کیرانہ کی رکن پارلیمنٹ اقراء حسن: تعلیم، ہم آہنگی اور خدمت کی نئی مثال ہے

 

رکن پارلیمنٹ پر کی گئی بدزبانی قابلِ مذمت، حکومت سخت کارروائی کرے

 

 

محمد آصف قریشی بڈھانوی

 

ملک کے جمہوری نظام اور خواتین کی عزت و وقار کو ٹھیس پہنچانے والا ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے۔ کیرانہ لوک سبھا حلقہ سے رکن پارلیمنٹ اقراء حسن کے خلاف کی گئی ناشائستہ اور غیر مہذب زبان نہ صرف ایک عوامی نمائندے کی توہین ہے بلکہ یہ ملک کی تمام خواتین کی عزت پر براہ راست حملہ ہے۔

سیاسی مخالفت کی آڑ میں جس طرح ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کو نشانہ بنایا گیا ہے، وہ ہندوستان جیسے آئینی جمہوری ملک میں کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہو سکتا۔ جمہوریت میں اختلاف کی گنجائش ہمیشہ ہوتی ہے، لیکن کسی کے خلاف اس قسم کی زبان، خاص طور پر کسی خاتون رہنما کے لیے، ہمارے سماج کی گرتی ہوئی سیاسی اخلاقیات کی علامت ہے۔

اقراء حسن ایک تعلیم یافتہ، فعال اور عوامی مسائل سے جڑی ہوئی رکن پارلیمنٹ ہیں، جو اپنے حلقہ اور ملک کے مفاد میں مسلسل کام کر رہی ہیں۔ ان کے خلاف کی گئی بدزبانی یہ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ عناصر فرقہ واریت کو ہوا دے کر اپنی سیاسی روٹیاں سینکنے اور سستی شہرت حاصل کرنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، جو سماج کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ ایسے ذہن رکھنے والے افراد کے خلاف سماج کے لوگوں کو آگے آ کر جمہوری طریقہ سے احتجاج کرنا چاہیے۔ ہم اس گندی اور بدنیتی پر مبنی زبان کی سخت مذمت کرتے ہیں اور متعلقہ افراد سے فوری معافی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی ہم انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کر سخت قانونی کارروائی کرے، تاکہ آئندہ کسی بھی عوامی نمائندے، خاص طور پر خواتین لیڈران کو اس طرح کی توہین آمیز صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سیاست میں زبان کی تہذیب کو برقرار رکھیں اور خواتین کی عزت و احترام کی حفاظت کریں۔ اقراء حسن کے خلاف کی گئی بدزبانی نہ صرف ان کی ذاتی توہین ہے بلکہ یہ پورے ملک کی خواتین کی خودداری کے خلاف ہے۔

اقراء چودھری: تعلیم، شعور اور خدمت کی پیکر

ان دنوں ملک بھر میں کیرانہ سے رکن پارلیمنٹ اقراء چودھری کے ساتھ سہارنپور میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ADM) کے ذریعہ کیے گئے بدسلوکی پر زبردست غصہ پایا جا رہا ہے۔ ریاست بھر کے قائدین اقراء چودھری کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔

آئیے ہم اقراء چودھری کو جانیں اور ان کی سیاسی اور سماجی خدمات کو سمجھیں۔

اتر پردیش کا کیرانہ حلقہ، جو کبھی سماجی تناؤ اور سیاسی کشمکش کے لیے جانا جاتا تھا، آج ایک نئی پہچان بنا رہا ہے۔ اس تبدیلی کی محرک ہیں سماج وادی پارٹی کی نوجوان رکن پارلیمنٹ اقراء چودھری، جنہوں نے اپنی تعلیم، حساس قیادت اور عوامی خدمت کے جذبے سے نہ صرف کیرانہ کو نئی سمت دی ہے، بلکہ ہندوستانی سیاست میں ایک مثالی شخصیت کے طور پر ابھری ہیں۔

تعلیم: قیادت کی مضبوط بنیاد

26 اگست 1994 کو پیدا ہونے والی اقراء حسن چودھری ایک معروف سیاسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے دادا مرحوم اختر حسن، والد مرحوم چودھری منور حسن، اور والدہ بیگم تبسم حسن سبھی رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ اور بھائی ناہید حسن لگاتار تیسرے ٹرم سے رکن اسمبلی ہے۔ لیکن اقراء حسن چودھری نے اپنی شناخت صرف اس وراثت کی بنیاد پر نہیں بنائی، بلکہ ان کی تعلیمی کامیابیاں اور فکری مثبت نظری نے انہیں ایک ممتاز رہنما کے طور پر کھڑا کیا ہے۔

اقراء حسن چودھری نے دہلی یونیورسٹی کے لیڈی شری رام کالج سے گریجویشن کیا، جو ملک کے ممتاز تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے۔ اس کے بعد انہوں نے یونیورسٹی آف لندن (SOAS) سے بین الاقوامی قانون اور سیاست میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ ان کی یہ تعلیمی پس منظر ان کی تقریروں، پارلیمانی مباحثوں، اور پالیسی نظریات میں نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔

وہ تعلیم کو صرف ذاتی ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھتیں، بلکہ اسے سماجی اصلاح اور شمولیتی ترقی کی بنیاد مانتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ میں تعلیم کے فروغ کو اولین ترجیح دیتی ہیں، خاص طور پر خواتین اور پسماندہ طبقات کے لیے۔ کیرانہ میں خواتین ڈگری کالج کے قیام اور اقلیت و دلت طلبہ کے لیے تکنیکی تعلیمی اداروں کی مانگ ان کی سوچ کا عملی اظہار ہے۔

عوامی حمایت اور تاریخی کامیابی

2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اقراء حسن چودھری نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار پردیپ چودھری کو تقریباً 69,000 ووٹوں کے فرق سے شکست دی۔ یہ جیت محض ایک سیاسی کامیابی نہیں تھی بلکہ عوام سے ان کے گہرے تعلقات، ان کی سادگی، اور ہر طبقہ کے ساتھ مکالمہ کرنے کی صلاحیت کی کامیابی تھی۔

ان کے انتخابی مہم میں انہوں نے عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کی عملی یقین دہانی پر زور دیا۔ کیرانہ، گنگوہ، نکوڑ، تھانہ بھون، اور شاملی جیسے علاقوں میں انہوں نے پیدل سفر کر کے گاؤں گاؤں عوام سے ملاقات کی، اور ان کے مسائل سن کر ان کے حل کے لیے منصوبہ بند کام کیا۔ ان کا ہر طبقے سے جڑ کر بات کرنا انہیں سب کا محبوب لیڈر بناتا ہے۔

پارلیمنٹ میں باوقار اور مؤثر موجودگی

رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد اقراءحسن چودھری نے پارلیمنٹ میں اپنی متحرک اور حق گو موجودگی سے سب کا دھیان اپنی طرف مبذول کیا ہے۔ وہ اپنے حلقہ کے مسائل ہی نہیں بلکہ قومی مسائل پر بھی بھرپور آواز اٹھاتی ہیں۔

انہوں نے وقف بل پر اپنے مضبوط مؤقف کے ساتھ بنگلہ دیش میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم کو بھی پارلیمنٹ میں اٹھایا۔ شاملی پریاگ راج اور شاملی کٹرا کے لیے براہ راست ریل سروس کی مانگ،کرتے ہوئے اور دہلی شاملی سہارنپور ریلوے لائن کی ڈبلنگ، کیرانہ میں خواتین ڈگری کالج، صحت مراکز کا قیام اور انفرااسٹرکچر کی ترقی جیسے مدعوں پر ان کی کوششیں قابلِ تعریف ہیں۔

 

اقراء حسن چودھری: بین المذاہب ہم آہنگی کی علامت

حال ہی میں کانوڑ یاترا کے دوران ان کی شراکت نے ملک بھر میں سرخیاں بٹوری ہیں۔ انہوں نےکانوڑیوں کی خدمت کی، پانی کھانا تقسیم کیا، اور سیوا کیمپوں میں شامل ہوئیں۔ ان کا بیان “انسانیت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، خدمت سب سے بڑا دھرم ہے” سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوا اور انہیں سماجی ہم آہنگی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا۔

 

خواتین کی عزت اور جمہوریت کی محافظ

اقراءحسن چودھری نے سہارنپور میں ADM کے ذریعہ کی گئی بدسلوکی پر جس طرح آواز بلند کی، اس سے ان کی جرأت اور عوامی نمائندگی کا جذبہ واضح ہوتا ہے۔ ان کا بیان “یہ صرف ایک خاتون رکن پارلیمنٹ کی توہین نہیں بلکہ جمہوریت اور عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش ہے” آج کے سیاسی ماحول میں حق گوئی اور انصاف کی ایک مثال ہے۔

 

عوام سے مسلسل رابطہ

کئی مرتبہ دیکھا گیا ہے کہ رکن پارلیمنٹ بننے کے بعد نمائندے عوام سے دور ہو جاتے ہیں، لیکن اقراءحسن چودھری ہر ہفتے اپنے حلقہ میں موجود رہتی ہیں، مسائل سنتی ہیں اور حل کرواتی ہیں۔ وہ ایک عوامی خادم کی طرح میدان میں کام کرتی ہیں۔

 

علاقائی رہنماؤں کا اعتماد

ان کی سیاسی حمایت اس وقت اور مضبوط ہوئی جب مظفر نگر سے ایم پی ہرندر ملک اور بھارتیہ کسان یونین کے ترجمان راکیش ٹکیت نے ان کی قیادت پر بھروسہ ظاہر کیا اور مہاپنچایت بلانے کا اعلان کیا۔ یہ حمایت ظاہر کرتی ہے کہ وہ تمام طبقات کی نمائندگی کرتی ہیں۔

 

کیرانہ کی زمین نے ایک ایسی بیٹی کو پارلیمنٹ میں بھیجا ہے جو نہ صرف اپنے حلقہ کا فخر ہے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔ اقراء چودھری وہ امید ہیں جو سیاست کو تفرقے سے نکال کر اتحاد اور خدمت کی طرف لے جا رہی ہیں۔

Comments are closed.