قومی یکجہتی کےنام پرمشرکانہ اعمال میں شرکت
مفتی احمد نادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
اس ملک میں غیرمسلم برادران وطن کاہروہ کام کانوڑ یاترا۔یاان کے دیگرتیہوار جن میں وہ خوشی اور تیہوارکےنام پرمشرکانہ اعمال انجام دیتےہیں۔یاان کے خیال کے مطابق ان کے معبود کی ان میں تعظیم ہوتی ہے۔ قومی یکجہتی کےنام پرایک مسلمان یاکسی مسلم تنظیم کااس میں شریک ہونا۔یاان کی آؤ بھگت کرنا۔ یاان کی خوشنودی حاصل کرنےکےلئیے ان پرپھول برسانا۔یاراستوں میں ان کا پھول مالےسے استقبال کرناوغیرہ ۔کیاشرعی نقطہ نظرسے اس کی اجازت ہے؟ اورانھیں ایساکرناچاہئیے؟۔اوروہ بھی ان حالات میں جبکہ مسلم قوم سے حددرجہ بغض وعناد رکھتے ہیں اور ان کا یہ احساس ہوتاہے کہ مسلمان ہمارے ڈراورخوف سے ایساکرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے اس رویئے کو انسان دوستی اوراخلاقی رواداری کے پہلوسے نہیں دیکھتے۔
شریعت کا اصول یہ ہےکہ غیرمسلموں کے ہروہ کام جن میں غیراللہ کی تعظیم کاعنصرپنہاہو۔یامشرکانہ عمل ہو اسے کسی مسلمان ۔یاکسی مسلم تنظیم کاکرنا۔ خواہ بھائی چارے اورقومی یکجہتی کےنام پرہو۔یادوستی۔شوق اورمحبت میں ہو ۔یاتنظیمی مقاصد کوبہ روئے کارلانےکےلئیے ہو۔انفرادی طورپرہو۔یااجتماعی طورپر۔کسی بھی حال میں ایسا کرنا جائزنہیں ہے۔جیسے گنگا اشنان کرنا۔کانوڑ کےساتھ چلنا۔ان پرپھول برسانا۔ البتہ بھوک۔پیاس کے وقت انسانی جان کے احترام میں کھاناکھلانا۔پانی پلادینا۔کوئی حادثہ اورانجری کے وقت مدد کو آجانا ۔یہ انسانی ہمدردی ہے۔اس میں کوئی قباحت نہیں۔کیونکہ اس میں تعظیم مقصود نہیں ہے۔ بلکہ انسانی اخلاقیات کا تقاضہ ہے۔ حالانکہ یہ بھی فتنے سے خالی نہیں ہے۔کیونکہ فورا دھرم بھرشٹ ہونے کا الٹا ایسے موقعہ پر الزام لگاکرہمدردی کرنے والوں ہی کونقصان پہونچادیتے ہیں۔ اس لئےاحتیاط کاتقاضہ ہےکہ اس سےبھی بچاجائے۔{اضطراری حالت جس میں جان ومال اورعزت وآبروکوخطرہ لاحق ہو۔اس عدم جوازکےحکم سے مستثنی ہے}۔
بارہادیکھنے میں آتاہے کہ کانوڑ والوں کےاحترام میں لوگ نہ صرف یہ کہ پھول برساتےہیں۔بلکہ ان کے پاوں تک دھلتےہیں۔اسی دونوں ہاتھ جوڑکر نمشکار اورپرنام کرتےہیں۔یہ اکثرمجلسوں میں بھی نظرآتاہے۔اوراب تو یہ خبریں بھی آرہی ہیں کہ مسلم لڑکےبھی اپنے کاندھوں پر کانوڑلیکر چل رہےہیں۔اوریہ سب سماجی خدمت اورقومی یکجہتی کے نام پرہوتاہے۔جوانسانیت نوازی اورقومی یکجہتی سے اوپر غیراسلامی روایات کی پیروی اورمعبودان باطل کی تعظیم تک پہونچ جاتاہے۔جواہل توحیدکےلئے قطعی روانہیں ہے۔ہمیں ملک میں بھائی چارے کے قیام کےلئے مذھبی حدود اورقومی وملکی تقاضے دونوں کوسامنے رکھنےچاہئیں۔بہ حیثیت انسان ہم قومی اوبھارے چارے کے اصولوں کوبھی نہیں چھوڑسکتے۔اوربہ حیثیت مسلمان اپنے دین اورمذھب کوبھی پامال نہیں کرسکتے۔یہ بہت تشویش کی بات ہے کہ اس طرح قومی یکجہتی کے راستےارتداد ہماری نئی نسل میں داخل ہورہاہے۔اللہ تعالی ہمارے بچوں کے دین وایمان۔عزت وآبرو اورجان ومال کی حفاظت فرمائیے۔
Comments are closed.