خواتین کےساتھ معاشرتی انصاف
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
اس وقت کی دنیامیں مغرب کے طئے کردہ مادہ اورہوس پرستانہ نظام حیات کوعملی جامہ پہنانےکےلئے سب سے زیادہ جس بات پرزوردیاجاتاہے۔وہ ہے ”عورتوں کی آزادی“اس آزادی اوران کےاندر پیداکردہ مصنوعی حرص وطمع اورمغرب کی چاپلوسی نے کس طرح صنف نازک کو دنیا میں محض مردوں کاسامان تفریح بناکررسواکیاہے۔اس کااندازہ خودبھی اس کونہیں ہے۔اورخواتین ہیں کہ ترقی کےنام پر گھرسےلیکر کارخانوں اوردفاتر تک اپنی جان۔جسم ۔عزت اورآبروکی پرواہ کئے بغیر سرپٹ بھاگ رہی ہیں۔اسے ایک انصاف پسند انسان کبھی انصاف نہیں کہہ سکتا۔
مولانابدرالحسن قاسمی مقیم کویت۔نائب صدراسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا اس پرتبصرہ کرتےہوئے اپنی کتاب”اسلام اورعصرحاضر“میں لکھتےہیں۔
”عورتوں کی جسمانی ساخت۔گھریلوذمہ داریاں۔بچوں کی تربیت ونگہداشت کی عظیم ترین مصروفیتوں کالحاظ کئے بغیرمردوں کےساتھ کام کرنےپرمجبورکرنادرحقیقت صنف نسواں پربہت بڑاظلم ہے۔جس کےلئےمغرب زدہ لوگ واویلامچاتےہیں۔مغربی ملکوں میں عورتوں کی بےقیدی{آزادی}کےپیچھےبنیادی طورپردواسباب کارفرماہیں۔ایک تومردوں کی جنسی بےراہ روی جوآفس۔پارک۔شارع عام{سڑکوں}کسی جگہ بھی اس پرقابونہیں رکھتےکہ عورتیں ان سے جداہوں۔عورتوں کی آزادی کاعنوان درحقیقت مردوں کی اپنی نفسیات کاپیداکردہ ہے۔جس کےفریب کامغربی عورتیں بھی شکارہوگئی ہیں۔۔دوسرابنیادی سبب وہ حرص وطمع اورمادہ پرستی ہےجومغربی تمدن {حضارہ غربیہ}کی اساس بن گئی ہے۔جومردوں کےساتھ عورتوں کوبھی اس بات پرمجبورکرتی ہےکہ وہ گھریلوذمہ داریاں بھی انجام دیں اورپھرمحنت ومشقت برداشت کرکےروزی بھی کمائیں۔۔“ {مذکورہ کتاب صفحہ ١٦٨}۔
مگرمغرب کی یہ عیاری ہندوستانی معاشرہ کو سمجھ میں نہیں آئےگی۔کیونکہ مادیت اس معاشرہ پربھی ایک بخارکی طرح سوارہے۔اوربڑی آسانی سے مرداورعورت دونوں کی طرف پیسےآرہےہیں۔۔مگر اب دنیاسے یہ بات مخفی نہیں رہی کہ اسلام نے مردوں پرخواتین کانان ونفقہ واجب قرار دیکر اورانھیں معاشی بھاگ دوڑسے دوررکھ کرکتنابڑااحسان کیاہے۔یہ بات سچ اوربرحق ہے کہ دنیاکواورخاص کرخواتین کوراحت وسکون کی زندگی اسلام کے سایہ عاطفت میں ہی مل سکتی ہے۔ خودمسلمانوں اورمسلم ملکوں کوبھی سمجھنی چاہئے کہ وہ بجائے مغرب کے بیمارطریقہ زندگی کواختیار کرنے کے اپنے دین اوراسلام کے شفاف اورراحت بخش اصول حیات کونافذکریں اوردنیامیں اس کی نظیر پیش کریں۔نئی نسل کو تعلیمی اداروں میں بھی۔اورگھریلوزندگی میں اسے اپناشعاربنانے کی ترغیب دیں۔اورمغربی طرز معاشرت کی سنگینی سے واقف کرانے کی کوشش کریں۔آج مسلم ملکوں کی نئی نسل کی بگڑتی صورت حال یہاں تک پہونچ گئی ہے کہ وہ یہ تک نہیں جانتے کہ ان کا آئڈیل کون ہے۔ہم صرف مغربی معاشرے کوکوستےہیں۔اوراختیاربھی اسی کوکرتےجارہےہیں۔۔جب ہمارے حالات یہ ہوں گے۔اورہماری زندگی کے رنگ ڈھنگ ہمارے تھاوٹس کاساتھ نہیں دیں گےتو ہمارے اضطراب کاکوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ آج مسلمانوں کا تازہ پسند طبقہ بھی تکثیری سماج میں پیچھےرہ جانے اورتعلیم یافتہ بچیوں کی تعلیم وہنرکے بیکارہوجانےکا عذرپیش کرتےہوئے بصدشوق اپنی بچیوں اورگھرکی خواتین کو ملازمت سے وابستہ کرنےکی تگ ودو کرتاہے۔اس میں ضرورتیں کم دیکھی جاتی ہیں۔اورشوق اوردولت کی ہوس زیادہ۔اب تووہ ممالک اوران کی خواتین بھی مغربی ملکوں سے اس میدان میں پیچھے نہیں ہیں جو اسلامی تعلیمات کے نام پرمشرق ومغرب کے معاشرہ میں حدفاصل قائم رکھنے کی وکالت کرتے چلےآئےتھے۔ جس کانتیجہ ہےکہ مسلم خواتین بھی بچوں کی تعلیم وتربیت اورنگہ داشت سے آزادہوکردن کےاکثراوقات جائےملازمت پہ۔اوربعض تومہینوں اورراتوں کوبھی شوہراوربچوں کےحقوق پامال کرکے گھروں سےباہرگزارتی ہیں۔اورایسانہیں ہےکہ مسلم خواتین کے لئےتونائزاورنسوانی حقوق پامال ہوتےہوں اورغیرمسلم خواتین کےلئےمباح ہو اوران کے حقوق پامال نہ ہوتےہوں۔نسوانی حقوق توسب کے یکساں ہیں۔۔مسلم ممالک خود اسلامی اخلاقیات کو پس پشت ڈال کرمسلم خواتین سے لیکرغیرمسلم تک کواسی مغربی پٹری پرڈال رکھاہے۔بلکہ یہ تک دیکھنے میں آتاہےکہ دفاتر اورآفسس میں صرف بچیوں اورخواتین ہی کورکھنے پراصرارکیاجاتاہے۔کسی بھی مسلم میں اس معاملہ میں اسلامی اخلاقیات وروایات پرمبنی نظام نہیں ہے۔تعلیمی ادارے۔دفاتر۔ہوٹلس۔ ایئرپورٹس جہاں دیکھئے ہرجگہ اس معاملے میں پوری دنیاایک دھارے پر چل رہی ہے۔ ۔ایسالگتاہےکہ مسلم امہ خوداپنی دست ترس میں بھی اسلامی نظام معاشرت نافذکرنےکےمعامہ ہزیمت خوردہ ہے۔رات ودن کے سارےشیڈول مغرب سے مستعارہیں۔ کہیں سےبھی کوئی یہ کہنےکی پوزیشن میں نہیں ہے کہ یہ مسلم معاشرہ کانمونہ ہے۔اوریہ غیرمسلم طرززندگی کا۔ سب کچھ ”الاصل فی الاشیاء الاباحۃ“ کے اصول پر چل رہاہے۔یہی وجہ ہےکہ جولوگ اپنی غیرت وحمیت کی وجہ سے اپنے گھرکی خواتین کواس سے روکنےکی کوشش کرتےہیں وہاں گھروں بغاوت دیکھنے میں آتی ہے۔
بہرحال داعی الی الخیر کواپنا کام جاری رکھناچاہئے۔ہیمیں توحکم ہے”وعاشروھن بالمعروف“ اوریہ اسی وقت ہوگا جب گھرسے لیکر باہرتک انسانی معاشرہ قرانی اورنبوی اخلاقیات پر استوارہوگا۔ اللہ تعالی امت کو اپنے نبی کی تعلیمات کا حقیقی نقیب وپاسبان بنائے۔آمین۔
Comments are closed.