الیکشن کمیشن کے کندھے کا استعمال

 

مشرف شمسی

 

الیکشن کمیشن بی جانب دار ہو جائے اور ایک خاص پارٹی کو جتانے کے لئے کسی بھی حد کو پار کرنے کے لئے تیار ہو تو حزب اختلاف کے رہنماؤں کی سیاست اور محنت کا فائدہ حاصل ہونا نا ممکن سا ہے ۔ہریانہ،دلّی ،مدھیہ پردیش اور مہاراشٹر میں بڑے پیمانے پر ووٹ کی چوری ہو چکی ہے اور اس ووٹ چوری کا سیدھا سیدھا فائدہ حکمراں جماعت کو ہوا ہے ۔حزب اختلاف خاص کر کانگریس رہنماء راہول گاندھی اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ الیکشن کمیشن کی حمایت کے بنا بی جے پی کے لئے اب کوئی بھی چناؤ جیتنا نا ممکن سا ہو چکا ہے ۔اوپر لکھے چار ریاستوں میں الیکشن کمیشن کی ممکنہ دھاندلی سے حزب اختلاف چوکنا ہو چکا ہے اور اب بہار میں اس طرح کی دھاندلیوں سے باز آنے کا دباؤ الیکشن کمیشن پر ڈالا جا رہا ہے۔لیکِن مودی سرکار کو معلوم ہے کہ پلیئنگ فیلڈ برابر نہ بھی ہو لیکِن الیکشن کمیشن اگر ایمانداری سے ووٹ کو اِدھر اُدھر نہ کرے تو بی جے پی کے لئے الیکشن جیتنا ممکن ہی نہیں ہے ۔الیکشن کمیشن نے ووٹرز جانچ کا سلسلہ جس ہر بڑی میں بہار میں شروع کیا ہے وہ کئی معنوں میں الیکشن کمیشن کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں ۔الیکشن کمیشن کی نیت صاف ہوتی تو ایک آدھار کارڈ سے کسی بھی رائے ہندگان کی پوری جانچ کر سکتا ہے ۔آدھار کارڈ کے بنا پین کارڈ نہیں بن سکتا ہے نہ بینک کا کھاتہ کھولا جا سکتا ہے اور نہ پاسپورٹ بن سکتا ہے ۔صرف اتنا ہی نہیں ذات سرٹیفکیٹ بھی نہیں بن سکتا ہے ۔یہاں تک کہ بنا آدھار کارڈ اور پین کارڈ کے انکم ٹیکس ریٹرن بھی نہیں بھرے جا سکتے ہیں ۔آدھار کارڈ کے بنا ووٹرز کارڈ بھی نہیں بن سکتا ہے ۔ایک آدھار کارڈ سے آسانی سے پتہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون سا بھارت کا شہری بہار کے علاوہ بھارت کی کسی دوسری ریاست کا بھی ووٹرز ہے۔آدھار کارڈ چھوڑ دیں ایک فون نمبر سے بھارت کے کسی بھی شہری کی پوری کنڈلی مل جائے گی ۔

بھارت سرکار الیکشن کمیشن کے کندھے کا استعمال کر بہار کے لوگوں کی شہریت جانچ کرنے کی نوٹنکی کر رہا ہے ۔جبکہ 2016,2017 اور 2019 اس طرح کی جانچ ہو چکی ہے اور کوئی بھی ووٹر غیر ملکی نہیں ملا۔ جبکہ 2018 میں تین ووٹرز غير ملکی ملے تھے اور وہ بھی تین الگ الگ ریاستوں میں ۔

اس سےصاف ہے کہ الیکشن کمیشن بہار کے رائے ہندگاں سے جو فارم بھرا رہا ہے اس کا مقصد اصل ووٹرز کی پہچان کرنا نہیں ہے بلکہ بہار کے ووٹروں میں ہیجانی کیفیت پیدا کرنا ہے خاص کر دلیت ،پچھڑے ،اقلیتوں اور غریبوں میں خوف پیدا کرنا ہے ۔ساتھ ہی الیکشن کمیشن ووٹروں کے ساتھ ایک طرح کی دھوکہ دہی بھی کر رہا ہے ۔بہار کے ووٹروں کو صرف ایک فارم مل رہا اور کسی بھی ووٹر کو جمع رسید نہیں دی جا رہی ہے جبکہ جگہ جگہ بڑے حروف میں الیکشن کمیشن کے بورڈ لکھے ہوئے ہیں کہ بی ایل او ووٹر کو دو فارم دیں گے ۔ایک فارم ووٹر کے دستخط کے ساتھ خود لے لیں گے جبکہ دوسرا بھرا فارم ووٹر کو جمع رسید کے طور پر رہے گا ۔اس دوسرے فارم میں بی ایل او کا دستخط اور مہر لگا ہوگا۔نامور صحافی اجیت انجم پر الیکشن کمیشن کی کمی کو اجاگر کیے جانے کے خلاف ایف آئی آر درج کر دیا گیا ہے۔یہ ایف آئی آر الیکشن کمیشن کی بد نیتی کی نشان دہی کرتاہے ۔اجیت انجم تقریباً پورے بہار میں گھوم کر گراؤنڈ زیرو سے رپورٹنگ کر رہے ہیں لیکِن ایف آئی آر اُنکے ہوم ضلع بیگو سرائے میں ہوا ہے ۔

سبھی طرح کی گڑبڑی کے باوجود الیکشن کمیشن حزب اختلاف کی کوئی بات سننے کو تیار نہیں ہے

جبکہ الیکشن کمیشن کے رویّے کو دیکھتے ہوئے 9 جولائی کو حزب اختلاف نے بہار بند بھی کیا لیکِن الیکشن کمیشن کی اکڑ ڈھیلی نہیں پڑ رہی ہے لیکن اب مودی سرکار کے اتحادی چندابابونائیڈو نے وہی سوال جو حزب اختلاف کر رہا تھا الیکشن کمیشن سے کیے تو نہ صرف الیکشن کمیشن کے ہاتھ پیر ڈھیلے پر گئے ہیں بلکہ مودی سرکار کے بھی بیک فٹ پر آنے کی امید ہے ۔کیونکہ الیکشن کمیشن کھل کر جانب داری پر اُتر آئیگی تو آگے کے انتخابات میں مودی کو کسی اتحادی کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔چندرا بابو نائیڈو اور نتیش کمار کی بھی نہیں۔اسلئے بھارت کی جمہوریت کو بچانا ہے تو مودی سرکار کے عزائم کو سمجھتے ہوئے نہ صرف حزب اختلاف کو بلکہ مودی سرکار کے اتحادی کو ایک ساتھ آ کر آواز بلند کرنے ہونگے۔چندابابونائیڈو نے تو آواز اٹھا دیا ہے اب نتیش کمار بی جے پی کی منشا کو کب سمجھیں گے ۔نتیش کمار کو اپنی سیاست بچانی ہے تو بھی الیکشن کمیشن کے خلاف کھڑے ہونا ہے ورنہ بی جے پی اسی الیکشن میں نتیش کو گھر بیٹھنے پر مجبور کر دےگی۔

میرا روڈ ،ممبئی

9322674787

 

Comments are closed.