مُسلمان صرف پنکچر نہیں بناتے، جانیں بھی بچاتے ہیں!

 

✍️ سیّد آصف امام کاکوی

 

جب ہم ’’مسلمان‘‘ کا نام لیتے ہیں تو کچھ ذہنوں میں ایک طے شدہ سازش جاگ جاتی ہے۔ بکے ہوئے میڈیا کے چہرے پر ایک تمسخر بھری مسکراہٹ پھیل جاتی ہے۔ جیسے پہلے سے ہی طے ہو کہ کب کسی غریب مسلمان کو ’’دہشتگرد‘‘، ’’درانداز‘‘ یا ’’ملک دشمن‘‘ قرار دینا ہے۔ ان کے نظریے میں مسلمان بس ایک ’’پنکچر والا‘‘، ’’نائی‘‘ یا ’’سبزی فروش‘‘ ہے۔لیکن جب وہی مسلمان کسی کی جان بچاتا ہے، تب نہ کوئی چینل چیختا ہے، نہ کوئی حکومت بولتی ہے! کنتھاپورم کے مفتی الشیخ ای۔ پی۔ ابوبکر مصلیار نے وہ کام کر دکھایا جو بڑی بڑی حکومتیں اور سفارتکار نہ کر سکے۔ یمن میں قید بھارتی نرس نمیشا پریا کو جب مقامی عدالت نے سزائے موت سنائی، تب بھارت کی تمام تر کوششیں ناکام ہو چکی تھیں۔ لیکن اس وقت اسلا‌م کا وہ سپہ سالار، ایک مسلمان عالم دین، ایک خاموش خادم انسانیت سامنے آیا — جنہوں نے نہ صرف مقتول کے اہل خانہ کو منایا بلکہ خون بہا کے تمام معاملات کو حل کروا کر، ایک بیٹی کو موت کے منہ سے بچا لیا۔یہ وہی نمیشا ہے جس پر الزام تھا کہ اُس نے یمن کے شہری کو بیہوش کرنے کے بعد غلطی سے مار ڈالا۔ عدالت نے اسے سزائے موت دی۔ ماں پریم کُماری نے در در کی ٹھوکریں کھائیں، لاکھوں ڈالر بطور ’’دِیہ‘‘ دینے کی پیشکش کی، مگر سب دروازے بند ہو چکے تھے۔پھر دروازہ کھلا، تو صرف “انسانیت” کے نام پر۔16 جولائی وہ تاریخ ہو سکتی تھی جب نمیشا کی لاش بھارت پہنچتی۔ لیکن وہ تاریخ اب انسانیت کی جیت بن گئی۔ آج وہ زندہ ہے، تو صرف اس لیے کہ ایک مسلمان مفتی نے آواز اٹھائی، دل دکھایا، کوشش کی، دعا کی — اور دنیا کو دکھا دیا کہ مسلمان صرف پنکچر نہیں بناتے، وہ جانیں بھی بچاتے ہیں۔یاد کیجیے وہ لمحے جب اخلاق، تبریز، جنید، آصف اور نہ جانے کتنے مظلوم مسلمانوں کو صرف ان کی شناخت کی بنیاد پر مار دیا گیا۔ اور حکومت؟ وہ تب بھی خاموش تھی۔

تو سوال یہ ہےجب ایک مسلمان عالم، ایک بیٹی کی جان بچا سکتا ہے،جب ایک شفیق دل، انسانیت کے نام پر حدیں پار کر سکتا ہے،تو کیا اسے صرف اس کی پیشہ ورانہ حیثیت، اس کی ٹوپی، یا اس کی داڑھی سے پہچاننا انصاف ہے؟کبھی یاد کیجیے شاہ رخ خان کو، جنہوں نے قطر میں ایک بھارتی نوجوان کو بچانے کے لیے خاموشی سے قانونی مدد دی۔ کوئی تشہیر نہیں، کوئی سیاست نہیں — صرف انسانیت!آج وقت ہے کہ ہم کھل کر کہیں

مُسلمان صرف پنکچر نہیں بناتے — وہ جان بچاتے ہیں، درد بانٹتے ہیں، مظلوم کی آواز بنتے ہیں، اور انسانیت کے محافظ ہیں۔ہم سلام کرتے ہیں مفتی ابوبکر مصلیار کو،

اور ہم سلام کرتے ہیں ہر اس مسلمان کو جو خاموشی سے، روشنی بکھیر رہا ہے اس نفرت کے اندھیرے میں۔

 

Comments are closed.