منتظر قائمی: اردو تہذیب کا جیتا جاگتا حوالہ
تحریر: ابوشحمہ انصاری
سعادت گنج، بارہ بنکی
جب وقت کی سوکھی شاخوں پر لفظوں کے ہرے پتّے کم ہونے لگتے ہیں، جب تعلیم ایک کاروبار، اور زبان محض ضرورت بن کر رہ جاتی ہے، ایسے میں کوئی ایک شخص ہوتا ہے جو نہایت خاموشی سے ادب، علم، اور تہذیب کا چراغ ہاتھ میں لیے آگے بڑھتا ہے۔ وہ شور نہیں مچاتا، مگر اس کی روشنی وقت کے اندھیروں میں دور تک دکھائی دیتی ہے۔ ڈاکٹر منتظر قائمی ایسے ہی ایک تہذیبی مشعل بردار کا نام ہے۔ ان کی شخصیت میں اردو کی علمی سنجیدگی، تہذیبی وقار، شعری لطافت اور فکری ظرف نگاہی ایک ساتھ جمع ہو گئی ہے۔ ان کے لب و لہجے میں آبِ رواں کی سی نرمی ہے، قلم میں علم و تحقیق کا گہراؤ، اور شاعری میں دل کی گواہی۔
یہ پاؤں جشنِ آبلہ پائی میں کھو گیا
منزل قریب آنے سے پہلے ہی سو گیا
یہ شعر ان کے اس علمی و فکری سفر کی علامت بن جاتا ہے جو مسلسل جاری ہے۔منزل کی پروا کیے بغیر، سچائی، دیانت، اور جستجو کے ساتھ۔
ان کی تعلیم کا سفر خود ان کے وژن کا آئینہ ہے۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی، دہلی جیسے معتبر ادارے سے اردو میں ایم اے، ایم فل اور پی ایچ ڈی کی تکمیل صرف سند حاصل کرنا نہیں تھا، بلکہ علم کی تہذیبی روح کو جذب کرنا تھا۔ ان کا تحقیقی موضوع "اودھ کی تہذیب کی نمائندگی اردو فلموں میں” اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اردو کو صرف زبان نہیں، ثقافت، تاریخ، اور حیات کا ترجمان سمجھتے ہیں۔
بدن سے دور کسی دل میں جا کے بیٹھ گیا
مکان بدلا ہے لیکن پتہ نہیں بدلا
اودھ کی تہذیب کے رنگ ان کے موضوعات میں جھلکتے ہیں۔ان کے لہجے اور تحقیق دونوں میں ماضی کی شرافت اور حال کی آگہی باہم پیوست نظر آتی ہے۔
تدریس ان کے لیے پیشہ نہیں، ذہنی عبادت ہے۔ 2014 سے وہ ایف اے اے گورنمنٹ پی جی کالج، محمود آباد (سیتاپور) میں اردو کے اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے متحرک ہیں۔ لیکن جو لوگ انہیں جانتے ہیں، وہ کہتے ہیں ڈاکٹر قائمی صرف پڑھاتے نہیں، سوچنا سکھاتے ہیں۔ ان کے لیکچر محض معلوماتی نہیں، بلکہ فکری دعوت ہوتے ہیں۔
لوگ اب دینے لگے ہیں چاند سے تیری مثال
چاند کی مٹی بہت ہی قیمتی ہو جائے گی
ان کے شاگرد ان پر فخر کرتے ہیں، اور ان کی کلاس میں بیٹھنا غالب و اقبال کی محفل میں بیٹھنے جیسا محسوس کرتے ہیں۔
لسانیات کی دنیا میں ان کی خدمات عہدِ جدید میں اردو کی بقا کی کوشش ہیں۔ Indian Language Corpora Initiative (ILCI) کے تحت وہ بطور سینئر لسانی ماہر اردو زبان کا ڈیجیٹل خزانہ تیار کرنے میں شامل رہے۔ یہ صرف تکنیکی کام نہیں تھا، بلکہ زبان کو زمانے سے ہم آہنگ کرنے کی شعوری کوشش تھی۔
گردشِ وقت پھر اک تازہ سفر مانگے ہے
اور میری خانہ بدوشی کوئی گھر مانگے ہے
ان کی "خانہ بدوشی” کو زبان نے گھر دے دیا۔اور زبان کو انہوں نے تحفظ، وقار، اور سمت دی۔
آل انڈیا ریڈیو، نئی دہلی میں بطور نیوز ریڈر و مترجم ان کی طویل وابستگی بھی زبان کی خدمت کا روشن باب ہے۔ ان کی آواز میں تہذیبی تمکنت، لہجے میں علمی ضبط، اور الفاظ میں تازگی تھی۔جس نے سامعین کو زبان کی نزاکت سے روشناس کرایا۔
تباہی کا اور بربادی کا منظر دیکھنے والو
تمہارے گھر کے ملبے کا نظارہ کیسا لگتا ہے
یہ وہ لہجہ ہے جو خبر میں بھی تہذیب کا پہرہ بٹھا دیتا ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ان کی لغت نویسی کی خدمات بھی قابلِ فخر ہیں۔ Harper Collins UK کے ساتھ انہوں نے انگلش-اردو ڈکشنری کے ایک اہم منصوبے کی ادارت کی۔ یہ صرف الفاظ کی ترجمہ کاری نہیں بلکہ ایک تہذیبی تالیف تھی۔جہاں ہر لفظ کے پیچھے سیاق، حوالہ اور فکری شفافیت تھی۔
وہ اظہارِ محبت کے لیے خامہ بدلتی ہے
زباں کے تیر سے زخموں کا سرنامہ بدلتی ہے
یہ خامہ ہی تو ہے جو قائمی کے ہاتھوں میں اظہارِ عشق بن جاتا ہے، اور لغت میں دل دھڑکنے لگتا ہے۔
اور قائمی فقط محقق نہیں، شاعر بھی ہیں۔اور فکری شاعر۔ ان کے اشعار میں احساس کی سچائی، روایت کی خوشبو، اور جدید تناظر ایک ساتھ موجود ہیں۔ ان کی غزلیں دل سے اتر کر ذہن کو متاثر کرتی ہیں۔
بہت ہی سادہ ہے، بے موت مارا جائے گا
وہ زندہ رہنے کا شاید ہنر نہیں رکھتا
ان کی ایک نمائندہ غزل دیکھیے، جس میں ان کی روحانی وفاداری اور فکری صداقت بولتی ہے:
دور سب وہم و گماں کی تیرگی ہو جائے گی
اپنی آنکھیں کھول دو بس روشنی ہو جائے گی
لوگ اب دینے لگے ہیں چاند سے تیری مثال
چاند کی مٹی بہت ہی قیمتی ہو جائے گی
جانے کب سے کر رہا ہوں تیری گلیوں کا طواف
ایک جھلک دکھلا دو میری بندگی ہو جائے گی
کتنا خوش قسمت ہوں میں کہ مل گیا تیرا غم
بس اسی غم سے بسر یہ زندگی ہو جائے گی
سرسبز ہو گئے وہی شاداب ہو گئے
جو لوگ تیرے عشق میں غرقاب ہو گئے
اور قائمی انہی عاشقانِ علم و زبان میں سے ہیں۔جن کے عشق میں غرقاب ہونے سے اردو سرسبز ہو جاتی ہے۔
ان کی شناخت فقط اسسٹنٹ پروفیسر، محقق یا شاعر کی نہیں بلکہ اردو تہذیب کے ایک بیدار ترجمان کی ہے۔ انہیں اکیڈمیوں، جامعات، علمی اداروں، اور سیمیناروں سے درجنوں اعزازات مل چکے ہیں۔لیکن وہ اعزازات کو کم، اردو کی بقا کو بڑا حاصل مانتے ہیں۔
کتنا خوش قسمت ہوں میں کہ مل گیا تیرا غم
بس اسی غم سے بسر یہ زندگی ہو جائے گی
اور واقعی، انہوں نے اردو کے غم کو اپنی زیست کا عنوان بنا لیا ہے۔ ڈاکٹر منتظر قائمی ایک مثال ہیں۔کہ علم، تہذیب، شاعری، لسانیات، تحقیق اور تدریس کو اکٹھا کیسے کیا جا سکتا ہے۔
جب تک اردو ہے، منتظر قائمی جیسے لوگ اردو کی روح کو جلا بخشتے رہیں گے۔اور ان کی روشنی میں نئی نسل تہذیب کا چہرہ پہچانتی رہے گی۔
Comments are closed.