مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں

 

 

اے ایم یو کے پروفیسر شہاب فضل کو آئی آئی ٹی بمبئی میں نیشنل جیو اسپیشل فیکلٹی فیلو ایوارڈ سے نوازا گیا

 

علی گڑھ، 18 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ جغرافیہ کے پروفیسر شہاب فضل کو انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (آئی آئی ٹی) بمبئی میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران نیشنل جیو اسپیشل فیکلٹی فیلو ایوارڈ سے نوازا گیا ہے۔

 

یہ ایوارڈ پروفیسر فضل کو ریموٹ سینسنگ اور جغرافیائی اطلاعاتی نظام (جی آئی ایس) پر مبنی درسی کتب اور میسیو اوپن آن لائن کورسز (موکس) کے ذریعہ جیو اسپیشل تعلیم کو فروغ دینے میں ان کی نمایاں خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے دیا گیا۔ معروف سائنسداں اور ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کے سابق چیئرمین پدم شری پروفیسر کرن کمار نے آئی آئی ٹی بمبئی کے پروفیسر بی ناگ آڈیٹوریم میں ایک خصوصی تقریب کے دوران یہ ایوارڈ پیش کیا۔

 

یہ تقریب آئی آئی ٹی بمبئی کے فوسی جی آئی ایس پروجیکٹ کے زیر اہتمام اوپن سورس جی آئی ایس یوم تقریبات کا ایک حصہ تھی۔ فوسی جی آئی ایس پروجیکٹ، حکومت ہند کی وزارت تعلیم کے تحت قومی مشن برائے تعلیم بذریعہ آئی سی ٹی (این ایم ای آئی سی ٹی) کا ایک اہم اقدام ہے۔

 

٭٭٭٭٭٭

 

اے ایم یو کے جے این میڈیکل کالج میں تپ دق کا جدید ٹسٹ ’سائی-ٹی بی‘ متعارف

 

علی گڑھ، 18 جولائی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج (جے این ایم سی) نے تپ دق (ٹی بی) کے خلاف قومی مہم کو مضبوط بنانے کے ایک اہم قدم کے طور پر ’سائی-ٹی بی‘ ٹسٹ کا آغاز کیا ہے، جو چھپی ہوئی تپ دق کی تشخیص کے لیے ایک جدید طریقہ کار ہے۔

 

جے این ایم سی میں شعبہ امراض سینہ و تپ دق کے صدر پروفیسر محمد شمیم نے بتایا کہ یہ ٹسٹ اوپی ڈی نمبر 15 میں کام کے ایام میں صبح 9 بجے سے دوپہر ایک بجے تک مریضوں کے لیے مفت دستیاب ہے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ چھپی ہوئی تپ دق کی بروقت شناخت ہو سکے اور اس بیماری کو فعال مرحلے میں داخل ہونے سے روکا جاسکے۔

 

سائی-ٹی بی ٹسٹ ایک جدید قسم کا جِلدی ٹیسٹ ہے جو مائیکوبیکٹیریم ٹی بی انفیکشن کی زیادہ درستگی کے ساتھ شناخت کرتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو بی سی جی ویکسین لگوا چکے ہوں یا جن کا مدافعتی نظام کمزور ہو۔ روایتی مینٹوکس ٹسٹ کے برعکس، جو بی سی جی ویکسین کی وجہ سے غلط مثبت نتائج دے سکتا ہے، سائی-ٹی بی ٹسٹ مخصوص اینٹی جین کا استعمال کرتا ہے جو بی سی جی میں موجود نہیں ہوتے، چنانچہ اس جانچ سے نتیجہ کی درستگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ یہ ٹسٹ ایک سادہ جلدی انجکشن پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے بعد 48 سے 72 گھنٹوں کے اندر ردّعمل (سوجن یا ابھار) کا مشاہدہ کیا جاتا ہے۔ اگر سوجن 5 ملی میٹر یا اس سے زیادہ ہو تو اسے ٹی بی انفیکشن کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

 

شعبہ کے ڈاکٹر نفیس اے خان نے کہا کہ یہ ٹسٹ کمزور مدافعتی نظام والے مریضوں یا ایچ آئی وی اور ذیابیطس کے مریضوں کے لیے تپ دق کی ابتدائی تشخیص میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ سائی-ٹی بی صرف ایک ابتدائی اسکریننگ ٹسٹ ہے، اور اگر اس کا نتیجہ مثبت آئے تو مزید تصدیقی جانچ جیسے سینے کا ایکس رے یا بلغم کی جانچ ضروری ہے۔

 

ہندوستان، قومی ٹی بی خاتمہ پروگرام (این ٹی ای پی) کے تحت تپ دق کے خاتمے کے مشن پر گامزن ہے اور جے این ایم سی میں سائی-ٹی بی ٹسٹ کا آغاز عوامی صحت، تحقیق اور بروقت طبی مداخلت کے تئیں ادارے کے پختہ عزم کا ثبوت ہے۔ چھپے ہوئے انفیکشن کو نشانہ بنا کر یہ اقدام بیماری کے پھیلاؤ کو توڑنے میں مدد دے گا اور خطرے سے دوچار افراد کو تحفظ فراہم کرے گا۔

 

جے این ایم سی کی ٹیم نے مریضوں پر زور دیا ہے کہ وہ اس جدید اور مفت تشخیصی سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جو ٹی بی کنٹرول اور اس کے خاتمہ کی کوششوں میں ادارے کے لئے ایک اہم سنگ میل ہے۔

Comments are closed.