تعزیہ داری کی ابتداء اور اس کے شرعی احکام

 

از قلم:محمد ارشد قاسمی سید پوری

متعلم المعہدالعالی امارت شرعیہ،پٹنہ

تعزیہ عربی زبان کا مصدر ہے، اس کا لغوی معنی تسلی اور دلاسہ دلانا ہے جیسا کہ عربی زبان کی مشہورلغت” المعجم الوسیط ” میں ہے عزّاہ: صبّرہ (المعجم الوسیط، ص599، زکریا بک ڈپودیو بند)

حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہما کی تربتوں کی نقل جو کاغذ اور بانس کے قبہ کے اندر محرم کے دنوں میں دس روز تک ان کا ماتم یا فاتحہ دلانے کے واسطے بطور یادگار بنایا جاتا ہے،اصطلاح عرف عام میں اسے تعزیہ کہتے ہیں۔

تعزیہ داری کی ابتداء: اسلامی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجری کیلنڈر کی ابتدائی ساڑھے تین صدی تک پورے بلاد اسلامیہ میں کہیں بھی تعزیہ داری کا وجود نہیں تھا اور عرصہ دراز تک مسلمانوں کا معاشرہ اس فتنہ سے محفوظ رہا، ساڑھے تین سو سال کے بعد بغداد میں ایک غالی شیعہ حکمراں معز الدولہ دیلمی نے اس فتنے کی داغ بیل ڈالی اور مختلف شکلوں میں اب تک اس کا رواج چلتا آ رہا ہے، چنانچہ معروف مؤرخ حضرت مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی اپنی مشہور زمانہ کتاب تاریخ اسلام میں تعزیہ داری کی ابتداء پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طراز ہیں: 352ھ کے شروع ہونے پر ابن بویہ (معز الدولہ) نے حکم دیا کہ دس محرم کو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے غم میں تمام دکانیں بند کر دی جائیں، بیع وشراء بالکل موقوف رہے، شہرودیہات کے تمام لوگ ماتمی لباس پہنیں اور اعلانیہ نوحہ کریں، عورتیں اپنے بال کھولے ہوئے، چہروں کو سیاہ کرتے ہوئے، کپڑوں کو پھاڑتے ہوئے، سڑکوں اور بازاروں میں مرثیے پڑھتی، منہ نوچتی ہوئی اور چھاتیاں پیٹتی ہوئی نکلیں، شیعوں نے اس حکم کی بخوشی تعمیل کی مگر اہل سنت دم بخود اور خاموش رہے کیونکہ شیعوں کی حکومت تھی۔

آئندہ سال 353ھ میں پھر اس حکم کا اعادہ کیا گیا اور سنیوں میں فساد برپا ہوا، بہت بڑی خون ریزی ہوئی اس کے بعد شیعوں نے ہر سال اس رسم کو زیر عمل لا نا شروع کر دیا اور آج تک اس کا رواج ہندوستان میں ہم دیکھ رہے ہیں، عجیب بات ہے کہ ہندوستان میں اکثر سنی لوگ بھی تعزیہ بناتے ہیں۔ (تاریخ اسلام، ج2، ص 519، زکریا بک ڈپودیوبند)

اس مختصر داستان سے عالم اسلام میں تعزیہ داری کی ابتدائی تاریخ معلوم ہوتی ہے؛ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں اس کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی؟ اس سلسلے میں مستند کتب تاریخ اور سفر نامے کل کے کل خاموش ہیں اور تاریخ نویسوں کے نقطہائے نظر بھی مختلف ہیں، بعض ہند میں اس کا موجد تیمور لنگ کو قرار دیتے ہیں (اور یہی زیادہ مشہور ہے) تو بعض اس کا انکار کرتے ہیں، پس قطعی طور پر کسی ایک رائے کو راجح قرار دینا مشکل ہے ہاں البتہ کثرت آراء کی بنا پر ترجیحی پہلو ضرور اختیار کیا جا سکتا ہے۔

جہاں تک میرے طالب علمانہ مطالعے کا تعلق ہے تو تعزیہ داری کا موجد امیر تیمور کو قراردینے والے حضرات کی تعداد زیادہ ہے اور منکرین کی تعداد بالکل کم گویا آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ذیل میں دونوں حضرات کی تحریروں کو ترتیب وار نقل کیا جا رہا ہے۔

اردو کی معروف ترین اور پہلی مکمل لغت فرہنگ آصفیہ ہے، جس کے مصنف سید احمد دہلوی کا تعلق بہار کا پُر بہار اور مردم خیز ضلع بیگو سرائے سے ہے، صاحب کتاب رقم طراز ہیں کہ اس کی ابتداء اس طرح ہوئی تھی کہ جب تیمور گورگان اہل کوفہ کو قتل کرنے کے بعد کربلائے معلی گیا تو وہاں سے کچھ تبرکات ایک پالکی میں رکھ کر نہایت ادب کے ساتھ لایا پس جب سے لوگ اس طرح پر تعزیہ بنانے اور اسے اٹھانے لگے۔ایک اور محقق نے تعزیہ کی ابتداء اس طرح بیان کی ہے کہ تیمور صاحب قران سید الشہداء کا بڑا معتقد تھا، جب بایزید قیصر روم کو گرفتار کر چکا اور متبرک اور مقدس مقامات متعلقہ سلطنت روم جب اس کے قبضے میں آگئے تو کربلائے معلی کی زیارت کو گیا حسب بشارت سیدالشہداء خدا کی شان جس طرف رخ کیا ان تبرکات کی برکت سے وہیں فتح یاب ہوا، جب ہندوستان آیا تو محمل کے بجائے ہاتھی کی عماری پر (رکھا)، اس ہاتھی کو سب سے آگے رکھنے لگا، ایک دفعہ ایک وزیر نے بھی کسی جنگ کے موقع یہی عمل کیا اور فتح یاب ہوا تو اس زمانے سے رواج ہوگیا، چونکہ محرم کے موقع پر صاحب قران اس محمل کے پردے زیارت کے واسطے اٹھا دیتا تھا تو تعزیہ داروں نے وہی ترکیب و ترتیب اختیار کر لی، تبرکات کے بجائے سبز و سرخ تربتیں اندر رکھنے لگے، ہند کے سوا اور ولایت میں یہ دستور نہیں ہے۔ (فرہنگ آصفیہ، ج /۱: ص/618)

چونکہ اس کا تعلق بطور خاص شیعہ مذہب سے ہے اور یہ ایک تاریخی بحث ہے اس لیے اس کی ابتدائی تاریخ کی تعیین کے سلسلے میں شیعی مصنفین کی تحریروں کا سہارا بھی لیا جا سکتا ہے چنانچہ شیعہ مصنف سبط الحسن ہنسوی اپنی کتاب ”عزاداری کی کا تاریخ اور اس کا اثبات سنی نقطہ نظر سے میں لکھا ہے کہ تعزیہ کی ابتداء کے بارے میں ہندوستان میں ایک روایت عموما زباں زد اور مشہور ہے، جس کو تو اتر کا مرتبہ دیا جا سکتا ہے وہ یہ کہ اس کا موجد امیر تیمور صاحب قران ہے، اس کا تاریخی ثبوت اب تک فراہم نہیں کیا جا سکا۔ (عزاداری کی تاریخ اور اس کا اثبات سنی نقطہئ نظر سے، ص44)

ایک دوسرے شیعہ مصنف مولوی سید شاکر حسین نقوی اپنی کتاب تاریخ مجاہد اعظم میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ تعزیہ اور نقل ضریح مبارک بنائے جانے کا وجود تلاش و جستجو کے باوجود آج تک صحیح پتا نہ چلا کہ اس کی ابتداء کب اور کیوں کر ہوئی؟ عام طور پر اس کی ابتداء اور رواج کے متعلق امیر تیمور صاحب قران کا نام لیا جاتا ہے اور زبان زد خاص و عام بھی یہی ہے کہ صاحب قران اعظم نے دہلی پر قبضہ کیا تو اسی اثنا میں عشرہ محرم آگیا تھا اور اس کو عزادارئی جناب سید الشہد سے کمال شغف تھا،نقل ضریح بنوا کر یہاں بھی عزاداری کی، آگے چل کر لکھتا ہے کہ مگر یہ خیال اس وجہ سے صحیح نہیں ہو سکتا کہ امیر تیمور عشرہ محرم ختم ہو جانے کے بعد12 محرم 800ھ کو ہندوستان کی سرحد میں داخل ہوا تھا۔

6/ ربیع الاول کو میدان فیروز آباد میں سلطان ناصر الدین تغلق بادشاہ دہلی کو شکست ہوئی، صاحب قران اعظم 18/ ربیع الاول کو دہلی میں داخل ہوا، دو ہفتہ شہر میں قیام کیا اور22/ ربیع الاول کو یہاں سے کوچ کر گیا۔29/ جمادالثانی800ھ سرحد ہندستان سے باہر چلا گیا، اس حساب سے اس نے عشرہ محرم ہندستان کا نہیں کیا(مجاہد اعظم ص 332)

 

رسومات محرم اور تعزیہ داری کے مؤلف محمود احمد عباسی مجاہد اعظم کے مصنف کے حوالے سے تعزیہ کا موجد امیر تیمور لنگ کے متعلق مشہور روایت کی تردید کرتے ہیں اور آگے تحریر فرماتے ہیں کہ گنبد دار تعزیہ کا رواج غالباً لکھنؤ سے شروع ہوا ہے، بعض سن رسیدہ لوگوں سے سنا گیا ہے کہ نواب آصف الدولہ بہادر کے آغاز زمانہ میں اول ایک سبزی فروش نے بانس اور کاغذ کا تعزیہ بنایا تھا، جب وہ سبزی فروش مر گیا تو وہاں میرباقر نے ایک امام باڑہ بنوادیا، اس کے بعد ویسے ہی تعزیوں کا رواج ہوا۔(رسومات محرم اور تعزیہ داری، ص51)

تاریخ کے اوراق پر غائرانہ نظر ڈالی جائے تو زمانہ قریب کے مشہور مؤرخ مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی کی تحریر سے مصنف مجاہد اعظم کی تردید معلوم ہوتی ہے، نیز تیمور لنگ کو بانی و موجد قرار دینے والے حضرات کی یک گونہ تائید بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی اپنی تصنیف ”آئینہ حقیقت نما میں حملہئ تیمور کے عنوان سے اختصار کے ساتھ پورا واقعہ لکھنے کے بعد بطور خلاصہ تحریر فرماتے ہیں کہ تیمور بماہ رجب 800ھ ہندستان میں داخل ہوا تھا اور ایک سال سے کچھ زائد دنوں کے بعد حدود ہندستان سے واپس چلا گیا۔شیعی مصنف کے مطابق تیمور لنگ ہندوستان میں 12/محرم800 ھ میں داخل ہوا اور 29/ جمادی الثانی800 ھ میں سرحد سے باہر بھی چلا گیا گویا وہ ہندوستان میں ساڑھے پانچ مہینہ رہا جبکہ آئینہ حقیقت نما میں واضح لفظوں میں موجود ہے کہ ایک سال سے کچھ زائد دنوں بعد حدود ہندوستان سے واپس چلا گیا، اس سے مجاہد اعظم کے مصنف کی تردید اور اشارۃ دوسرے حضرات کی تائید بھی ہو رہی ہے۔

تعزیہ داری کی شرعی حیثیت: اہل سنت و الجماعت کے علمائے ربانیین کے علاوہ دیگر فرقوں کے علماء کرام (جن کا اجماع میں اعتبار ہے) کا بھی اتفاق ہے کہ تعزیہ داری ناجائز ہے گویا تعزیہ داری کے عدم جواز پر علمائے امت کا اجماع ہو چکا ہے۔اس سلسلے میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی اپنی تصنیف ”التفہیمات الالہیہ ” میں اس کی مذمت بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: یا معشر بنی آدم اتخذتم رسوما فاسدۃ تغیر الدین اجتمعتم یوم عاشوراء فی الاباطیل فقوم اتخذہ ماتما اما تعلمون ان الایام ایام اللہ والحوادث من مشیۃ اللہ وان کان حسین رضی اللہ عنہ قتل فی ہذا الیوم فای یوم لم یمت محبوب من المحبوبین وقد اتخذوہ لعبا بحرابہم وسلاحہم…. اتخدتم الماتم عیدا کان اکثار الطعام واجب علیکم وضیعتم الصلوات (التفہیمات الالہیۃ، ج1، ص218)

(ترجمہ) اے بنی آدم! تم نے فاسد رسومات اختیار کر لیا ہے جو دین کو تبدیل کر دیتا ہے۔ (مثلا) تم عاشورہ کے دن لہو و لعب کے لیے جمع ہوتے ہو، کئی لوگوں نے اس دن کو ماتم کا دن بنا لیا ہے، کیا تم نہیں جانتے ہو کہ سارے دن اللہ کے ہیں اور حادثات ان کی مشیت سے رونما ہوتے ہیں، اگر اس دن حضرت حسین رضی اللہ عنہ شہید کر دیے گئے تو وہ کون سا دن ہے جس میں اللہ کا کوئی محبوب بندہ فوت نہیں ہوا حالانکہ ان لوگوں نے اسے جنگی ہتھیاروں کا کھیل بنالیا ہے.. تم نے ماتم کو عید کی تہوار بنا لیا ہے گویا کہ اس دن زیادہ کھانا پینا تم پر لازم و ضروری ہے حالانکہ تم نے نمازوں کو ضائع کر دیا ہے۔تعزیہ داری کے ناجائز ہونے کے سلسلے میں محقق مصنف حضرت مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی رسالہ محرم اور تعزیہ داری میں دیوبند، فرنگی محل، بدایوں، بریلی، دہلی، حیدر آباد، بھو پال بلکہ پورے ہندوستان کے مشہور مستند علماء و صوفیاء کے تقریبا چالیس سے متجاوز فتاوی کو جمع کیا ہے، جن میں اختصار کے پیش نظر چند کو ذیل میں نذر ناظرین کیا جارہا ہے۔ حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث

دہلوی ایک سوال کے جواب میں بزبان فارسی ارقام فرماتے ہیں جس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے کہ عشرہ محرم میں تعزیہ داری اور ضریح و تصویر وغیرہ بنانا جائز نہیں اس لیے کہ تعزیہ داری سے مراد یہ ہے کہ زینت اور لذتوں کو ترک کیا جائے اور صورت رنجیدہ اور غمگین بنائی جائے یعنی سوگوار عورتوں کی طرح بیٹھا جائے اور مرد کے لیے ایسی کوئی صورت شریعت سے کہیں ثابت نہیں ہوتی اور تعزیہ داری جیسا کہ بدعت کرنے والوں نے نکال رکھی ہے اس طرح ضریح تصویر، قبور اور علم وغیرہ سب بدعت ہے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ اس قسم کی بدعت نہیں جس کا مواخذہ نہ ہو بلکہ بدعت سیۂ ہے اور بدعت سیۂ کی بابت حدیث میں وارد ہے کہ دین میں نئی بات کا نکالنا بدترین عمل ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے (یہ روایت مسلم کی ہے) اور جو شخص ایسی بدعت نکالتا ہے اس کی بابت یہ حکم ہے کہ یہ بدعت اسے لعنت خداوندی میں گرفتار رکھتی ہے اور اس کی کوئی عبادت خواہ فرض ہو یا نفل مقبول نہیں ہوتی اور یہ بھی حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو ہمارے دین میں ایسی بات نکالے جو اس میں موجود نہ ہو تو وہ مردود ہے (یہ حدیث حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بخاری و مسلم، ابو داؤد اور ابن ماجہ میں منقول ہے) (محرم اور تعزیہ داری، ص55)

بریلوی مکتبہ فکر کے بانی حضرت مولانا احمد رضا خان کی خدمت میں ایک استفتاء پیش کیا گیا کہ شان و شوکت اور دبدبہ اسلام کی بنا پر تعزیہ بنانا اور نکالنا، علم و بیرق وغیرہ نکالنا جائز ہے یا نہیں؟ تو جوابا تحریر فرماتے ہیں کہ علم، تعزیہ، بیرق مہندی جس طرح رائج ہیں بدعت ہیں اور بدعت سے شوکت اسلام نہیں ہوتی، تعزیہ کو حاجت روا یعنی ذریعہ حاجت روائی سمجھنا جہالت پر جہالت ہے اور اس سے منت ماننا حماقت اور نہ کرنے کو باعث نقصان خیال کرنا زنانہ وہم،مسلمانوں کو ایسے حرکات و خیالات سے باز رہنا چاہیے۔ واللہ تعالی اعلم (فتاویٰ رضویہ ج:24ص 500)اہل حدیث علماء کے سرخیل سید نذیر احمد صاحب دہلوی ایک استفتاء کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ تعزیہ داری از روئے شریعت حقہ نا جائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (محرم اور تعزیہ داری ص 31)

علاوہ ازیں سینکڑوں علماء کرام کی جانب سے تعزیہ داری کی حرمت کا فتوی صادر ہو چکا ہے، جن میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت مولانا شاہ عبد الحق محدث دہلوی، حضرت مولانا عبد الحئی فرنگی محلی، حضرت مولانا شاہ فضل رحمں گنج مراد آبادی، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی، حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری، حضرت مفتی عزیز الرحمن عثمانی، علامہ انور شاہ کشمیری، حضرت مولانا اشرف علی تھانوی اور حضرت مولانا حسین احمد مدنی (رحمۃ اللہ علیہم) کے اسماء گرامی سر فہرست ہیں۔

اخیر میں از ہر ہند دارالعلوم دیو بند کا فتوی نذر ناظرین کیا جا رہا ہے: تعزیہ بنانا نا جائز ہے، اس سے منتیں مانگنا اس کے سامنے سجدہ کرنا شرک اور حرام ہے، مسلمانوں کو اس سے پورے طور پر احتراز کرنا واجب ہے۔رافضیوں کے شیعی اثرات سنیوں کے اندر پیدا ہوئے اور سنی مسلمان اس مذموم و قبیح حرکت میں مبتلا ہوئے، نا واقف عوام الناس سیدنا حسنین رضی اللہ عنہما کی محبت میں پسندیدہ عمل سمجھ کر اسے کرنے لگے جب کہ محبت اور تعظیم میں ایسا غلو جو شرک کو پہنچے ہرگز جائز نہیں ہے۔ سنی بھائیوں کوحکمت اور نرمی سے اس کی حقیقت سجھائی جائے اور اس سے دور رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ واللہ تعالی اعلم دار الافتاء دار العلوم دیو بند

خلاصہ یہ کہ ان تمام علمائے محققین کے فتاوی سے صاف واضح ہے کہ تعزیہ داری حرام ہے، اس سے منتیں ماننا، اس کے سامنے سجدہ کرنا شرک ہے، مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ ان بدعات و رسومات سے اپنے دامن کو بچائے رکھے اور د۷وسروں کو بھی اس سے اجتناب کی تلقین و تاکید کرے۔

 

Comments are closed.