مولانا جعفر حسنی ندوی بلند اخلاق کے مالک تھے : مولانا بلال حسنی
تعمیر حیات کی خصوصی اشاعت بیاد مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی کا اجرا
لکھنٶ 7/ جولاٸی(پریس ریلیز) دارالعلوم ندوة العلماء لکھنٶ کے مہمان خانہ کے صحن میں ایک پروقار محفل کا انعقاد ہوا ۔ اس محفل کی صدارت ناظم ندوۃ العلماء حضرت مولانا سید بلال عبدالحی حسنی ندوی نے اور نظامت نائب مدیر تعمیر حیات مولانا عمیر الصدیق ندوی نے کی ۔
اس محفل میں مولانا سید جعفر مسعود حسنی ندوی سابق ناظر عام ندوة العلماء کی حیات و خدمات اور اوصاف وکمالات پر مشتمل پندرہ روزہ تعمیر حیات لکھنٶ کے خصوصی شمارے کا اجرا ہوا ۔
اس موقع پر ناظم اجلاس نے مولانا مرحوم کی صفات و خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی جدائی پر حسرتوں کا اظہار کیا، اور کہا کہ عہدہ میں وہ ناظر عام تھے لیکن فی الواقع وہ منظور عام تھے اور پھر اپنے مخصوص انداز میں کچھ یوں خراج محبت پیش کیا جسے حاضرین نے بھی اپنے دل کی آواز اور اپنے جذبات کی نمائندگی سمجھا..
انھوں نے بڑی رقت کے ساتھ کہا کہ جعفر تم بھی چلے گئے…!
صدر اجلاس نے اپنے مختصر و جامع خطاب میں مولانا جعفر مسعود صاحب کے ان بلند اخلاق کا تذکرہ کیا جن کو ایک عام انسان بھی اختیار کر سکتا ہے، اور ان صفات کی طرف متوجہ کیا جو ہر عالم دین کو بلند مقام تک پہنچا سکتی ہیں..
صدر محفل نے مولانا جعفر صاحب کی للّٰہیت ، فکر آخرت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس تیزی سے کام نمٹانا چاہتے تھے کہ لگتا تھا کہ کسی نے صور پھونک دیا ہو کہ وقت کم ہے. ان کا دل دنیا سے بالکل اچاٹ سا ہوگیا تھا ۔ مولانا نے کہا کہ سچی بات یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو بات کہی گئی ہے کہ رجال صدقوا ماعٰھدوا اللّٰہ علیہ اس پر انہوں نے پوری طرح عمل پیرا ہوکر دکھایا ۔ لگتا تھا کہ انھوں نےکمر باندھ لی ہے اوریہ طے کرلیا تھا کہ اب جو بھی وقت ہے وہ اسی میں گذارنا ہے کہ امت کو کیسے آگے بڑھایا جائے ؟ اس کی کیسے رہنمائی کی جائے ؟ اور خاص طور سے ندوۃ العلماءکے لیے جو انھوں نے کوششیں کیں اس سے اندازہ ہوتاہے کہ ان کے اندر ایک عجیب سا جذبہ پیدا ہواگیا تھا کہ شاید اس انداز سے پہلے کسی نے محسوس نہ کیا ہو ۔ ندوہ آنے کے بعد انھوں نےاپنی صلاحیتوں کو جس طرح اس کی تعمیر وترقی کے لیے اپنے کو نچھاور اور قربان کیا یہ تاریخ کا ایک حصہ ہے اورالحمد للّٰہ اس سے ندوۃ العلماء کو فائدہ پہنچا ۔ اس کے بہت سارے شعبے ایسے متحرک ہوئے جو شاید پہلے اس طرح حرکت کے ساتھ نظر نہیں آتے تھے۔
اس نشست میں ندوۃ العلماء کے مختلف عہدیداران، اساتذہ کرام، شہر سے تشریف لائے مہمانان گرامی اور بڑی تعداد میں طلبہ شریک ہوٸے ۔
Comments are closed.