وِلایَتی پٹری پر دِیسی ٹرین (مزاحیہ)

 

ازقلم: ڈاکٹر محمّد عظیم الدین (اکولہ، مہاراشٹر)

————————–

 

دوستو! ہماری کم مائیگی کا تو یہ عالم ہے کہ خوشی کی کوئی خبر سُن لیں تو کئی دن تک دل کو یقین نہیں آتا۔ بار بار خود کو چُٹکی کاٹ کر آزماتے ہیں کہ کہیں یہ بھی اُنہی خوابوں میں سے تو نہیں جو آج کل دن دیہاڑے دکھائے جاتے ہیں۔ اور صاحب، اِس ‘امرت کال’ میں تو خوش خبریوں کی کچھ ایسی برسات ہے کہ یقین اور بے یقینی کے بیچ معلق رہنا ہی ہمارا مقدر بن گیا ہے۔

 

ابھی پچھلے ہفتے کی ہی بات ہے۔ ہوا یوں کہ ہمارے ایک دیرینہ دوست، مرزا طاہر انور صاحب، جنہیں اللہ نے ہر سرکاری اعلان پر جشن منانے کی ایک خاص صلاحیت عطا فرمائی ہے، اور شہر بھر میں مودی بھکت کے نام سے رسوا ہیں، ہانپتے کانپتے ہمارے غریب خانے پر تشریف لائے۔ چہرے پر ایسی خوشی تھی جیسے ان کی اپنی لاٹری نکل آئی ہو۔ آتے ہی پُرجوش انداز میں بولے، "عظیم صاحب، سُنا آپ نے؟… ارے، ایسی خبر لایا ہوں کہ سُن کر آپ کی طبیعت ہری ہو جائے گی۔ اپنی سرکار نے تو کمال ہی کر دیا جی!”

 

ہم نے ٹھنڈی چائے کی پیالی ان کی طرف بڑھاتے ہوئے عرض کیا، "خیریت تو ہے، مرزا صاحب؟ آج کون سا سنگِ میل عبور کر لیا گیا ہے؟ کہیں وہ دو کروڑ سالانہ نوکریوں کا وعدہ وفا تو نہیں ہو گیا؟ یا پھر کیا خبر، نالے کی گیس سے چائے بنانے کا کامیاب تجربہ کرکے توانائی کا دائمی مسئلہ ہی حل کر دیا گیا ہو؟”

 

مرزا صاحب نے چائے کی پیالی ایک طرف رکھی اور ہماری کم علمی پر افسوس کرتے ہوئے فرمایا، "ارے نہیں صاحب! اس سے بھی بڑی بات ہے۔ آپ کو وہ بُلٹ ٹرین والی بات یاد ہے، مودی جی کی؟ بس، سمجھ لیجیے کہ اب اُن پٹریوں پر ہماری اپنی وندے بھارت چلے گی…..ہے نہ ماسٹر اسٹروک؟”

 

یہ سنتے ہی ہمیں تو چکر آ گیا۔ ہم نے کہا، "مرزا صاحب، یہ تو وہی بات ہوئی کہ دعوت ولیمہ کی دی اور کُھلی کھچڑی کھلا دی۔” مرزا صاحب فوراً بگڑ گئے، کہنے لگے، "عظیم صاحب! آپ ہمیشہ منفی بات کرتے ہیں۔ یہی تو ماسٹر اسٹروک ہے۔ آپ سمجھے نہیں! یہ ہے آتم نربھرتا۔ پٹری جاپان کی، ٹرین ہندوستان کی۔ اِسی کو تو کہتے ہیں دیسی جگاڑ۔”

 

اب ہم تو ٹھہرے خاکسار سے آدمی، حساب کتاب کی باریکیوں سے ہمارا کیا لینا دینا؟ مگر اتنی سی بات تو ہماری ناقص عقل میں بھی کھٹکتی ہے کہ ‘ایک لاکھ آٹھ ہزار کروڑ’ کی جاپانی پٹری پر اپنی دیسی ٹرین کا چلنا، یہ معاملہ کچھ ویسا ہی ہے جیسے کسی نازک اندام، صراحی گردن دلہن کے لیے بنایا گیا کامدانی کا بیش قیمت جوڑا، محلے کی کسی ہٹی کٹی، پہلوان صفت خاتون پر زبردستی تھوپ دیا جائے۔ ہم نے تو بس اتنا سُنا تھا کہ بُلٹ ٹرین کی پٹری کا مزاج بڑا نازک ہوتا ہے، یعنی ’اسٹینڈرڈ گیج‘ کی شرمیلی سی مخلوق، جبکہ اپنی وندے بھارت ماشاءاللہ کھلے ڈلے ’براڈ گیج‘ پر چلنے کی عادی ہے۔ اب یہ بے جوڑ ملاپ کیونکر ہوگا، یہ تو وہی جانیں جو ’اینٹائر پولیٹیکل سائنس‘ میں ماسٹری کا تمغہ سینے پر سجائے بیٹھے ہیں۔ شاید پہیوں کو ہتھوڑے سے ٹھوک پیٹ کر ان کی ’ری-الائنمنٹ‘ کرنے کا کوئی نیا فارمولا ایجاد کر لیا گیا ہو۔ یا پھر کیا عجب کہ صاحبِ کرامات اپنی ‘نان-بائیولوجیکل’ شکتی سے پٹری کو ہی کھینچ کر وندے بھارت کے ناپ کا کر دیں۔ آخر کو، ہم فانی انسانوں کی بساط ہی کیا، جو ان مابعدالطبیعیاتی معاملات کو سمجھ سکیں! مگر آپ تو جانتے ہی ہیں، جہاں نریندر مودی ہوں، وہاں منطق کی نہیں، کرشمے کی بات ہوتی ہے، کیوں کہ مودی ہے تو سب ….ممکن ہے۔

 

اور رفتار؟ صاحب، رفتار کا تو پوچھیے ہی مت۔ یہ تو ایک اضافی چیز ہے، جس کا تعلق قیاس اور منطق سے زیادہ خواب اور خواہش سے ہوتا ہے۔ وعدہ تو ایسی برق رفتاری کا تھا کہ مسافر کے ذہن میں منزل کا خیال آنے سے پہلے ہی ٹرین وہاں پہنچ چکی ہو۔ خواب دکھایا گیا تھا 320 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار کا، اور ہمارا گوہرِ مقصود کیا نکلا؟ 76 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی اپنی وندے بھارت! اتنی رفتار سے تو ہمارے شہروں میں بسیں بھی چلتے ہوئے شرما جائیں۔

 

یہ تو وہی مثل ہوئی کہ کسی نے اصیل عربی نسل کے گھوڑے کے لیے شاہی اصطبل تعمیر کروایا، سنگِ مرمر جڑوایا، فانوس لگوائے، اور جب گھوڑا لانے کا وقت آیا تو گاؤں سے ایک عدد خچر لا کر باندھ دیا۔ اور پھر سینہ پھلا کر، فخر سے اعلان کیا، "دیکھیے! کس شان سے ہمارا خچر شاہی اصطبل میں رہتا ہے!” اس کے کان ذرا لمبے ہیں تو کیا ہوا، ہے تو آخر گھوڑے کا ہی رشتے دار! کچھ نہ ہونے سے تو گھوڑے نُما ہونا ہی غنیمت ہے۔

 

مرزا صاحب اکھڑ کر کہنے لگے، "ارے بھائی، آپ اس میں بھی کیڑے نکال رہے۔ رفتار کم ہے تو کیا ہوا، سیفٹی تو ہے نا! ویسے بھی، اتنی جلدی پہنچ کر کرنا کیا ہے؟ یہ ملک ہمیشہ سے آہستہ آہستہ، ٹھہر ٹھہر کر ترقی کرنے کا عادی ہے، اور یہی ہمارے آباء و اجداد کی سنتِ کاملہ بھی رہی ہے۔ شتابی تو شیطان کا کام ہے، صاحب! آخر ہم وشو گرو ہیں، جلد بازی میں کوئی قدم نہیں اٹھاتے۔”

 

یہی سن کر ہمیں اپنے ایک پرانے دوست، کوکب صاحب یاد آ گئے۔ اللہ نے انہیں وہ نگاہِ حکمت عطا فرمائی ہے کہ وہ کوئلے میں ہیرا اور کانٹے میں گُلاب ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ہر ٹیڑھی بات میں سیدھا اور ہر سیدھی بات میں کوئی گہرا فلسفہ نکالنا ان کا بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ ہمارے پاس تشریف لائے اور چائے کی چسکی لیتے ہوئے بولے، "عظیم صاحب! آپ خواہ مخواہ کُڑھ رہے ہیں۔ اس میں بھی ایک گہری حکمت پوشیدہ ہے۔ ارے صاحب، اگر خدانخواستہ اصلی بُلٹ ٹرین آ جاتی تو اس میں تو صرف چند گنے چنے امرا اور دھنا سیٹھ ہی سفر کر پاتے۔ ہم اور آپ جیسے لوگ تو بس دور سے اس کی سیٹی سن کر دل مسوس کر رہ جاتے۔ اب وندے بھارت چلے گی تو کم از کم اس کا نام تو سب کی زبان پر ہے! ہر کوئی فخر سے کہہ سکے گا کہ ’ہماری‘ وندے بھارت! یہ ملکیت کا احساس ہی بڑی نعمت ہے۔”

 

ہم نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے عرض کیا، "کوکب صاحب، آپ نے تو دل کی بات کہہ دی۔ بالکل صحیح فرمایا آپ نے۔ یہ تو وہی حساب ہوا کہ جیسے محلے کے بچوں کو ٹافی کا وعدہ کرکے، انہیں صرف ٹافی کا رنگین ریپر دکھا دیا جائے اور کہہ دیا جائے، ‘دیکھو بچو! اندر کتنی میٹھی ٹافی ہے۔ تم اسے کھا تو نہیں سکتے، مگر اس کے چمکتے ہوئے کاغذ کو دیکھ کر خوش ہو سکتے ہو۔ اسے اپنے پاس رکھو اور دوستوں کو فخر سے دکھاؤ کہ تمہارے پاس بھی ٹافی ہے۔”

 

کوکب صاحب ہماری بات سن کر حکمت بھرے انداز میں مسکرائے اور بولے، "یہی تو جمہوریت کا حُسن ہے، عظیم صاحب! احساس کی روٹی، خیال کا سالن۔ پیٹ بھرے نہ بھرے، دل ضرور بھر جاتا ہے۔”

 

خیر، یہ تو ایک ایسی لمبی بحث ہے جس کا سِرا ہماری سمجھ سے اُسی طرح باہر ہے جیسے ہمارے پڑوسی کے گھر کی آمدنی۔ اور قصہ صرف اِس بے چاری، بن بیاہی رہ گئی بُلٹ ٹرین کا ہی نہیں۔ اِس مملکتِ خداداد میں تو اب ہر وعدہ ایک ایسے حکومتی اشتہار کی طرح ہو گیا ہے، جو دِکھتا تو خوشنما ہے مگر ہوتا سراسر ناقابلِ یقین ہے۔ لطیفے تو وہ ہوتے ہیں جن پر ہنسی آئے، یہاں تو وعدوں کی ایسی بہتات ہے کہ ہنسی کے بجائے جھرجھری سی آنے لگتی ہے۔

 

اب 100 اسمارٹ شہروں کی بات ہی لے لیجیے۔ اعلان تو ایسے طمطراق سے کیا گیا تھا جیسے شہر نہیں، بلکہ سو عدد جنتیں زمین پر اتاری جا رہی ہوں۔ ہم نے تو خواب دیکھنا شروع کر دیے تھے کہ اب ہماری گلیاں بھی پیرس کی شان دکھائیں گی اور ہمارے محلے کی نالیاں بھی وینس کی نہروں کا منظر پیش کریں گی۔ مگر اب حالت یہ ہے کہ ان پرانے شہروں کو ’اسمارٹ‘ بنانے کے چکر میں ایسی بے دریغ کھدائی کی گئی ہے کہ ہر گلی ایک آثارِ قدیمہ کا نمونہ بن گئی ہے۔ مجال ہے کہ آپ بغیر کسی ماہرِ ارضیات کی مدد کے اپنا گھر ڈھونڈ لیں۔ آدمی اسمارٹ فون کے سگنل سے اتنا پریشان نہیں جتنا اپنی گلی کے نئے جغرافیے سے ہے۔

 

یا پھر وہ ’ہر گھر میں بیت الخلا‘ والا وعدہ یاد کیجیے۔ کاغذوں پر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اب ملک کا ہر فرد صبح سویرے شاہی آرام گاہ میں بیٹھ کر اخبار پڑھتا ہوگا۔ لیکن حقیقت میں جن غریبوں کے گھروں میں دو کمرے نہیں، وہاں تیسرا بیت الخلا بنانے کی جگہ کہاں سے آتی؟ بہت سے لوگوں نے تو سرکاری امداد سے بنے بیت الخلاء میں بکریاں باندھ لی ہیں یا پھر اسے ایندھن کے اسٹور روم میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب بھلا سرکار کو کون سمجھائے کہ بیت الخلا کے لیے صرف دیواریں نہیں، پانی کا نل اور نالی کا نظام بھی ضروری ہوتا ہے۔

 

اور گنگا مائی! ان کا تو پوچھیے ہی مت۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ گنگا اتنی صاف ہو جائے گی کہ اس کا پانی بسلری کی بوتلوں کو مات دے دے گا۔ ہم نے تو خواب میں بھی دیکھ لیا تھا کہ لوگ گنگا کنارے جا کر "یوز اینڈ تھرو” گلاس میں پانی پی رہے ہیں۔ مگر اب حالت یہ ہے کہ عقیدت مند بھکت بھی اس کے چُلّو بھر پانی میں ڈبکی لگانے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں، کہیں اس چُلّو بھر پانی میں کوئی نیا، انجان وائرس نہ چھپا ہو جو سیدھا اسپتال کے بجائے ’یم لوک‘ کا ٹکٹ کٹوا دے! آدمی ڈوب کر مرنے سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا اُس پانی سے لگنے والی بیماریوں سے ڈرتا ہے۔ اور کیا گنائیں صاحب! یہ تو وعدوں کا ایک ایسا میلہ ہے جہاں ہر دکاندار آپ کو خواب بیچ رہا ہے، اور ہم ہیں کہ ہر بار نیا خواب خرید کر گھر لے آتے ہیں۔

 

سچ پوچھیے تو اب اِس ملک میں وعدوں کی بھی بڑی شان سے ’ری سائیکلنگ‘ ہوتی ہے۔ وہی پرانے، ادھورے وعدے، نئی چمکدار پیکجنگ، دل فریب نعروں اور بلند آہنگ موسیقی کے ساتھ ہر الیکشن سے پہلے دوبارہ لانچ کیے جاتے ہیں، اور ہماری بھولی بھالی عوام، اپنی تمام تر مایوسیوں کے باوجود، ایک بار پھر خود کو تسلی کا انجکشن لگا کر نئے سرے سے یقین کرنے کو تیار ہو جاتی ہے۔

 

ہماری اس ذہنی اُلجھن کا ذکر جب ہم نے اپنے ایک دوست پروفیسر دانش علی سے کیا، تو انہوں نے ہماری پریشانی پر اپنی مخصوص فلسفیانہ مسکراہٹ بکھیری۔ پروفیسر صاحب کا ماننا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی شے بے کار نہیں ہوتی، بشرطیکہ اسے دیکھنے والی آنکھ میں منطق کی عینک لگی ہو۔ کہنے لگے، "عظیم صاحب! آپ بات کو غلط زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ اس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟ یہ تو وسائل کا وہ بہترین استعمال ہے جس پر ارسطو بھی داد دیے بغیر نہ رہ سکتا۔ سوچئے، ایک لاکھ آٹھ ہزار کروڑ کی یہ نازک پٹری، تنہا، بیکار اور ویران پڑی رہتی۔ اس کی وحشت کا کون ذمہ دار ہوتا؟ اب کم از کم اس کی تنہائی دور کرنے کے لیے اپنی وندے بھارت تو ہے، جو اس پر خراماں خراماں چلے گی۔ آخر کو، "سمتھنگ از بیٹَر دین نتھنگ” کا اصول بھی تو کوئی چیز ہے۔”

 

ہم نے ادب سے عرض کیا، "پروفیسر صاحب! آپ کی منطق سر آنکھوں پر، مگر اس حساب سے تو تاج محل کے وسیع و عریض، ٹھنڈے فرش پر بھی بھینسیں باندھ دینی چاہئیں تاکہ وہ سنگِ مرمر کی شاہکار سطح بیکار نہ پڑی رہے۔ اور اس کے گنبد میں کبوتروں کا ڈربہ بھی بنا دینا چاہیے، تاکہ خلا کا صحیح استعمال ہو سکے۔”

 

پروفیسر صاحب ہماری بات سُن کر کچھ دیر کے لیے گہری سوچ میں ڈوب گئے۔ پھر اپنی عینک کو ناک پر درست کرتے ہوئے، رازدارانہ لہجے میں بولے، "عظیم صاحب، آپ معاملے کو پرانے جمہوری زاویے سے دیکھ رہے ہیں۔ یہ عوام کے پیسے کا معاملہ ہے ہی نہیں۔ جب عوام کو ‘رعایا’ بنا دیا جائے، تو ان کا پیسہ، پیسہ کہاں رہتا ہے، وہ تو شاہی نذرانہ ہو جاتا ہے۔ اور رعایا کا کام سوال کرنا نہیں ہوتا، حضور والا! رعایا کا کام صرف تماشا دیکھنا، تالیاں بجانا، اور ‘واہ واہ’ کرنا ہوتا ہے۔” یہ کہہ کر انہوں نے ایسی گہری سانس لی جیسے قوم کی نبض پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہوں۔

 

تو صاحب، اب ہم اپنا اور آپ کا دماغ مزید کھپانے سے باز آتے ہیں۔ ہمارا اور آپ کا تو بس اب یہی فرض بنتا ہے کہ اِس عظیم الشان کارنامے پر شادیانے بجائیں، تالیاں پیٹیں، اور اگر جیب میں چار پیسے ہوں تو محلے میں اِسی خوشی میں لڈو بھی بٹوا دیں۔ آخر کو، ایک خطیر رقم کا منصوبہ ہے، کوئی گلی محلے کا نلکا تو نہیں کہ آج لگوایا اور کل اُکھڑوا دیا۔ اتنی بڑی رقم جب قوم کے خزانے سے نکل جائے، تو اس کی ناکامی پر افسوس کرنا بھی ایک طرح کی قومی توہین اور شاید بغاوت کے زمرے میں آتا ہے۔

 

اور ہماری مخلصانہ صلاح مانیے، تو جب وہ مبارک گھڑی آئے، جب اس نازک اندام، شرمیلی پٹری پر ہماری ’گھوڑے نُما‘ وندے بھارت خراماں خراماں چلے، تو پہلا ٹکٹ ضرور خریدیے گا، آپ کو اپنی کوئی آبائی جائیداد ہی کیوں نہ گروی رکھنی پڑے۔ تاکہ کل کلاں آپ بھی اپنی اولاد کو چھاتی پھلا کر، گردن اکڑا کر، فخر سے بتا سکیں کہ "بیٹا! یہ مت دیکھو کہ ٹرین دیر سے پہنچی، یہ دیکھو کہ تمہارے باپ نے ایک لاکھ کروڑ کی پٹری پر سفر کیا ہے۔ اور آج کے اس ’امرت کال‘ میں، حقیقت سے زیادہ احساس کی یہی فراوانی تو اصل نعمت ہے۔

 

خیر، ویسے ہمیں تو یہ بھی اندیشہ ہے کہ کہیں کل کو عوام کے اِس بے پناہ جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے، اِس بیش قیمت ٹریک کو "قومی خود اعتمادی مارگ” قرار دے کر صبح کی سیرکے لیے ہی نہ وقف کر دیا جائے اور ہماری سادہ لوح عوام، "فٹ انڈیا” کا پرچم لہراتے ہوئے، اس پر بھی خوشی خوشی دوڑنے لگے!

 

اور اس طرح جب منطق مات کھا جائے، تدبیریں دھری کی دھری رہ جائیں، اور عقل و فہم اس ہوش ربا تماشے کو دیکھ کر ساکت ہو جائے، تو پھر شاید مجھ جیسا کوئی کج فہم، بے بسی کے عالم میں صرف مومن خاں مومن کے اس شعر میں پناہ ڈھونڈے…

 

اے حشر جلد کر تہہ و بالا جہان کو

یوں کچھ نہ ہو امید تو ہے انقلاب میں

Comments are closed.