘۔  حالیہ انتخابی مہم کے دوران وزیر اعظم کی تھکن کو سبھی  نےمحسوس کیا۔ دوبارہ وزیر اعظم بننے کی خواہش وہ  عمر کا تقاضہ ہےجس پر قابو پانا ناممکن ہے۔ ویسے تو مودی اپنے آپ کو  دنیا کا مقبول ترین رہنما سمجھتے ہیں مگر ایسا  نہیں ہے۔  وہ بزعمِ خود مصروف ترین وزیر اعظم   ہیں اور  بھگتوں کے مطابق ہر روز  اٹھارہ گھنٹے کام کرتے ہیں ۔ کیا کام کرتے ہیں یہ بھگتوں کوتو کجا خود ان کو بھی نہیں معلوم لیکن وہ ’نہ خود  چین سے بیٹھتے ہیں اور نہ کسی کو سکون سے بیٹھنے دیتے ہیں‘۔ان کا نیا نعرہ ہے ’پریشان کرو اورپریشان رہو‘۔مودی جی  کی سب سے بڑی پریشانی انتخابات  ہے ۔

مودی جی  نے گزشتہ دو پارلیمانی الیکشن  تو خیرکسی طرح جیت لیے   مگر صوبائی انتخابا  ت میں اکثر انہیں منہ کی کھانی پڑتی ہے۔ اسی لیے مغربی بنگال کی کراری ہار کے بعد آر ایس ایس نے ان کو اپنا وقار بچانے کی خاطرریاستی انتخابی مہم سے دور رہنے کا مشورہ دیا تھا مگر وہ نہیں مانے اور اترپردیش کا الیکشن خوب زور و شور سے لڑا۔ اتفاق سے اس میں کامیابی بھی مل گئی حالانکہ ۶۶؍ نشستیں کم ہوگئی تھیں پھر بھی آر ایس ایس کے منہ پر قفل لگ گیا۔ کرناٹک میں شکست ہوئی تو آر ایس ایس نے پھرسے آرگنائزر   میں لکھ دیا کہ انتخاب میں کامیابی کے لیے مودی کا چہرا کافی نہیں ہے لیکن چونکہ وزیر اعظم کو  اپنے سوا کوئی دکھائی ہی نہیں دیتا اس لیے موجودہ پانچ صوبوں کے انتخابات میں  بی جے پی کے تمام چہرے پس پردہ  بھیج دئیے گئے اور پھر ایک بار’ہرہر مودی گھر گھر مودی ‘     کاجاپ شروع ہوگیا۔

  مودی جی کی  خود پسندی نے ایک طرف تو بی جے پی جیسی کیڈر والی پارٹی کو لیڈر پر منحصر سیاسی جماعت میں تبدیل کردیا دوسرے آر ایس ایس کی اہمیت ختم کر دی۔ یہ بات سنگھ کو بہت  ناگوار ہے مگر وہ بھی کرے تو کرے کیا اس لیے  لاچار ہے۔ ان صوبوں کے انتخاب میں اگر بفرضِ محال بی جے پی شکست فاش سے دوچار ہوجاتی ہے تو مسلمانوں  سے زیادہ خوشی آر ایس ایس کو ہوگی۔ بعید نہیں کہ وہ مودی کی بے اثری   کو اچھال کر  اگلا قومی انتخاب  بھی  بغیر کسی چہرے کے لڑنے پراصرار کرے ۔ ایسا کرنے کی صورت میں اسے مودی کا متبادل پیش کرنے کا موقع مل جائے گا۔  کامیابی کی صورت میں وہ اپنے کٹھ پتلی کو وزیر اعظم بنا کر مودی جی کے ذریعہ  پارٹی اور نظریہ کو ہونے والے  نقصان  کی بھرپائی کا ساما ن کرسکے ۔سنگھ کی یہ منو کامنا(دلی آرزو)  پوری ہوگی یا نہیں یہ جاننے کے لیے ۳؍ دسمبر تک انتظار کرنا پڑے گا ۔   سنگھ کی  یہ منوتی  پوری ہو یا نہ ہو ہر دو صورت میں  اگلے الیکشن تک مودی کو پنوتی قائم و دائم  رہے گی ۔ آگے کیا ہوگا کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے؟ 

 

Comments are closed.