امارت شرعیہ نے ہمیشہ شور کی بجائے شعور سے کام کیا ہے
محمد قمر الزماں ندوی ۔۔۔۔۔۔۔
امارت شرعیہ کی ماضی میں ہمیشہ یہ زریں اور روشن تاریخ رہی ہے اور اس کا یہ کارنامہ رہا ہے کہ انہوں نے شور کے بجائے ہمیشہ شعور سے کام لیا ہے، اور حکمت و دانائی کی راہ سے کبھی ہٹے نہیں۔
حضرت مولانا شاہ بدر الدین صاحب رح سے لے کر حضرت مولانا سید سید نظام الدین صاحب رح تک کی آپ تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں کہ ان اکابر نے کبھی شور و غوغا اور ہنگامہ کا راستہ نہیں اپنایا ، بلکہ ہمیشہ شور کی بجائے شعور سے کام لیا اور فراست ایمانی کا ثبوت دیا ، اس کے پیچھے اعلیٰ دماغ اور اعلیٰ ذہانتیں صرف ہوتی تھیں، بطور خاص حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رح جیسے لوگوں کی حکمت اور دور اندیشی کام آتی تھی۔
یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں پر کبھی سیاست بازی کے، یا اور دوسرے کوئی الزامات نہیں لگے اور نہ کسی نے اس کی ہمت و جرات کی۔
اب یہ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ امارت شرعیہ کو آج کے یہ جذباتی اور ناتجربہ کار نوجوان شعور کی بجائے شور کے راستے پر لا رہے ہیں اور جان بوجھ کر اس کی شناخت اور حیثیت کو کمزور کر رہے ہیں ۔
میں امارت شرعیہ کے بارے میں کچھ بھی تبصرہ کرنے سے احتیاط کرتا ہوں اور نہ کسی کی کبھی جانب داری کرتا ہوں ۔
لیکن آج کے کئی ڈبیٹ، انٹر ویو اور صحافیوں کی زہریلی گفتگو سے اندازہ لگایا کہ اب اگلا الیکشن بھاجپا بنام امارت شرعیہ نہ ہو جائے اور اس کا پورا پورا فائدہ بی جے پی کو نہ مل جائے اور وہ بہار میں مکمل اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے ۔
اندھ بھکتوں کے رویے اور ان کے شور و ہنگامے میں کہیں احتجاج کا مقصد ہی نہ فوت ہو جائے اور فائدہ کسی اور کو مل جائے ۔
اس لئے میری درخواست ہے کہ شور و ہنگامے سے پرہیز کریں اور بھیڑ پر زیادہ فخر اور عجب میں مبتلا نہ ہوں ، زمینی محنت کریں حقائق پر نظر رکھیں اور پھونک پھونک کر قدم رکھیں ۔
مجھے جو بات سچ اور حق سمجھ میں آئی وہ میں نے لکھ دیا ، اپنے خفا ہوں یا بیگانے نا خوش مجھے اس کی پرواہ نہیں کیونکہ
میرا مسلک ہے کہ
کہتا ہوں وہی بات سمجھتا ہوں جسے حق
میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ قند
Comments are closed.