بھاگوت مودی میں اختلافات کیوں؟

سچ تو مگر کہنے دو!!

 

از:ڈاکٹرسیدفاضل حسین پرویز

 

آر ایس ایس اور بی جے پی میں کیا واقعی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں؟ آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت اور وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے لابی کے درمیان کھینچاؤ ضرور پیدا ہوا ہے۔ موہن بھاگوت کے ایک حالیہ بیان کے بعد یہ تنازعہ پیدا ہوا کہ جن کی عمر 75 برس ہوگئی ہے انہیں بدھائی (مبارکباد) کی بجائے وداعی کی جانی چاہئے۔ سمجھا جارہا ہے کہ بھاگوت کا اشارہ مودی کی طرف ہے جو 17 ستمبر 2025ء کو 75 برس کے ہوجائیں گے اور خود بھاگوت بھی اسی سال 11 ستمبر کو 75 برس کے ہو جائیں گے۔ نریند ر مودی حسب روایت خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں البتہ ان کے حلقہ احباب کی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ بی جے پی میں عملی سیاست کے لئے 75 برس کی عمر کی حد جو مقرر کی گئی تھی وہ مودی پر لاگو نہیں ہوتی چنانچہ مودی 2029ء کے الیکشن میں بھی وزارت عظمی کے امیدوار ہوں گے۔ دوسری طرف بی جے پی کے وہ قائدین جو آر ایس ایس سے زیادہ وابستگی رکھتے ہیں وہ مودی کا متبادل چاہتے ہیں۔ نریندر مودی نے اپنے اقتدار کے فوری بعد بی جے پی کے ان تمام سینئر قائدین کو جو مستقبل میں وزارت عظمی کے دعویدار ہوسکتے تھے انہیں عمر کی حد مقرر کرتے ہوئے عملی سیاست سے دور کردیا۔ ان میں سب سے اہم نام ایل کے ایڈوانی کا ہے جس نے اپنے اقتدار کی خاطر ہندوستان کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھلسا دیا تھا۔ جس کی قیادت میں رام رتھ یاترا نے پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات کی آگ بھڑکائی تھی۔ زندگی بھر وہ واجپئی کے پیچھے ہاتھ ملتے کھڑے رہے اور مودی کے آنے کے بعد تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے کیوں کہ انہیں وہ دن بھی دیکھنا نصیب ہوا جب ان کی رتھ کا ڈرائیور شہ نشین پر ان سے ہاتھ ملانا تک گوارہ نہ کیا۔ ان کے علاوہ مرلی منوہر جوشی، سنجے جوشی،وسندراراجے، جسونت سنگدھیا، یشونت سنہا، شتروگن سنہا، ارون شوری، سبرامنیم سوامی، آر کے سنگھ قابل ذکر ہے۔

یسونت سنہا، سبرامنیم سوامی نے نریندر مودی کی ہر موقع پر مخالفت اور ان کی کارکردگی و پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔ ان کے علاوہ نریندر مودی کو اگر کوئی علی الاعلان خاطر میں نہیں لاتے تو وہ ہے نتن گڈکری جو آر ایس ایس کے منظور نظر ہیں اور نہ صرف آر ایس ایس بی جے پی کے مخالف ارکان بلکہ اپوزیشن بھی چاہتی ہے کہ مودی کی ریٹائرمنٹ کے بعد وہی وزیر اعظم بنے۔ آر ایس ایس اور بی جے پی سے وابستگی کے باوجود نتن گڈکری ایک اعتدال پسند لیڈر سمجھے جاتے ہیں۔ جنہوں نے ہندوستان کی سڑکوں اور پلوں کی تعمیر میں کافی نام پیدا کیا۔ نریندر مودی کے حامیوں میں امیت شاہ سر فہرست ہیں انہوں نے ڈبل انجن سرکار کا نعرہ لگایا ہے۔ عام تاثر یہی ہے کہ وزیر اعظم مودی ضرور ہیں مگر پردے کے پیچھے اقتدار کی کمان امیت شاہ کے ہاتھ میں ہے۔ آر ایس ایس چاہتی ہے کہ بی جے پی مودی اور امیت شاہ کی گرفت سے آزاد ہو اور اس پر آر ایس ایس کا کنڑول ہو۔ نریندر مودی نے تین مرتبہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد اپنے قد کو بی جے پی اور آر ایس ایس سے بلند کرنے کی کوشش کی ہے اور بعض موقعوں پر ان پر من مانی فیصلے اور اقدامات کا الزام بھی ہے۔ جو آر ایس ایس کو کسی بھی قیمت پر گوارہ نہیں ہے۔ آر ایس ایس اب 27 ستمبر 2025ء کو اپنی صدی مکمل کر رہی ہے۔ 100 برس کے دوران انہوں نے جو منصوبے بنائے انہیں کامیابی سے عمل جامہ پہنایا اور بی جے پی کا اقتدار آر ایس ایس کی مرہون منت سمجھا جاتا ہے۔ آر ایس ایس کی تاریخ میں موہن بھاگوت چھٹے صدر ہیں اور گولکر اور راجو بھیا کے بعد وہ تیسرے طاقتور صدر سمجھے جاتے ہیں۔ آر ایس ایس کے بانی ہیڈگوار تھے جو 1925 سے 1930ء تک اس کے صدر رہے۔ آر ایس ایس کے تنظیمی ڈھانچے اور اس کی آئیڈیالوجی کو فروغ دینے والے ہر ہندو کے ذہن نشین کرنے والے ایم ایس گولکر ہے۔ جو 1940 ء سے 1973ء تک یعنی 33 برس تک آر ایس ایس کے سربراہ رہے۔ ہندو راشٹریہ کا نظریہ انہوں نے ہی پیش کیا۔ کہا جاتا ہے کہ گاندھی جی نے رام راجیہ کا نعرہ دیا تھا اور گولکر نے اسے ہندو راشٹریہ میں بدلنے کا بیڑہ اٹھایا۔ آر ایس ایس کی بنیاد اس کا ستحکام کا کریڈٹ گولکر کو جاتا ہے۔مدھوکر دتا تریا دیورس 21 برس یعنی 73 سے 94 تک آر ایس ایس کے سربراہ رہے۔ ان کا دور بھی آر ایس ایس کے عروج کا دور سمجھا جاتا ہے۔ انہوں نے ذات پات کی مخالفت کی۔ ایمرجنسی کا دور ان کے لئے آزمائشی تھا اور پھر رام جنم بھومی کی تحریک میں وہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ وہ آر ایس ایس کی پہلی شاکھا میں شامل تھے جو ہیڈ گوار نے 1925ء میں ناگپور میں قائم کی تھی۔ بالا صاحب جورج ہی کی کوشش سے آر ایس ایس کی صوبہ کی ساخائیں شروع کی گئیں اور آر ایس ایس کا بینڈ بھی انہوں نے ہی شروع کیا تھا۔ 1985ء میں انہوں نے آر ایس ایس کی کارکردگی کے محاسبہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کیوں کہ اس تنظیم کے 60 برس مکمل ہوچکے تھے اور دیورس کا یہ ایقان تھا کہ 60 برس میں بھی آر ایس ایس اپنے مقصد میں ناکام رہی۔انہوں نے ہی اڈوانی،سندر سنگھ بھنڈاری اور دتو پنتھ تھنگاڑی کے ساتھ جائزہ اجلاس میں اس بات کافیصلہ کیا تھا کہ وشوا ہندو پریشد کو آیودھیا مہم میں شدت پیدا کرنے کی ذمہ داری دی جائے۔ بہرحال! آر ایس ایس نے ہندو ذہنی فکری تربیت ان میں رام راج اور ہندو راشٹریہ کا جنون پیدا کیا اور بی جے پی کو اپنا سیاسی طاقت بنایا۔ بی جے پی آر ایس ایس کے مقابلے میں لگ بھگ 55 برس جونیئر ہے۔ جن سنگھ اور دوسری ہندو تنظیمیں مل کر جنتا پارٹی کی شکل اختیار کی تھی اور جب جنتا پارٹی نے اپنے ارکان کو آر ایس ایس اور جنتا پارٹی دونوں کی رکنیت پر پابندی عائد کی تو بی جے پی کا وجود عمل میں آیا۔

45 برس میں بی جے پی دو نشستوں سے پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت حاصل کرنے کے موقف کی حامل ہوئی ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ بی جے پی کی اصل طاقت آر ایس ایس ہے۔ نریندر مودی نے جب بعض معاملات میں من مانی کی اور آر ایس ایس کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی تو 2024 کے الیکشن میں آر ایس ایس نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس کا خمیازہ بی جے پی کو بھگتنا پڑا کہ وہ 2019 ء کی طرح پارلیمنٹ میں قطعی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ ایک طرح سے یہ آر ایس ایس کی جانب سے مودی اینڈ کمپنی کو وارننگ تھی۔ آر ایس ایس کے بیشتر ارکان کا یہ احساس ہے کہ مودی لابی نے اقتدار کی راہ داریوں کے ہر موڑ پر گجراتیوں کو مسلط کردیا ہے۔ ہر اہم شعبے پر ان کا قبضہ ہے۔ بی جے پی اور مرکزی حکومت کو گجرات کے چنگل سے آزاد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پہلا قدم آر ایس ایس نے بی جے پی کے قومی صدر کے انتخاب کے سلسلہ میں آر ایس ایس نے مودی اور امیت شاہ کو دور رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہے کہ جے پی نڈا کی جگہ سنجے جوشی کو پارٹی کا صدر بنایا جائے۔ سنجے جوشی کو مودی اور ان کی لابی نے بی جے پی کی مجلس عاملہ سے نکال باہر کیا تھا۔ اس وقت نتن گڈکری بی جے پی کے صدر تھے اور سنجے جوشی ان کے دست راست سمجھے جاتے تھے۔ سنجے جوشی نے گجرات میں بی جے پی کو مستحکم کرنے میں بڑا اہم رول ادا کیا تھا مگر مودی انہیں پسند نہیں کرتے۔ اگر انہیں بی جے پی کا صدر مقر کردیا جاتا ہے تو یہ مودی اور امیت شاہ کے لئے شکست سے کم نہیں ہوگی۔ ماضی میں بی جے پی صدر کے انتخابات میں مودی اور امیت شاہ بڑھ چڑھ کر حصہ لیا کرتے تھے اور ان کا بڑا عمل دخل ہوا کرتا تھا۔ سنجے جوشی کے علاوہ بی جے پی کے صدارتی دور میں پورن دیشوری، نرملا سیتا رامن، دی سرینواسن کے نام بھی زیر غور ہے تاہم آر ایس ایس ان ناموں پر غور نہیں کرے گی جو نریندر مودی اور امیت شاہ کے حمایتی ہیں۔ نریندر مودی بھی 8 برس کی عمر سے آر ایس ایس سے وابستہ ہیں اور انہوں نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد اپنے ماضی کے قریبی ساتھیوں کو عملی سیاست سے دور کردیا جن میں پروین توگڑیا قابل ذکر ہیں۔ آر ایس ایس صدر اور وزیر اعظم مودی کے اختلافات کے دوران راج ناتھ سنگھ، فڈنویس، امیت شاہ، مودی کے کٹر حمایتی ہیں اور وہ علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ اگلا الیکشن مودی ہی کی قیادت میں لڑا جائے گا۔ اس میں بعض قائدین کی اپنی مجبوریاں بھی ہیں اس وقت ہر لیڈر سرکاری مشنری سے خوفزدہ ہے چاہے وہ سی بی آئی ہو یا انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ۔

آر ایس ایس بلا شبہ طاقتور ہے مگر یہ بھی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ مودی لابی آر ایس ایس قیادت کے خلاف تحقیقاتی اداروں سے انہیں پریشان کر سکتی ہے۔ سوشیل میڈیا پر مختلف ذرائع سے یہ بتایا جارہا ہے کہ بعض ایجنسیوں کو باقاعدہ طور پر ہدایت دی جاچکی ہے کہ آر ایس ایس کے اعلی سطحی قائدین کے خلاف کاروائی کے لئے تیار رہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو آر ایس ایس کے لئے اس کا صد سالہ جشن کھٹائی میں پڑ سکتا ہے۔ بھاگوت اور مودی کے درمیان خلیج کی وجہ یہ ہے کہ بی جے پی کی کامیابی کی کریڈٹ آر ایس ایس کے بجائے مودی کو دیا جارہا ہے۔ اور ہر جگہ مودی ہے تو ممکن ہے کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔ رام مندر کا کریڈٹ اور اس کے افتتاح کے موقع پر جس طرح سے مودی نے خود کو فوکس کروایا وہ بھی نظرو ں میں کھٹک رہا ہے اور پھر پہلگام واقعہ کے بعد آپریشن سندور کا بھی پورا کریڈٹ مودی کو دے دیا گیا جو آر ایس ایس حلقوں میں قابل قبول نہیں۔ بہرحال! ستمبر 2025ء بھاگوت اور مودی دونوں کے لئے یادگار اور تاریخ ساز ہوگا۔ اختلافات میں شدت پیدا ہوتی ہے یا آپس میں مصالحت؟ یہ آنے والا وقت بتائے گا۔

Comments are closed.