ملت کے مسائل اور ان کا حل: بھکورہیاں مشرقی چمپارن میں امارت شرعیہ کے زیر اہتمام عظیم الشان اجلاس

 

قومی و ملی رہنماؤں نے اتحاد، تعلیم، بیداری اور شرعی بصیرت کی بنیاد پر مسائل کے حل کی اپیل کی

بھکورہیاں(مشرقی چمپارن)20/جولائی2025(پریس ریلیز)

موضع بھکورہیا تھانہ نکر دئی ، بلاک آدا پور کی وسیع و عریض عیدگاہ میں امارت شرعیہ بہار و اڈیشہ و جھارکھنڈ کے زیر اہتمام ایک اہم اجلاس بعنوان ملت کے مسائل اور ان کا حل آج مورخہ بیس جولائی دو ہزار پچیس بروز اتوار صبح دس بجے منعقد ہوا جس کی صدارت مفکر ملت امیر شریعت بہار اڑیسہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل نے فرمائی ۔ اجلاس کا آغاز قاری اخلاق صاحب کی تلاوت قرآن پاک سے ہوا ،جب کہ قاری فخر عالم و مولانا فاروق صاحب نے بارگاہ نبوی میں گلہائے عقیدت پیش کیا ۔اجلاس کی نظامت کے فرائض ماسٹر محمد اشرف علی صاحب نے انجام دیے۔استقبالیہ کلمات مفتی ضیاء الحق قاسمی صاحب صدر مدرس مدرسہ فلاح المسلمین نے ادا کیے، جنہوں نے مہمانانِ کرام اور شرکاءِ اجلاس کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ، مفکر ملت حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب مدظلہ العالی کارگزار صدر آل انڈیا ملی کونسل نے اپنے کلیدی خطاب میں فرمایا کہ قوم کی ترقی اس وقت ممکن ہے جب ہم اتحاد، تعلیم، قربانی اور مسلسل محنت کو اپنا شعار بنائیں۔مولانا قاسمی نے یہ خطاب ضلع مشرقی چمپارن کے گاؤں بھکورہیاں میں ایک اہم اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ ان کا اس گاؤں میں پہلا باضابطہ قدم ہے، لیکن یہاں کے لوگوں کا ذکر وہ اپنے بچپن سے سنتے آئے ہیں۔ انہوں نے مولانا رضوان اللہ مظاہری صاحب (ناظم الجامعۃ الاسلامیہ للمؤمنات، رکسول) کے عزیز کو قرآن پاک مکمل کرنے پر دلی مبارکباد پیش کی اور رسول اللہ ﷺ کی اس حدیث کی یاد دہانی کرائی کہ "قرآن پڑھنے والا قیامت کے دن اپنے دس قریبی رشتہ داروں کی شفاعت کرے گا۔انہوں نے موجودہ صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آسام سے لے کر گورکھپور تک مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں، مگر یہ پورا خطہ تعلیمی، سماجی اور معاشی لحاظ سے حد درجہ پسماندہ ہے۔ انہوں نے کہا:آج یوپی اور دیگر ریاستوں میں مدارس، مساجد اور دینی ادارے نشانے پر ہیں۔ یہ سب ایک منصوبہ بند سازش کا حصہ ہے جس کا مقابلہ صرف دور اندیشی، حکمت عملی، اور قانونی تدابیر کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔آج مسلمانوں پر آزمائش کا وقت ہے۔ ہمیں شریعت کے بتائے اصولوں پر چلتے ہوئے اس آزمائش سے نکلنے کی کوشش کرنی ہے کوششیں ناکام نہیں ہوتیں اگر اس میں اخلاص اور نصرت الٰہی شامل ہو اور ہماری کوششوں میں نصرت الٰہی اسی وقت شامل ہوگی جب ان کوششوں کا محور و مرکز اللہ اور اس کے رسول کی تعلیمات ہوں۔

انہوں نے لوگوں کو کلمہ کی بنیاد پر متحد رہنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد وہی مطلوب ہے جو شرعی بنیادوں پر ہو ۔ اگر غیر شرعی بنیادوں پر لوگ اکٹھے ہو جائیں تو وہ مستحسن اتحاد نہیں بلکہ مذموم اتحاد ہوگا۔ انہوں نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ بلا تفریق مسلک و مذہب لوگوں کے کام آئیں ۔مولانا قاسمی نے زور دیتے ہوئے فرمایا کہ آزمائشوں سے گھبراہنے کے بجائے ہمیں قانونی طریقے سے اپنے حقوق کا تحفظ کرنا ہوگا اور قوم کو اتحاد، بصیرت اور اجتماعی شعور کے ساتھ ان حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ اتحاد محض نعرے سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ اس کے لیے تعلیمی، قانونی، سماجی اور سیاسی میدانوں میں عملی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ ہمیں نئے مدارس، اسکول، کالج اور ادارے قائم کرنا ہوں گے تاکہ ہماری آئندہ نسلیں مضبوط اور باوقار بن سکیں۔مولانا نے قوم پر زور دیا کہ وہ غیر مسلم سماجی طبقوں سے مثبت روابط قائم کرے تاکہ باہمی غلط فہمیاں ختم ہوں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن اور سیرتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں ہمیں حسنِ اخلاق، رواداری اور وسعتِ ظرف کے ساتھ معاشرتی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہیے۔انہوں نے اتحاد کے اصولی تقاضوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: اتحاد کی بنیاد اصول پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض جذبات پر۔ اگر امام قبلہ رخ ہے تو نماز درست ہے، ورنہ لاکھوں کی جماعت بھی قابل قبول نہیں۔علماء کی حیثیت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ علماء روشنی کے مینار ہوتے ہیں، ان کی بے توقیری سے قوم کو نقصان ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ان کی رہنمائی سے قوم کو جلا بخشیں۔سیاسی شعور کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مولانا نے کہا کہ اگر ہم اپنی آبادی کے تناسب سے صرف سرپنچ یا وارڈ ممبر بھی منتخب کر لیں تو یہ ایک بڑی کامیابی ہوگی، بشرطیکہ ہم سیاست کو خدمت کا ذریعہ سمجھیں، نہ کہ اقتدار کا ہتھیار۔خطاب کے اختتام پر مولانا قاسمی نے کہا:”کامیابی محنت کے بغیر ممکن نہیں۔ جیسے ایک طالب علم دن رات محنت کرکے سول سروس میں کامیابی حاصل کرتا ہے، اسی طرح ہمیں بھی قوم، مدرسہ، اسکول، ادارہ اور سیاست، ہر میدان میں مسلسل جدوجہد کرنی ہوگی۔انہوں نے عوام سے درج ذیل امور کی اپیل کی کہ وہ دینی اداروں کی دل کھول کر مدد کریں، علم حاصل کریں اور بچوں کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کریں، تعلیم و تربیت کو اولین ترجیح دیں، سیاست کو عبادت سمجھ کر اپنائیں اورخدمت خلق کو اپنا مقصدِ حیات بنائیں۔مولانا قاسمی نے کہا:”ہم کوئی وعدے نہیں کرتے، لیکن اتنا ضرور کہتے ہیں کہ ہماری جدوجہد گزشتہ چالیس برسوں سے جاری ہے اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جاری رہے گی۔آخر میں مولانا نے دعا کی:”اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، علم، قربانی، اتحاد اور مسلسل محنت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

مولانا محمد نافع عارفی صاحب جنرل سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہارنے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مسائل بے شمار ہیں اور ہر علاقے کی مشکلات اور مسائل جزوی طور پر ضرور جدا گانہ ہیں؛ لیکن بنیادی طور پر امت کو جو مسائل درپیش ہیں ،وہ یکساں ہیں اور تمام مسائل کا حل قرآن کریم اور سنت رسول سے وابستگی میں پوشیدہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلامی سماج کی تشکیل تعلیم کی بنیاد پر کی تھی، آج بھی ہزاروں مسائل کا واحد حل تعلیم ہے۔ تعلیم سے نہ صرف سماج کی ترقی ہوتی ہے؛ بلکہ معاشی طور پر بھی سماج مضبوط ہوتا ہے۔

مولاناسید محمد عادل فریدی صاحب سکریٹری آل انڈیا ملی کونسل بہارنے کہا کہ پوری دنیا کی باطل طاقتیں مسلمانوں کے درپہ ہیں؛تاکہ مسلمان اللہ کے دین سے بیزار ہو جائیں انہیں در اصل اسلام سے اور اس کی ترقی سے دقت ہے ۔ ایمان والوں کو آزمائش کا سامنا کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ایسی آزمائش روز اول سے ایما ن والوں پر آتی رہی ہے ۔ ایمان والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے عقیدہ اور ایمان سے سمجھوتہ نہ کریں اور اپنی شناخت پر قائم رہیں ۔ انہوں نے لوگوں کو وٹر لسٹ کی نظر ثانی مہم پر بھی توجہ دلائی اور ہوشیار رہنے کی تلقین کی کہ کوئی اہل ووٹر چھوٹنے نہ پائے۔

حضرت مولانا اکرام صاحب نے موجودہ حالات اور اس کا شرعی و اجتماعی حل تفصیل سے بیان فرمایا۔ مفتی زید صاحب (امام، جامع مسجد رکسول) اور جناب نورالحسن پرمکھ صاحب نے اپنے خطاب میں ملت کو درپیش مسائل، اتحادِ امت اور فلاحی اقدامات کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔مولانا مفتی غیاث الدین صاحب (مہتمم، مدرسہ صراط مستقیم، بنگلور) نے دین سے تعلق، دینداری کی حفاظت اور تعلیمی بیداری پر زور دیا۔

مولانا قاضی عبدالحق صاحب (قاضی شریعت، امارتِ شرعیہ) نے شرعی نظام اور اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کی اہمیت بیان کی۔اس کے علاوہ مولانا معین الحق (آداپور)، مولانا اظہار صاحب (لالہ چھپرہ)، مولانا اکرام (ڈھاکہ)، مجیب الرحمن، حافظ سعید، مفتی اسلم (آمدوئی)، مولانا ملازم، مولانا رضوان (آداپور)نے بھی خطاب کیا۔اجلاس کے اختتام پرجب شرکاءِ اجلاس نے بڑی تعداد میں مفکر ملت، امیر شریعت بہار، اڈیشہ و جھارکھنڈ حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی صاحب مدظلہ العالی کے دست مبارک پر سمع و طاعت کی بیعت کی۔

Comments are closed.