ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے،قادیانیوں کی کتابیں خریدنا اور ان کو پڑھنا جائز نہیں:مولانا انیس الرحمن قاسمی

 

پھلواری شریف:۶/دسمبر(پریس ریلیز)
ان دنوں گاندھی میدان میں بک فیئر(کتاب میلہ)چل رہا ہے، اطلاعات کے مطابق اس کتاب میلے میں قادیانیوں کا بھی بک اسٹال ہے، مسلمانوں کو اس قادیانی(احمدی) بک اسٹال سے کتابیں نہیں خریدنی چاہیے اوران سے بات چیت سے بچنا چاہیے،کیوں کہ ان کی کتابیں اسلام کے خلاف مواد پر مشتمل ہیں، اورجگہ بہ جگہ بیجاتاویلات کے ذریعہ ختم نبوت کے عقیدے کو کمزورکرنے کی کوشش ہوگی۔ ایسی کتابوں کاپڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہ باتیں آل انڈیا ملی کونسل کے قومی نائب صدر حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اسلام اللہ کا پسندیدہ اورآخری دین ہے، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے آخری نبی اوررسول ہیں، قرآن کریم اللہ کی آخری کتاب ہے، اب نہ کوئی نیا نبی اوررسول آئے گا،اورنہ کوئی کتاب نازل کی جائے گی، قیامت تک آنے والے لوگوں کی ہدایت ونجات کی راہ بس آخری نبی سیدنا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت اورسنت کی پیروی ہے، اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں واضح طورپر کھلے لفظوں میں اعلان فرمادیا ہے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ کے رسول اورخاتم النبین یعنی آخری نبی ہیں۔(احزاب:40)خود آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ارشاد فرمادیا کہ میں آخری نبی ہوں،میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔اورآقاعلیہ الصلاۃ والسلام نے یہ بھی فرمایا کہ عنقریب میرے بعد تیس جھوٹے آئیں گے۔ ہر کوئی یہ دعویٰ کرے گا کہ وہ نبی ہے، حالاں کہ میں خاتم النبین ہوں،میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ (ترمذی،حدیث نمبر:2219)یہ حدیث صحاح کی اکثر کتابوں میں ہے، اوریہ تواتر کا درجہ رکھتی ہے، اب اگر کوئی شخص نبوت کا دعویٰ کرے یا کوئی شخص اس جھوٹے نبی کی پیروی کرے اوراسے نبی مانے یا کوئی شخص کسی نبوت کا دعویٰ کرنے والے شخص سے معجزات کا بھی مطالبہ کرے،تو ایسا شخص مؤمن نہیں ہے، وہ شخص کافر ہے اوراس پر پوری امت کا اجماع ہے۔

حضرت مولانا نے کہا کہ، ختم نبوت کا عقیدہ اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے، اس عقیدہ سے ایک لمحہ کے لیے انحراف بھی انسان کو کافراوراللہ کا باغی بنادیتا ہے،ایسا شخص اسلامی قانون کے اعتبار سے قتل کا مستحق ہے، ہاں ہندوستان جیسے ممالک میں جہاں جمہوری نظام رائج ہے،وہاں اسے قتل نہیں کیا جائے گا، لیکن اس سے قطع تعلق کرنا اورہر طرح کا رشتہ توڑ دینا واجب ہے،ہندوستان میں مرزا غلام احمد قادیا نی جس کی پیدائش 13/فروری 1835ء کو ہوئی تھی، اس نے نبوت کا دعویٰ کیا، اوراس جھوٹے شخص نے نہ صرف نبوت کا دعویٰ کیا،بلکہ اپنے کو کرشن کا اوتار بھی بتلایا، اس نے سینکڑوں جھوٹے دعوے کیے، درحقیقت یہ شخص حکومت برطانیہ کا ایجنٹ تھا،دعویٰ نبوت سے اس کا مقصد مسلمانوں اورہندووں کے درمیان نفرت پیدا کرنا اورجنگ آزادی کی مہم کو کمزورکرنا تھا،اس کے ماننے والے خود کو قادیانی یا احمدی مسلمان کہتے ہیں، پوری امت کا اتفاق ہے کہ قادیانی مسلمان نہیں ہیں،بلکہ یہ کافر اوردجال ہیں۔شکل وصورت کے اعتبار سے یہ بظاہر مسلمان دکھتے ہیں اوربھولے بھالے مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنساتے ہیں اوران کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں، اس لیے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ قادیانیوں سے ہوشیار رہیں اوردوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

Comments are closed.