جامعہ رشید العلوم چترا میں مسابقۂ قرأت، نعت و اذان کا کامیاب انعقاد
چترا (نامہ نگار)صوبۂ جھارکھنڈ کی قدیم ترین اور علمی و دینی اعتبار سے نمایاں درسگاہ جامعہ رشید العلوم چترا میں طلبہ کی مرکزی انجمن اصلاح البیان کے زیر انتظام مسابقۂ قرأت (حدر و ترتیل)،نعت و اذان کا انعقاد کیا گیا۔جس کی صدارت جامعہ کے مہتمم اور شیخ الحدیث مفتی نذر توحید المظاہری نے کی۔
نتائج کے اعلان سے قبل اپنی گفتگو میں انہوں نے طلبہ کو قیمتی نصائح سے نوازا۔
انہوں نے کہا کہ وہ تمام طلبہ قابل ستائش ہیں جنہوں نے ان مسابقات میں شرکت کی، کیونکہ محض شریک ہونا بھی سستی اور بے عملی کے مقابلے میں ایک مثبت قدم ہے، جو طالب علم کو علمی، فکری اور جذباتی سطح پر آگے بڑھاتا ہے۔ قرأت قرآن سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مفتی صاحب نے طلبہ کو خبردار کیا کہ تلاوت کے وقت حدر اور ترتیل کے اصولوں میں فرق کو نظر انداز کرنا درست نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حدر میں اگرچہ رفتار قدرے تیز ہوتی ہے،لہذا مدات کی ادائیگی میں طول دینے کی کوشش کرنا غلط ہے، جبکہ ترتیل میں تأنی مطلوب ہے، یہاں اس کے برعکس کرنا نادرست ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ تلاوت محض آواز یا لے کا نام نہیں، بلکہ ایک روحانی عمل ہے، جس میں قواعد کی رعایت عبادت کے آداب کا حصہ ہے۔
اسی طرح نعت خوانی کے تعلق سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے طلبہ کو متوجہ کیا کہ نعت میں شرکیہ کلمات، مبالغہ آمیز مدح، غیر مستند قصے اور منقبت یا اصلاحی اشعار کی آمیزش سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ نعت میں عقیدت کے ساتھ ساتھ اعتدال بھی شرط ہے، تاکہ وہ دین کی تعلیمات کے دائرے میں رہ کر دلوں پر اثر ڈال سکے۔
اذان و اقامت کے حوالے سے مفتی نذر توحید نے کہا کہ بعض موذنین لے کو قائم رکھنے کی کوشش میں الفاظ کے بعض حروف کو حذف کر دیتے ہیں، جو کہ ایک عام لیکن سنگین غلطی ہے۔ انہوں نے مثال دی کہ “فلاح” یا “صلوٰۃ” جیسے کلمات کے آخری حروف اکثر غائب ہو جاتے ہیں، جو نہ صرف تجوید کی خلاف ورزی ہے بلکہ اذان کی اثر انگیزی کو بھی متاثر کرتا ہے۔
پروگرام میں مسابقات کے حکم کی حیثیت سے جامعہ کے اساتذہ نے ذمہ داریاں نبھائیں۔ مسابقۂ قرأت کے لیے مولانا و قاری سہیل احمد مظاہری، مولانا و قاری محمد توصیف رشیدی اور مفتی دل شاد مظاہری کو حکم مقرر کیا گیا، جنہوں نے تلاوت کی فنی اور صوتی خوبیوں کے لحاظ سے طلبہ کی جانچ کی۔ نعت خوانی کے مسابقے میں مفتی غلام سرور مظاہری، مولانا عبدالغفور رشیدی اور حافظ احمد نے جج کے فرائض انجام دیے۔ جبکہ اذان کے مقابلے میں جج کی حیثیت سے مفتی عباداللہ مظاہری، مفتی وصی اللہ مظاہری اور مولانا و قاری محفوظ ندوی موجود رہے۔
مسابقۂ قرأت (حدر) میں محمد صادق (رانچی) نے اول، محمد منور (آمین) نے دوم، اور محمد التمش (رانچی) نے سوم پوزیشن حاصل کی۔ اسی مقابلے میں طٰہٰ (چترپور)، محمد بن سہیل (چترا)، محمد امن اور محمد رضوان (دھنباد)، نیز محمد مبشر (بردوان) نے شرکت کی۔ ترتیل کے انداز میں تلاوت کے مقابلے میں ابرار (گڈا) کو اول، عبدالواحد (مائل) کو دوم اور عارف باللہ (رانچی) کو سوم مقام حاصل ہوا۔ دیگر شریک طلبہ میں نصر اللہ (سلیم پور)، محمد واجد (ہزاریباغ)، محمد سلطان (بنگال)، محمد اسلم (پرتاپ پور) اور محمد علی (سونرو) کے نام شامل ہیں۔
نعت خوانی کے میدان میں انعام الحق (گریڈیہہ) نے اول، محمد منصف (رانچی) نے دوم اور ابو شحمہ (برواڈیہہ) نے سوم پوزیشن حاصل کی، جب کہ دیگر شریک طلبہ میں محمد ازل اشتیاق (گیا)، محمد شاہد اور محمد ارشاد (ہزاریباغ)، محمد عرفان (چترا)، محمد یوسف (کھونٹی)، محمد شاہد آفریدی (رانچی) اور محمد ثاقب (گیا) شامل تھے۔
مسابقۂ اذان میں عارف انصاری (کوڈرما) کو اول، محمد اسامہ (چترا) کو دوم، اور محمد شاہد (رانچی) کو سوم پوزیشن حاصل ہوئی، جب کہ حسنین امام (رانچی) نے بھی شرکت کی۔ ان تمام مسابقات کی نظامت نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ محمد انس بن ابو الدرداء نے انجام دی۔
اس موقع پر حضرات حکم کے ساتھ اکابرین و اساتذہ بھی بنفس نفیس شریک ہوئے، جن میں جامعہ کے صدر المدرسین و استاذ حدیث:مفتی شعیب عالم القاسمی،مولانا آفاق عالم المظاہری، مفتی ثناء اللہ المظاہری، مولانا و مفتی محمد عمران رشیدی، مولانا محمد احرار مظاہری قاسمی، مولانا محمد بن نذر رشیدی ندوی، ماسٹر شاہ فیصل، ماسٹر محمد دانش اور مولانا جسیم الدین مظاہری کے اسمائے گرامی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں، جنہوں نے طلبہ کی شرکت، کارکردگی اور رجحان کو سراہا اور انہیں آئندہ بھی علمی میدان میں سرگرم رہنے کی ترغیب دی۔
یہ پروگرام نہ صرف طلبہ کے درمیان مسابقتی ذوق کو ابھارنے میں کامیاب رہا بلکہ فنِ قرأت، نعت گوئی اور اذان جیسے اہم دینی امور کی فنی تربیت کا ذریعہ بھی ثابت ہوا، جو جامعہ کی علمی فضا کے لیے ایک خوش آئند قدم ہے۔
Comments are closed.