مولانا نوراللہ قاسمیؒ کی رحلت ؛علمی و ملی دنیا کاعظیم خسارہ:مولانا انیس الرحمن قاسمی

 

پٹنہ (پریس ریلیز)

انتہائی افسوس اور رنج کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ معروف عالم دین، صدر المدرسین مدرسہ دینیہ دین بندھی، ضلع سپول اور امارت شرعیہ بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ کےرکن شوریٰ حضرت مولانا نوراللہ قاسمی صاحب آج بروز جمعہ، نمازِ جمعہ سے قبل طویل علالت کے بعد اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔(إنا لله وإنا إلیہ راجعون)مرحوم ایک جید عالم، کامیاب مدرس، باوقار ملی رہنما اور خوش مزاج و خالص انسان تھے۔ ان کی ساری زندگی دین کی تعلیم، اصلاحِ معاشرہ، اور ملت کی رہنمائی میں بسر ہوئی۔ وہ صرف ایک تدریسی شخصیت نہیں، بلکہ ایک فکری قافلہ سالار، ناصح مشفق اور قومی درد رکھنے والے حساس عالم تھے۔حضرت مولانا کوقاضی مجاہد الاسلام قاسمی جیسے اکابر علماء سے علمی و قلبی وابستگی حاصل تھی۔ وہ قاضی صاحب کے خیالات کے مداح اور ان کے فکری تسلسل کے حامل تھے۔ان کاامارت شرعیہ سے دیرینہ اور گہرا تعلق رہا۔ شوریٰ کے ایک معتمد رکن کے طور پر وہ نہایت اخلاص، حکمت اور بصیرت کے ساتھ ملت کے مسائل میں حصہ لیتے اور ان کی آرا کو ادارہ قدر و احترام سے دیکھتا تھا۔مرحوم آل انڈیا ملی کونسل بہار کے رکنِ عاملہ بھی تھے اور ہمیشہ ملت کے اجتماعی مسائل پر فکر مند اور متحرک رہے۔ ان کی گفتگو میں وزن، فکر میں گہرائی اور انداز میں انکساری نمایاں تھی۔

مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب امیر شریعت و کارگزار صدر، آل انڈیا ملی کونسل اپنے تعزیتی بیان میں فرمایاکہ مولانا نوراللہ قاسمیؒ میرے ذاتی محسن، قریبی رفیق اور مشورہ کے ہر موقع پر معاون تھے۔ ان کے ساتھ میرے گہرے مراسم رہے۔ ان کا انتقال صرف ان کے اہل خانہ یا مدرسہ کے لیے نہیں؛ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ ان کی علمی خدمات، تدریسی محنت، اخلاقی کردار اور خالص دینی اخلاص کی گواہی ہر وہ شخص دے سکتا ہے جسے ان سے کبھی بھی ملاقات یا رفاقت کا شرف حاصل ہوا ہو۔ ان کا جانا ایک ایسا خلا ہے جو مدتوں پُر نہ ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔

مولانا ڈاکٹر محمد عالم قاسمی صاحب صدر، آل انڈیا ملی کونسل بہار) نے کہاکہ مولانا قاسمیؒ ایک سنجیدہ، باوقاراور علمی شخصیت تھے۔ انہوں نے مدرسہ دینیہ دین بندھی کے ذریعے تدریس و تربیت کے جو نقوش چھوڑے، وہ نسلوں تک رہنمائی کرتے رہیں گے۔ وہ علم و حلم کا حسین امتزاج تھے۔ ان کی رحلت نہ صرف مدرسہ اور ملی کونسل کے لیے، بلکہ پوری ملت کے لیے ایک بڑا نقصان ہے۔

مولانا محمد نافع عارفی جنرل سکریٹری، آل انڈیا ملی کونسل بہارنے کہاکہ مولانا نوراللہ قاسمی صاحب ہمارے لیے صرف ایک رکن نہیں؛ بلکہ ایک فکری رہنما اور مشفق بزرگ تھے۔ ان کی شخصیت اعتدال، حکمت، اخلاص اور سچائی کا پیکر تھی۔ وہ ملی کونسل کے نظریات کے سچے ترجمان اور عملی نمونہ تھے۔ ان کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی۔

مولانا محمد رضاء اللہ قاسمی نے کہاکہ مولانا نوراللہ قاسمی صاحب میرے مشفق استاذکے ساتھ رشتہ میں ماموںلگتے تھے۔ ان کے سائے تلے علمی و اخلاقی تربیت کا جو موقع ملا، وہ میری زندگی کا بیش قیمت سرمایہ ہے۔ ان کا یوں ہم سے جدا ہو جانا ذاتی صدمہ ہے، جسے الفاظ بیان نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔

Comments are closed.