Baseerat Online News Portal

غزہ: زمینی آپریشن میں 76 اسرائیلی فوجی ہلاک ، اسرائیل کاانکشاف

بصیرت نیوزڈیسک
خیال رہے کہ اسرائیل کے تازہ حملے اس سات روزہ جنگ بندی کے بعد شروع ہو گئے تھے جو جمعہ یکم دسمبر کو ختم ہو گئی تھی۔ اس جنگ بندی کے دوران حماس کی طرف سے یرغمال بنائے گئے 105 افراد کو رہا کیا گیا جن میں سے اکثریت اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ بدلے میں اسرائیل کی طرف سے بھی اسرائیلی جیلوں میں قید 240 فسلطینیوں کی رہائی ممکن ہوئی۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں زمینی آپریشن کی بحالی اور حماس کے ساتھ جھڑپوں کا یہ سلسلہ اسرائیل کے قریبی حلیف امریکہ کے ان مطالبات کے باوجود جاری ہے جن میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل اپنے آپریشن کے نئے مرحلے میں فلسطینی سویلین کو کم سے کم نقصان پہنچانے کو یقینی بنائے۔ خیال رہے کہ امریکہ اور اسرائیل سمیت متعدد مغربی ممالک حماس کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق غزہ کے رہائشیوں نے اتوار کو اس بات کا خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے غزہ کے جنوبی حصے میں زمینی آپریشن یقینی ہے۔ اسرائیلی ٹینکوں نے غزہ کے وسطی حصے میں خان یونس اور دیر البلح کے درمیان سڑک کو بلاک کر دیا ہے جس سے غزہ پٹی تین حصوں میں بٹ کر رہ گئی ہے۔
آج پیر چار دسمبر کو اسرائیلی فوج کی طرف سے ایکس پر جاری کردہ بیان میں غزہ کے رہائشیوں کو کہا گیا ہے کہ وہ غزہ کے 20 علاقوں یا بلاکس کو خالی کر دیں۔ اس کے لیے نقشے پر تیر کے تین نشانوں سے جنوب کی طرف اشارہ کیا گیا جہاں یہ لوگ جا سکتے ہیں۔
غزہ کے رہائشیوں کے مطابق اسرائیلی طیاروں اور توپ خانے نے خان یونس اور غزہ کے جنوب میں واقعے ایک اور شہر رفح میں بھی بمباری کی ہے۔ اس بمباری کے بعد علاقے کے ہسپتال زخمیوں کو طبی امداد پہنچانے کے لیے سخت مشکل کا شکار ہیں۔
اسرائیلی حکومت کے ترجمان آئیلون لیوی کے مطابق اسرئیلی فوج نے اختتام ہفتہ پر 400 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا ہے، جن میں خان یونس کے علاقے میں بڑی تعداد میں فضائی حملے بھی شامل ہیں اور یہ کہ شمال میں بیت لاھیا نامی علاقے میں حماس کے عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا گیا ہے اور ان کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کیا گیا ہے۔
اتوار تین دمسبر کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں اور اسرائیلی فوج کے درمیان غزہ کے جنوبی شہر خان یونس سے قریب دو کلومیٹر دور جھڑپ ہوئی ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان ریئر ایڈمرل ڈینیئل ہگاری نے تل ابیب میں صحافیوں کو بتایا، ”اسرائیلی دفاعی افواج پورے غزہ میں حماس کے مراکز کے خلاف زمینی آپریشن کا دائرہ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھی ہوئے ہیں۔‘‘ ان مزید کہنا تھا، ”فورسز دہشت گردوں کے آمنے سامنے آ رہی ہیں اور انہیں مار رہی ہیں۔‘‘
اسرائیل کی طرف سے آج پیر کے روز بتایا گیا ہے کہ غزہ میں زمینی آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی تعداد بڑھ کر 76 ہو گئی ہے۔
آج پیر کو علی الصبح حماس کے میڈیا کی طرف سے بتایا گیا کہ غزہ سٹی میں ایک اسرائیلی فضائی حملے میں تین ایمرجنسی ورکرز مارے گئے۔
اتوار کو غزہ کے شمال میں واقع جبالیہ مہاجر کیمپ کو بھی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ غزہ کی وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق اس حملے میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
سات اکتوبر کو فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس کی جانب سے اسرائیل میں دہشت گردانہ حملوں میں 1200 کے قریب افراد مارے گئے تھے جبکہ 240 کے قریب افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے جائے گیا تھا۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ 136 یرغمالی ابھی بھی حماس کے قبضے میں ہیں۔
حماس کے ان حملوں کے بعد سے اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ میں جاری فضائی حملوں اور زمینی آپریشن کے دوران غزہ کی وزارت صحت کے مطابق 15,523 افراد مارے جا چکے ہیں۔
بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں مال بردار بحری جہازوں پر اتوار کے روز ہونے والے حملوں نے اسرائیل حماس تنازعے کے پھیلاؤ کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
امریکی وزارت دفاع کے مطابق تین تجارتی بحری جہاز، بحیرہ احمر کے بین الاقوامی سمندر میں یمنی حوثی باغیوں کے حملوں کا نشانہ بنے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ علاقے میں موجود امریکی بحیرہ کے ایک جنگی جہاز نے تین ڈرون مار گرائے۔
یمن میں سرگرم ایران نواز حوثی باغیوں کے ایک ترجمان کے مطابق ان کی بحریہ نے بحیرہ احمر میں دو اسرائیلی بحری جہازوں کو ایک مسلح ڈرون اور ایک میزائل سے نشانہ بنایا۔ تاہم اسرائیلی فوج کی طرف سے اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ ان بحری جہازوں کا اسرائیل کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔

Comments are closed.