بھرواڑہ ! 3 لاکھ کا مطالبہ پورا نہیں ہونے پر نو شادی شدہ خاتون کا گلا گھونٹ کر قتل، شوہر سمیت 5 افراد کے خلاف ایف آئی آر درج ، ایف ایس ایل ٹیم نے جائے وقوعہ پر کی تفتیش
جالے (محمد رفیع ساگر)
سنگھواڑہ تھانہ حلقہ کے بھرواڑہ وارڈ نمبر 2 میں بدھ کے روز ایک نئی شادی شدہ خاتون کی مشتبہ حالات میں موت کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اہل خانہ نے اس واقعے کو جہیز کے لیے کی گئی قتل کی سازش قرار دیتے ہوئے سسرال کے 5 افراد پر قتل، جہیز کی ہراسانی اور خواتین پر تشدد کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کروایا ہے۔ پولیس نے کیس کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے ایف ایس ایل ٹیم کو موقع واردات پر تفتیش کے لیے طلب کیا۔
متوفیہ کی شناخت 24 سالہ للیتا دیوی کے طور پر کی گئی ہے، جو ضلع سیتمڑھی کے بوکھرا تھانہ علاقے کے پتنوکا گاؤں کے باشندہ شیام ساہ کی بیٹی تھیں۔ دو سال قبل ان کی شادی ہندو رسم و رواج کے مطابق نگر پنچایت بھرواڑہ وارڈ نمبر 2 کے رہائشی روی شنکر ساہ سے ہوئی تھی۔
متوفیہ کے والد شیام ساہ کے مطابق شادی کے بعد سے ہی سسرال والے تین لاکھ روپے کے اضافی جہیز کی مسلسل مانگ کر رہے تھے۔ جب ان کی بیٹی یہ رقم لاکر نہ دے سکی تو اسے نہ صرف ذہنی طور پر ہراساں کیا گیا بلکہ بارہا جسمانی تشدد بھی کیا گیا۔ والد نے الزام لگایا کہ ان کی بیٹی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دی جا رہی تھیں اور آخرکار اسی دباؤ میں اسے قتل کر دیا گیا۔
بدھ کے روز دوپہر میں للیتا دیوی کی لاش سسرال میں پنکھے سے لٹکی ہوئی ملی۔ اطلاع ملنے پر اہل خانہ جائے وقوعہ پر پہنچے تو سسرال والے فرار تھے۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاش کو تحویل میں لیا اور ضروری قانونی کارروائی کے بعد ڈی ایم سی ایچ، دربھنگہ میں پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا۔
واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے جمعرات کو فرانزک سائنس لیبارٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم نے جائے وقوعہ کا باریکی سے معائنہ کیا اور شواہد اکٹھا کیے۔ تھانہ صدر رنجیت چودھری نے بتایا کہ متوفیہ کے والد کی درخواست پر بی این ایس کی دفعات 80، 303(2) اور 61(2) کے تحت ایف آئی آر نمبر 189/25 درج کی گئی ہے۔
اس مقدمے میں روی شنکر ساہ، ان کی ماں منجو دیوی، والد سریش ساہ، نند پریتی دیوی اور نندوی ویپن ساہ (ساکن مہیسوتھا تھانہ، بوکھرا، سیتامڑھی) کو نامزد کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق تمام ملزمان واقعے کے بعد سے فرار ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے چھاپہ ماری جاری ہے۔
پولیس نے مزید بتایا کہ پوسٹ مارٹم رپورٹ موصول ہونے کے بعد معاملے کی قانونی کارروائی کو آگے بڑھایا جائے گا۔
Comments are closed.